عورت اور آٹھ مارچ کا فراڈ

عورت اِس دور میں بدحالی کا شکار ہے اور اِس پہ مُستزاد یہ کہ عورت کو اِسکا ادراک بھی نہیں ہے- عورتوں کا غیرت کے نام پر قتل، جِنسی استحصال، جسمانی تشدد اور عورتوں پہ تیزاب گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اِس صورتحال کے خلاف بااثر طور پر کسی قسم کی کوئی تحریک نظر نہیں آتی۔ رُجعت زدہ سیاسی قائدین اور مذہبی راہنما سماج کی جاہلانہ روایات کی برسرِعام اور خاموشی کیساتھ حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جِسکی بدولت عورتوں کے خلاف مکروہات کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے- لِبرل طبقے کی جانب سے ہونے والی کوششیں نہایت سطحی پیمانے کی ہیں اور نتیجتاً ناکامی سے دوچار ہیں- لبرل طبقے کی غیرسنجیدہ اور غیرمنطقی کاوشیں عورتوں کو کبھی بھی آذادی سے ہمکنار نہیں کر پائیں گی- عورتوں کے استحصال کی حقیقی وجوہات کو سمجھے بغیر فقط جنسی بنیادوں پر خواتین کے رنج کا کوئی ازالہ نہیں کیا جا سکتا- اِس استحصال کی معاشی اساس سمجھے بغیر کوئی لائحہ عمل مرتب کرنا ناممکن ہے- اِس کیلئے ہمیں عورت کے استحصال کی اصل کہانی پڑھنی ہوگی-

انسانی سماج کا سفرجنگلوں سے ارتقاء پاکر آج کے تہذیب یافتہ سماج تک پہنچا ہے، سماج کو یہاں تک پہنچانے میں سب سے اہم کردار خواتین نے ادا کیا۔ اِس بات کا ثبوت سماج میں “کام کی تقسیم” سے حاصل ہوتا ہے- جہاں خواتین کو بچوں کی نگہداشت کے لئے گھر میں کام سونپے جاتے تھے اور مرد شکار کرنے کے لئے باہر کام کرتے تھے۔ اس حوالے سے خواتین کو ماں ہونے کی اور خیال رکھنے کی صلاحیت کی بنا پر قبیلے کی سردار مختص کیا جاتا تھا اور پھر جو کام خواتین گھروں میں کرتی تھیں وہ تمام اہم کام تھے جنہوں نے اُس جنگلی سماج کو تہذیب یافتہ سماج بنانے میں بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ زراعت کی دریافت، جس میں خواتین نے ایک عمل کو دیکھا کہ ایک پودا جہاں اپنے بیج گراتا ہے وہاں دوبارہ نیا پودا اُگ آتا ہے، انسانی تاریخ کی اہم دریافت تھی جس نے انسان کو شکار کے عمل سے نجات دلائی اور خوراک کے لئے زراعت کا استعمال کیا جانے لگا۔ زراعت کی دریافت کا سہرا عورت کے سر ہے- بے شمار فطری عوامل خواتین نے گھر پر رہتے ہوئے دریافت کئے جِس میں موسم سے لڑنے کے لئے گھروں کی تعمیر کے ہنر سے لیکر کھانا پکانے کیلئے آگ کا استعمال، جبکہ دوسرے تمام جانور آگ سے خوفزدہ ہوتے ہیں، ایسے میں عورت نے اِسی آگ پر نہ صرف قابو پایا بلکہ اِسے استعمال میں لائی اور اس سے توانائی حاصل کی۔ آگ سے حاصل ہونے والی توانائی کے استعمال کا فن کی دریافت کا سہرا بھی عورت کے سر پہ ہے۔ علاج کی دریافت و ارتقاء سے لیکر زہر کی شناخت تک اور مختلف جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے کا عمل بھی خواتین نے دریافت کیا۔ یہ تمام وہ عمل تھے جنہوں نے انسان کو جانوروں سے مختلف کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ ابتدائی انسانی سماج تھا جس میں خواتین کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ لیکن پھر مسئلہ کب شروع ہوا؟

ابتدائی سماج میں ایسے کوئی زرائع پیداوار نہیں تھے کہ جِس کی ملکیت کے لیے اُس وقت کوئی بحث و گفتگو یا پھر اقتدار کی جنگ کی جاتی۔ جو زرائع موجود تھے اُنکو استعمال کرنے کا حق سبھی افراد رکھتے تھے، اور اُس ابتدائی انسانی سماج کی عمر کئی ہزار سالوں پر مشتمل ہے جب انسان قبائل کی شکل میں رہتا تھا۔ لیکن پھر زائد پیداوار اور اُس کی ملکیت اور اُس کی اگلی نسل کو منتقلی وہ سوال تھے جنہوں نے ایک طبقاتی سماج کو جنم دیا اور زائد پیداوار کے مالک، پھر ملکیت کی رکھوالی کے لئے ریاست اور اختیارات کی منتقلی کے لئے موجودہ خاندانی نظام تشکیل پایا- ِاسی نقطے سے ہمیں خواتین کے کردار کی اہمیت ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ جہاں اِس زائد پیداوار کی منتقلی کے لئے مرد کو مختص کیا جانا شروع ہوتا ہے، اس لئے ایک خاندان کا سربراہ مرد بن جاتا ہے اور اس کی کوئی فطری وجہ نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف یہی اہمیت ہوتی ہے کہ اس سے خاندان کی دولت اگلی نسل کو منتقل ہونی ہوتی ہے۔ اور پھر اس طبقاتی سماج کے آغاز سے لیکر آج تک ہمیں خواتین کی سماج میں کم تر حیثیت نظر آتی ہے اور ان کی یہ کم تر حیثیت دولت کی منتقلی کے عمل میں کم تر حیثیت کی وجہ سے ہے۔

حکمران تاریخ اور نصاب میں انسانی ترقی، سائنس، فلسفہ، آرٹ، سیاست اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں کارنامے سر انجام دینے والوں کی فہرست میں کہیں کسی خاتون کا نام نہیں آتا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں خواتین کا کردار بس یہی بتایا جاتا ہے کہ وہ سماج کا مظلوم ترین طبقہ ہیں کیونکہ یہ’’فطری‘‘ طور پر کمزور اور کمتر شعور کی حامل ہیں-

میڈیا کے متن بھی عورتوں سے متعلق غلامانہ تصورات سماج پر تھونپتے ہیں۔ اس جنسی غلامی کو ملا ’’اچھے کردار‘‘ کا معیار قرار دیتے ہوئے مزید پروان چڑھاتے ہیں۔ اس سب کا اصل مقصد استحصال پر مبنی نظام کی ضروریات کے مطابق عورتوں کے سماجی کردار کو برقرار رکھنا ہے۔ مردانہ تعصب و تسلط پر مبنی جھوٹی سوچ اور رویے موجودہ سماج کے سماجی و ثقافتی رجحانات کا حصہ بن چکے ہیں۔ عورتوں کو کام کرنے کی جگہ، معاشرے اور خاندان میں نہ صرف متعصبانہ رویوں کانشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ جنسی و معاشی استحصال سے آزادی کے لئے ہمیں طبقے اور جنس کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہو گا۔

لبرل سوچ کا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کو زر اور زمین کی طرح تجارتی مال اور کاروباری تشہیر کے ایک ذریعے سے زیادہ خیال نہیں کرتی۔ اگر مذہبی سوچ عورت کو ذاتی ملکیت اور غلام تصور کرتے ہوئے قید و بند کرتی ہے تو آزاد خیال اشرافیہ اِسے کاروبار اور منافعوں کی بڑھوتری کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اگر رجعتی ذہنیت رکھنے والوں کا عورتوں پر ظلم و جبر غیر انسانی فعل اور غلامی ہے تو عورتوں کے جسموں کو اشیاء بیچنے اور منافع کمانے کے لئے استعمال کرنا بھی ان کی نجات نہیں ہے۔ یہ رویے جو سماجی نفسیات میں گہری سرایت کر چکے ہیں دراصل اُس سماجی نظام کی پیداوار ہیں جو انہیں پروان چڑھاتا ہے۔ یہ رویے تب تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک اُن مادی حالات اور بنیادوں کا خاتمہ نہ کیا جائے جن پر یہ سماجی و اقتصادی نظام کھڑا ہے۔ کامریڈ لینن نے پراودا میں ایک بار لکھا تھا کہ:

“موجودہ سماج میں غربت اور جبر کی بہت سی صورتیں پہلی نظر میں پوشیدہ رہتی ہیں۔ انتہائی اچھے عہد میں بھی پسماندہ علاقوں میں رہنے والے غریبوں، دستکاروں، مزدوروں اور ملازمین کے بکھرے ہوئے خاندان انتہائی مشکل حالات میں گزارہ کرتے ہیں اور دو وقت کی روٹی بمشکل پوری کرتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کی لاکھوں عورتیں گھریلو غلاموں کی سی زندگی گزارتی ہیں۔ اپنے خاندان والوں کی روٹی اور کپڑا دینے کے لئے یہ خواتین ہر چیز پر ایک ایک پائی بچت کرتی ہیں۔ تاہم اپنے کام کاج اور مشقت میں وہ بچت نہیں کر سکتیں۔ یہی عورتیں سرمایہ داروں کے لئے شرم ناک حد تک کم اجرت پر کام کرتی ہیں تاکہ اپنے اور اپنے خاندان کے لئے روٹی کے چند مزید ٹکڑے کما سکیں‘‘۔

گھریلو غلامی کا جال جس نے آج کی عورت کو جکڑ رکھا ہے تب ہی ٹوٹ سکتا ہے جب ذرائع پیداوار پر ملکیت کے رشتے بدلے جائیں۔ گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کا تعلق تلخ معاشی حالات سے ہے لہٰذا قلت اور بے لگام مانگ پر مبنی سماج میں اس کا خاتمہ ناممکن ہے۔ اسی طرح فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کی اجرت ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی مردوں سے کم ہے۔ اُجرتی غلامی سے جسم فروشی تک لے جانے والا طبقاتی نظام عورتوں کا اصل مسئلہ ہے جہاں ان کا بڑے پیمانے پر استحصال کیا جاتا ہے تاکہ اوپر بیٹھی ہوئی کچھ بڑی جونکوں کو چوسنے کے لئے زیادہ خون میسر آ سکے۔ عورتوں کے استحصال کو جاری رکھنے کے لئے معاشرے پر جھوٹی اقدار اور اخلاقیات مسلط کی جاتی ہیں جو اس نظام کی ضرورت بھی ہے۔ خاندان پر مردانہ تسلط بھی اِسی نظام کی ضرورت ہے۔ اِس نظام کا خاتمہ محنت کش مرد و زن متحد ہو کر ایک طبقاتی جدوجہد کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں۔ ہر وہ رجحان جو اِس طبقاتی جڑت کو توڑے، چاہے وہ تحریکِ نسواں، وطن پرستی یا مذہب ہو، رجعتی ہے اور غیرحقیقی ہے- عورت اگر اپنے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائے تو اس کی آواز کو دبانے کے لئے مذہب اور منافقت پر مبنی اخلاقیات کا سہارہ لیا جاتا ہے، مگر ایسا کب تک چلے گا؟ جب جبر اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو بغاوت سر اُٹھاتی ہے۔ اپنی آزادی کے لئے خواتین کو منظم جدوجہد کرنا ہو گی-

ہر سال کی طرح آٹھ مارچ آئے گا، سیمینار ہونگے، تقاریر ہونگی، محفلیں سجائی جائیں، جھوٹ بولے جائیں گے، دِن گزر جائے گا- کسی کونے میں بھی حق سچ کی بات نہیں ہو گی- کیونکہ اِس متروک نظام کے تحت عورت کی حقیقی آذادی کا حصول ناممکن ہے-

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے