کچرا گورننس

دنیا بھر میں بلدیاتی حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے کچرا اٹھائیں، امن و امان قائم رکھیں، پانی بجلی گیس کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں۔ شہریوں کے لیے پارکس، کھیل اور تفریح کی سہولتیں تعمیر کریں، اپنے علاقوں میں ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم کی ذمے داری قبول کریں۔ اس نظام کو چلانے کے لیے مقامی ٹیکس و محصولات لگائیں اور یوں مدت پوری کرنے کے اپنی کارکردگی سمیت پھر سے عوام کی عدالت میں جائیں۔

لیکن ضروری تو نہیں کہ جو کچھ باقی دنیا میں ہو وہ صوبہ سندھ میں بھی ہو۔ یہاں دیگر صوبوں کی طرح گزشتہ ہفتے بلدیاتی انتخابی عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا مگر اب منتخب بلدیاتی نمایندوں کو اگلے پانچ برس تک فرصت ہی فرصت ہے۔ صوبائی حکومت کو خدمتِ عوام اس قدر عزیز ہے کہ وہ اس مقدس مشن میں دوئی برداشت نہیں کر سکتی۔

لہذا حکومتِ سندھ نے وہ بوجھ بھی خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جسے اٹھانے کے لیے باقی دنیا میں بلدیاتی ڈھانچہ تخلیق کیا جاتا ہے۔ یعنی شہروں اور قصبوں سے کچرا اٹھانے کی زحمت کسی بلدیہ کو نہیں دی جائے گی بلکہ دو ہزار چودہ میں تخلیق کردہ ’’سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ‘‘ یہ کام کرے گا۔

اللہ اللہ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار پچاسی سالہ وزیرِ اعلی قائم علی شاہ نے اس کچرا صفائی بورڈ کا سربراہ بننا منظور فرمایا ہے۔ انھیں چونکہ دیگر کام بھی دیکھنے ہوں گے لہٰذا چیف سیکریٹری سندھ ان کی جگہ بورڈ کے معاملات عملاً دیکھیں گے کیونکہ چیف سیکریٹری دیگر معاملات دیکھنے کے مجاز نہیں۔ مگر ان کی مدد ایک مینجنگ ڈائریکٹر اور چار ایگزیکٹو ڈائریکٹر کریں گے ( یہ واضح نہیں کہ ان کی تنخواہیں ہمیں دینی پڑیں گی یا کچرے کی ری سائیکلنگ سے ہونے والی آمدنی سے ادا کی جائیں گی)۔

بورڈ کے دیگر اعزازی ارکان بربنائے عہدہ درجِ ذیل شخصیات ہیں۔ ایڈشنل چیف سیکریٹری (ڈویلپمنٹ)، لوکل گورنمنٹ، صنعت، صحت، فنانس،کچی آبادی اور ماحولیات کے صوبائی سیکریٹری، ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر، ڈائریکٹر آف ملٹری لینڈز اینڈ گورنمنٹ، ایڈمنسٹریٹر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کراچی کا مئیر بھی۔

یعنی اس کچرا بورڈ میں اتنی ساری بلدیات کی نمایندگی صرف ایک مئیر کرے گا۔ مگر یہ بورڈ تن ِ تنہا صوبے کی صفائی نہیں کر سکتا چنانچہ اس کی مدد کے لیے ہزاروں سینٹری ورکرز، کچرا اٹھانے والی تمام گاڑیاں اور مشینری بھی حاضر ہو گی۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ایکٹ میں صاف صاف چیتاونی دی گئی ہے کہ سندھ کی حدود میں پیدا ہونے والا تمام صنعتی،ماحولیاتی، اسپتالی اور گھریلو کچرا حکومتِ سندھ کی ملکیت ہے۔ اگر کسی بلدیہ نے ہاتھ تک لگایا تو اچھا نہ ہو گا۔ بلدیات اسے بہ حسرت دیکھ سکتی ہیں چھو نہیں سکتیں۔

اس وقت سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں روزانہ بارہ ہزار ٹن صنعتی و گھریلو فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس میں سے نوے فیصد ری سائیکل ہو سکتا ہے۔ شہر کا کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے پانچ پانچ سو ایکڑ کے دو قطعاتِ اراضی شہر سے باہر مختص کیے گئے ہیں۔ وہاں روزانہ دو ہزار ٹن کچرا اگلے پانچ برس تک جمع کرنے کی برداشت ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومتی مشینری خدانخواستہ تندہی سے کام کرے تو بھی روزانہ چالیس فیصد سے زائد کچرا نہیں اٹھا سکتی۔ باقی ساٹھ فیصد زمین اور فضا کا حصہ بن جاتا ہے یا پھر افغان بچے اس میں سے اپنی اپنی ضرورت کا شیشہ، دھاتیں، پلاسٹک، ربڑ کی اشیا، کاغذ وغیرہ چن کے بیچتے ہیں اور شام کی روٹی کا انتظام کر لیتے ہیں۔

اس پر مزید قیامت صنعتی کارخانوں اور انسانی و حیوانی فضلے سے بھرپور ساڑھے تین سو ملین گیلن پانی ڈھا رہا ہے جو خام شکل میں بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے سمندر میں جا رہا ہے اور کراچی کے اردگرد کے سمندر کو ایک گندے جوہڑ میں تبدیل کر رہا ہے۔ سینٹری پائپوں کی کہنہ سالی کے سبب بہت سا گندہ پانی پینے کے صاف پانی کی لائنوں میں رس رہا ہے لہذا پیٹ کے امراض اہلیانِ کراچی کی زندگی کا لازمی بونس ہیں۔ جو کچرا اٹھایا بھی جاتا ہے وہ کھلے ٹرکوں میں پہاڑ کی صورت شہر کی اہم شاہراہوں سے ایسے گزرتا ہے گویا کچرا نہ ہو ٹرک پر لدے نئے دورمار میزائل کی نمائش ہو۔ گنجائش سے زیادہ بھرا یہ کچرا اور فضلہ ٹرک سے ٹکڑا ٹکڑا گرتا رہتا ہے اور اس کی بو ایک لکیر کی شکل میں سب راہ گیروں کو بتاتی جاتی ہے کہ ’’کدھر سے آیا کدھر گیا وہ‘‘ ۔۔

ظاہر ہے سندھ سالڈ انویسٹمنٹ بورڈ کے معزز ارکان بھی انھی شاہراہوں سے گزرتے ہیں اور وہ بھی بچشم یہ نظارہ دیکھتے ہی ہوں گے لیکن انھیں عام شہریوں کے برعکس یہ سہولت حاصل ہے کہ ٹھنڈی گاڑیوں کے شیشے بند ہوتے ہیں اور ہٹو بچو کے جلوس میں کچرے کی بو سے زیادہ تیز رفتاری سے گزر جاتے ہیں۔

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں لگ بھگ چار ہزار ٹن کچرا اور شہید بے نظیر آباد اور لاڑکانہ میں پانچ سو سے ہزار ٹن صنعتی، زرعی و گھریلو کچرا روزانہ پیدا ہوتا ہے۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے پہلے مرحلے میں کراچی، لاڑکانہ اور بے نظیر آباد کے کچرے کو صوبائی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں حیدرآباد سمیت دیگر قصبات کا کچرا اپنایا جائے گا۔

پرویز مشرف کے سن دو ہزار ایک کے بلدیاتی نظام میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بلدیاتی اداروں کی ذمے داری تھی۔ دو ہزار آٹھ میں حکومتِ سندھ نے ایک چینی کمپنی ’’شنگھائی شین گونگ‘‘ کو کراچی کے اٹھارہ ٹاؤنز سے صنعتی و گھریلو کچرا جمع کرنے اور ٹھکانے لگانے کا ٹھیکہ دیا۔ چینی کمپنی نے اس بابت دو سو تیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا۔ معاہدے کے مطابق چینی کمپنی کو بیس ڈالر فی ٹن کچرا صفائی فیس دیا جانا طے پایا۔

جو بھی کچرا ری سائکل ہوتا اس میں سے پندرہ فیصد منافع صوبائی حکومت کو ملنا تھا۔ مگر جب کمپنی نے تمام سینٹری ورکرز، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا ڈھانچہ اور دستیاب مشینری مانگی تو صوبائی حکومت نے کہا کہ ہم کچھ بھی نہیں دیں گے۔ تم ورکرز، مشینری، سرمایہ سب خود لاؤ۔ ہم تو بس بیس ڈالر فی ٹن ہی ادا کرنے کے پابند ہیں۔ قصہ مختصر یہ چینی کمپنی معاہدے کے چھ ماہ بعد ہی پتلی گلی سے نکل لی اور کچرا منہ دیکھتا رہ گیا۔

شائد اسی پس منظر میں اب حکومتِ سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ غیروں اور نہ اپنوں کسی پر اعتماد نہیں کرنا۔ اپنا کچرا خود اٹھانا ہے۔ اس کام کو یقینی بنانے کے لیے سب سے پہلے تو منتخب بلدیاتی اداروں کو رسیوں سے باندھا گیا۔ ان کے بجٹ کی ایک ایک پائی صوبائی خزانے سے آئے گی۔ یعنی انھیں ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں۔ صحت و صفائی کی شہری سہولتوں کا ماہانہ ٹیکس بھی صوبائی خزانے میں جائے گا۔ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن کرے گا کہ کہیں بلدیاتی ادارے ’’صوبائی معاملات‘‘ میں کتر بیونت تو نہیں کر رہے۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو قائم ہوئے دو برس ہونے کو آئے۔ اس دوران اس کے تین اجلاس ہوئے اور چوتھے کی تیاری جاری ہے۔ جیسے ہی بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا بورڈ نے اخبارات میں ٹینڈر نوٹس شایع کروایا۔ اس کے مطابق قومی و بین الاقوامی کمپنیوں سے سات اکتوبر دو ہزار پندرہ تک سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے بولی مانگی گئی۔ جو کمپنی کامیاب ہو گی اسے کوڑا کرکٹ جمع کر کے ٹھکانے لگانا ہو گا اور بڑی شاہراہیں بھی دھونا پڑیں گی۔ ظاہر ہے کہ بلدیاتی نظام اس کام کے لیے قطعاً موزوں نہیں۔

ویسے بھی اٹھارویں آئینی ترمیم میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ جو اختیارات مرکز صوبوں کو منتقل کرے ان میں سے کچھ اختیارات صوبہ بلدیات کو منتقل کرنے کا بھی پابند ہو گا۔ یوں بھی اس وقت صوبے کے داخلی معاملات کو فوجی و سویلین ایپکس کمیٹی دیکھ رہی ہے۔ کرپشن اور گڈ گورننس کے مسائل رینجرز، نیب اور ایف آئی نے اپنے سر منڈھ لیے ہیں۔ ڈویلپمنٹ فنڈز کا حساب کتاب وزیرِ اعلی کے دفتر کے پیچھے والے کمرے میں تندہی سے دیکھا جاتا ہے۔ اب اگر کچرا اٹھانے کے اختیارات بھی بلدیاتی ادارے لے اڑے تو صوبائی حکومت کے پاس ’’ٹیم پاسی‘‘ کے لیے کیا بچے گا۔

تو اب مجھ جیسے شہری کیا کریں؟ کراچی کے پیرس یا استنبول ہونے کا انتظار کریں یا پھر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے سربراہ قائم علی شاہ کو فون کریں کہ حضور ہمارے محلے میں پچھلے آٹھ برس سے کچرے جمع ہوتے ہوتے اب ایک سالڈ پہاڑی بن چکا ہے براہِ کرم اس کی کوہ پیمائی کیجیے یا ہٹانے کے لیے چار سینٹری ورکرز بھیج دیجیے۔ بلدیاتی کونسلر تو ہماری سنتا نہیں۔ اور سن بھی لے تو کیا اکھاڑ لے گا؟

بشکریہ ایکسپریس

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے