About the author

2 Comments

  1. 1

    Sundas Rashid

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آپ کا پورا کا پورا کالم کسی بھی ٹھوس دلیل یا موثر تنقید سے خالی ہے۔ اول تو آپ غامدی صاحب کے مختلف مسائل پر دئیے گئے دلائل کو گڈ مڈ کر گئے۔ آپ کا تجزیہ انتہائی سطحی معلوم ہوتا ہے۔ کالم کےآغاز میں ہی آپ نے یہ اخذ کر لیا کہ غامدی صاحب نے توہین رسالت کے موضوع پر احادیث کو نظر انداز کر دیا جبکہ انہوں نے درجنوں پروگرامز میں توہین رسالت کے موضوع پر احادیث کے ذخیرے کا مکمل تجزیہ پیش کیا ہے۔ بہتر ہو تا کہ آپ اس موضوع پر ان کے دلائل کا مزید گہرائی سے مطالعہ کرتے اور اعتراض کی صورت میں اپنے دلائل پیش کرتے۔ اپنے کالم کے دوسرے پیراگراف میں آپ غامدی صاحب کے یہ کہنے کہ قوانین بنانے کیلئے دیگر قوموں کے تجربات بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کر لینے میں کہ صحابہ کے دور کی روایات کو سامنے رکھ کر کسی خاص جرم کیلئے خاص سزا نافذ کر دینے میں فرق کرنے سے قطعی قاصر دکھائی دیتے ہیں۔اگر کسی دوسری قوم کے تجربات کو سامنے رکھ کر کوئی قنانون بنایا جاتا ہے تو وہ من و عن نافذ نہیں کر دیا جاتا۔ انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں، اس کی موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں جانچ پرکھ ہوتی ہے، تب کہیں جا کر اس کا نفاذ عمل میں آتا ہے۔ اور یہی شرط صحابہ کے دور کی روایات سے راہنمائی لینے کیلئے بھی ملزوم ہے۔ انسانی جان کا معاملہ کوئی مذاق تو نہیں ہے۔ تیسرے پیرے میں تو آپ نے رہی سہی منطق اور دلیل کا گلہ ہی گھونٹ دیا جس کی وجہ یقینا آپ کی غامدی صاحب کی فکر، نظریات اورمکمل دلائل سے لا علمی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ان کی بات سے صرف اس لئے اختلاف ہے کہ وہ آپ کے خیالات کی تائید نہیں کرتی۔ اب اگر آپ کو یہی نہیں معلوم کہ عورت کا محرم یا ناحرم کے ساتھ سفر کرنا ان احکام میں شامل ہے جن کا اسلام فرد سے تقاضا کرتا ہے نا کہ رہاست سے تو اس میں غامدی صاحب کا کیا قصور۔ دوسرا ان کہ یہ کہنا کہ “قوانین معاشرہ بناتا ہے اور جس قانون کو معاشرہ قبول کر لے وہ قانون کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے ” غلظ یا صحیح کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ ایک فطری عمل کی تشریح ہے۔ یہ بھی آپ نے خود ہی اخد کر لیا کہ مغربی قوانین کا حوالہ دینے کا مطلب بنا سوچے سمجھے مغرب کی تقلید ہے اور اسلامی قوانین کی نفی۔ اپنے آخری پیراگراف میں آپ نے “ہوتا ہو گا، ہوتی ہو گی” کی تکرار جاری رکھتے ہوئے پھردلیل کو بالائے طاق رکھ دیا۔باقی رہی حرف حق کی بات تو دوسروں سے مختلف رائے رکھنا کب سے “حرف حق نہ کہنے” کے مترادف ہو گیا؟ اگرآپ نے محض ایک پروگرام ہر اکتفا کرنے کی بجائے ان کے دیگر پروگرامز جن میں انہوں نے توہین رسالت کے موضوع پر تفصیلاََ بات کی ہے ، پر بھی نظر ڈال لیتے تو یقینا “چاروں آئمہ میں سے کسی ایک کا نام نہ لینے والے” اعتراض کا جواب بھی پا لیتے۔ دوسروں کی نیت کا تعین نہ کیجئے بلکہ اہنی نظر کو وسعت دیجئے اور تضحیک آمیز طنز کی بجائے تعمیری تنقید کی خوبی پیدا کیجئے۔ اگر آپ کے اس مضمون میں دئیے گئے دلائل یا اعتراضات کا خلاصہ لکھا جائے تو وہ کچھ یوں ہو گا :
    ” مذکورہ شخصیت کیلئےطنزیہ طرز تخاطب ، ہو تا ہو گا ، ہوتی ہو گی ، عام سا اینکر اور برا لگا”۔

    Reply
    1. 1.1

      khanji741

      تحریر ان کے اس انٹرویو کے پس منظر میں لکھی گئی ہے جو انہوں نے عامر غوری کے ساتھ انہی دنوں کیا ہے.. توہین رسالت کا قانون سرے سے اسلام کے خلاف ہے، اسی جملے کو بنیاد بنا کر باقی کی چیزیں پیش کی گئی ہیں.. رہی بات کسی سے اختلاف کرنے والے نکتے کی تو عالیجاہ وہ بات آنجناب نے اس سوال کے جواب میں کہی کہ کیا چودہ سو سال میں کسی نے اسلام کی دستوری اور قانونی تشریح نہیں کی.. غامدی صاحب نے اس سوال کے جواب میں کسی کا نام نہیں لیا اور بات کا رخ موڑ گئے.. کیا اختلاف کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کو سرے سے مانا وی نہ جائے.؟ آپ نام لے دیتے اور پھر کہہ دیتے کہ فلاں فلاں نے تشریح کی ہے مگر مجھے اس سے اختلاف ہے.

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ