About the author

عبیداللہ عابد

عبیداللہ عابد ایکسپریس میڈیا گروپ سے وابستہ سینئر صحافی ہیں۔ میگزین جرنلزم میں ان کا طویل پس منظر ہے۔ عالمی امورمیں خاص دلچسپی لیتے ہیں۔ سیاسی اور سماجی موضوعات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ آئی بی سی اردو پر ان کی تمام تحاریر دئیے گئے لنک پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں ۔ عبیداللہ عابد کی تمام تحاریر

One Comment

  1. 1

    Atif Rafi

    مصنف کا اصل اعتراض اس بات پہ ہے کہ غامدی صاحب اس بات کو نہیں مانتے کہ “اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے”…… کیا ہی اچھا ہوتا اگر حضرت قرآن کی وہ آیت پیش کردیتے جس میں الله نے یہ بات بتائی ہے. سارا جھگڑا ہی ختم ہوجاتا

    مولانا مودودی بہت محترم لیکن نا تو وہ کوئی نبی ہیں اور نا ہی انکی اتباع کسی پر فرض ہے…. قرآن میں ایسی کوئی بات کہیں بھی نہیں اور اگر ہے تو میرے ایک معصوم سے سوال کا جواب دینا پسند کریں گے؟

    میں اپنی گاڑی سڑک کے کس طرف چلاؤں؟ سبز بتی پی رکنا ہے یا لال پہ؟

    سوره کافرون کا شان نزول بھی جو بیان کیا ہے یہ اتنی گھٹیا بات ہے کہ اس پہ تبصرہ کرنا بھی میں مناسب نہیں سمجھتا،،،، کیا مصنف ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ (نعوز باللہ) صحابہ کرام کا ایمان کمزور تھا؟ صحابہ کی شان میں اس سے زیادہ گستاخی ممکن ہی نہیں

    باقی جو لغو الزام سیکولر ہونے کا لگایا ہے وہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ ایسی بات صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس نے یا تو کبھی غامدی صاحب کو پڑھا نہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر انتہائی بددیانتی سے انکے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کررہا ہے،،،،،، ویسے یہ کوئی نئی بات بھی نہیں، ہمارے مسلمان ہمیشہ سے ہر اچھے عالم کے ساتھ ایسا ہی کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ آئمہ کرام کو بھی نہیں چھوڑا

    آج کل غامدی صاحب کے بارے میں ایسی فضول اور بےتکی تنقید پڑھ کہ خوشی ہوتی ہے کہ غامدی صاحب کا شمار بھی اب ایسے علماء کے ساتھ ہورہا ہے

    غامدی صاحب نے حال ہی میں ایک مضمون “اسلام اور ریاست — ایک جوابی بیانیہ” کے عنوان سے لکھا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:

    “اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر فساد پیدا کر دیا جائے تو سیکولرازم کی تبلیغ نہیں، بلکہ مذہبی فکر کا ایک جوابی بیانیہ ہی صورت حال کی اصلاح کر سکتا ہے”

    جس بندے نے بھی یہ بات پڑھی یا سنی ہو، کم از کم وہ تو ایسی بات نہیں کرسکتا،،،، یا پھر اسکے پیچھے وجہ وہی ہے کہ کوئی معقول جواب تو ہے نہیں سو کردار کشی کا سہارا لیا جائے

    مکمل مضمون یہاں پہ پڑھ سکتے ہیں:

    http://www.javedahmadghamidi.com/ishraq/view/islam-aur-riasat-aik-jawabi-bayania

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ