السلام علیکم ، میں ہوں حامد میر

معروف اینکر اور سینر صحافی حامد میر ایک ماہ کی طویل رخصت کے بعد آج پیر کی شب سے پاکستان میں حالات حاضرہ کا مقبول ترین شو کیپیٹل ٹاک دوبارہ شروع کر رہے ہیں ۔

اپریل 2014 میں کراچی میں ہونے والے حملے کے بعد حامد میر دو ماہ سے زائد عرصے تک بستر پر رہے ۔ انہوں نے دو ماہ بعد اپنا پروگرام شروع کیا تاہم ان کی صحت مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی تھی ۔

حامد میر نے کئی بار شو سے رخصت لینی چاہی تاہم مصروفیات کے سبب وہ ایسا نہ کر سکے ۔ ایک ماہ قبل انہوں نے علاج کی غرض سے اپنی تمام مصروفیات ترک کیں اور علاج کے لئے لاؤس چلے گئے ۔

 

حامد میر کی بائیں ٹانگ میں گولی لگنے کی وجہ سے انہیں چلنے پھرنے اور بیٹھنے میں مسائل پیش آ رہے تھے ۔

ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کے بارے میں کئی طرح کے پروپیگنڈے کئے گئے ۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ پاکستان چھوڑ گئے ہیں ۔ ایک ویب سائٹ نے دعویٰ کیا کہ وہ اب جیو کے بجائے اور نئے ٹی وی چینل پر اپنا پروگرام شروع کر نے کی تیاریاں کر رہے ہیں ، یہ افواہ بھی اڑائی گئی کہ حامد میر اسلام آباد کے میئر بننے جا رہے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ ایک نئے ٹی وی چینل کو لانچ کروا رہے ہیں ، تاہم ایسا کچھ نہیں ہو ا اور ایک ماہ کی رخصت کے بعد حامد میر آج سے دوبارہ اپنا پروگرام شروع کر رہے ہیں ۔

پروگرام سے چھٹی کے دوران ایک روز ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا جس کی وجہ سے ایک نیا تنازعہ چھڑ گیا تاہم انہوں نے جلد ہی اسے بحال کرا لیا ۔ ٹویٹر پر 16 لاکھ لوگ انیں فالو کر رہے ہیں ۔

حامد میر پاکستان کے واحد اینکر ہیں جو گذشتہ پندرہ برس سے ایک ہی چینل پر ایک ہی وقت ہی انتہائی کامیاب حالات حاضرہ کا پروگرام کر رہے ہیں ۔ وہ اس حوالے سے بھی نمایاں ہیں کہ پندرہ برسوں میں حامد میر نے صرف دو بار چھٹی کی ۔ ایک بار جب وہ حملے میں شدید زخمی ہو کر اسپتال میں زیر علاج تھے اور دوسری بار علاج کے لئے انہوں نے چھٹی کی ۔

ان کی چھٹی کے بعد واپسی پر ان کی ٹیم کے پروڈیوسر تفسیر حسین ، مصباح الزمان اشعر، نازش ظفر ، راشدہ شعیب ، نبی بیگ یونس ، مہران خان اور کیمرا مین عبدالسلام سومرو نے ان کا استقبال کیا ۔

ان کی عدم موجودگی میں یہ پروگرام اسامہ غازی کر تے رہے جنہوں نے بول ٹی وی کی بندش کے بعد جیو نیو ز میں شمولیت اختیار کی تھی، اسامہ غازی اب جیو نیوز پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک مارننگ شو کی میزبانی کریں گے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے