About the author

4 Comments

  1. 1

    Syed Amin uddin ✌

    یہ مصطفیٰ کمال صاحب نہی بول رہے ہیں بلکہ غرور و تکبراور حد سے زیادہ خوش فہمی بول رہی ہے۔ صرف آپ ہی نہیں جناب کے غرور و تکبر کی وجہ سے اکثریت کے دلوں میں سے اتر چکے ہیں

    Reply
  2. 2

    akb

    Woh saamp ye sapolia he….Zara Bach ke

    Reply
  3. 3

    Asif iqbal

    کتے کے گلے میں مالک کے نام کا پٹا ہوتا ہے تو کوئی اسے پتھر نہیں لگاتا لکین جب پٹا نا ہو تو ہر کوئی اسے پتھر مارتا ہے. الله نے کمال کو کمال کی عزت دی تھی. مگر اب ذلّت کی باری ہے

    Reply
  4. 4

    Vishal Nain

    کمال کا زوال تو اسکی رونمائی کے پہلے روز ہی شروع ہوچکا تھا ۔ اس کے ایک خاتون کے ساتھ تہذیب سے گرے ہوئے رویئے نے اسی وقت اشارہ دے دیا تھا کہ وہ 19 مئی 2013 سے اب تک کس کی آغوش میں پرورش پاتا رہا۔ کتے کو گھی ہضم نہ ہونے والی مثال بھی اس پربھرپور طریقے سے صادق آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن عظمی الکریم جنہیں میں اب تک ایک سمجھدارصحافی سمجھتا رہا ہوں انہوں نے بھی ظاہر کردیا کہ وہ کسی مخصوص کمیپ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ مصطفے کمال کے آنے پر خوش تھیں اور یہ کہ ” ہوسکتا ہے کہ مصطفے کمال کی تربیت، میرا مطلب سیاسی تربیت ایسی رہی ہو” واضح کرتا ہے کہ وہ بین السطورکمال کی سابقہ سیاسی پارٹی کو خواتین کے ساتھ بدتہذیبی کا درس دینے کا ذمہ دار سمجھتی ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ عظمی نے اس وقت ایسا کوئی آرٹیکل تحریر کیا تھا جب تحریک انصاف کے جلسوں میں خاتون صحافی کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا کہ وہ آبدیدہ ہوگئی بلکہ خوفزدہ ہوکر رونے لگی۔ عظمی! گر اس وقت کی کوئی تحریر ہو تواس کا حوالہ دیں کہ آپ نے اس پارٹی کو اس بدتہذیبی کا ذمہ دار سمجھا ہو۔
    بدقسمتی سے پاکستان میں صحافی ہی اپنے پیشے کا دشمن بن چکا ہے، 98 فیصد صحافی نہ صرف سیاسی وابستگی رکھتے ہیں (جو کوئی غلط بات نہیں) بلکہ اس کا مظاہرہ وہ اپنے کالم، تحریروں اور پروگرامز میں بھی کرتے ہیں جوصحافت کے پیشہ ورانہ اصولوں سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ