About the author

2 Comments

  1. 1

    Atif Rafi

    محترم جناب “دانشور” صاحب، بصد احترام عرض کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ہوسکتا ہے کہ فوج نے آپ کے ساتھ بہت زیادہ زیادتی کی ہو، ہوسکتا ہے کہ آپ کے سارے گلے شکوے درست ہوں مگر حضور والا اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ……

    آپ نے اپنی جنگ لڑنے کے لئے وقت کا انتخاب انتہائی غلط کیا ہے، آپ کو اپنی جنگ لڑنے کیلئے معصوم بچوں کی شہادت کو متنازع بناتے ہوۓ ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟ پتا نہیں یہ آپ کی معصومیت ہے یا کچھ اور لیکن اعتراض بھی کیا خوب ہے کہ آرمی کے اپنے بچے مرے تو انکو آپریشن کا خیال آیا…… اگر آپ کو اس سے پہلے والے واقعات کے بارے میں کسی نے نہیں بتایا تو بھائی ایسی بھونڈی توجیہ دینے سے پہلے کسی سے پوچھ ہی لیتے

    APS سے پہلے آرمی کی کتنی تنصیبات پے حملے ہوے اور کتنے فوجی ان میں شہید ہوے یہ google ہی کر لیتے….. اور پھر آپ بھی یہاں ہی تھے اور ہم بھی، اس حادثہ سے پہلے آپ کے اور میرے سمیت کتنے لوگ تھے جنہوں نے فیس بک پہ اپنی ڈی پی ہی تبدیل کی ہو؟ یہ اتنی چھوٹی سی بات آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ یہ سانح اتنا بڑا تھا کہ اسکا رد عمل بھی شدید ہی ہونا تھا

    آج مجھے آپ میں اور اس مولوی میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا جو ایسے واقعات کی تاویلیں بناتے پھرتے ہیں…. آپ بھی “اپنے مقصد” کی خاطر ویسی ہی گھٹیا اور بے شرمی سے بھرپور تاویلیں گھڑ رہے ہیں……

    Reply
  2. 2

    Atif Rafi

    جس دن باجوڑ مدرسے کے بچے شھید ھوئے تھے اس دن ان کے بارے میں لکھنے یا افسوس کا اظہار کرنے سے کس نے آپ کے قلم پکڑے یا ھاتھ باندھے ھیں ؟ آپ لکھیئے ھم بھی شیئر کریں گے ،،مگر دوسروں کے جنازے ،سوگ اور شادی میں فساد مچانا دینداروں کا وطیرہ ھے ، میت والے رنج و غم سے نڈھال ھوتے ھیں اور یہ میت پر مناظرہ کر رھے ھوتے ھیں کہ جنازے کے بعد دعا ھے یا نہیں اور دفن کے بعد تلاوت ھے یا نہیں ،، آپ افسوس کرنے کا طریقہ آج کے دن سیکھ لیجئے اور آنے والے شوال میں باجوڑ مدرسے کے بچوں کا سوگ اسی طرح منایئے ،، ھم آپ کے ساتھ ھیں اور فرمائشی مضمون بھی لکھ دیں گے ،

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ