عالمی سطح پر پھانسیوں میں ’خطرناک اضافہ‘

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پھانسیاں دینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور سنہ 1989 کے بعد کسی بھی سال اتنے لوگوں کو پھانسی نہیں دی گئي جتنی کہ گذشتہ برس دی گئی ہے۔

تنظیم کی جانب سے پھانسی کی سزا کے بارے میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 میں کم از کم

1634 افراد کو پھانسی دی گئی جو کہ اس سے قبل والے سال کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق دنیا میں دی جانے والی پھانسیوں میں ایران، سعودی عرب اور پاکستان کا حصہ 89 فیصد ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں چین میں دی جانے والی پھانسیوں کا ذکر نہیں اور امکان ہے کہ مجموعی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو کیونکہ چین میں پھانسیوں کے ریکارڈ کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق چین اب بھی پھانسی دینے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ اندازے کے مطابق سنہ 2015 میں ہزاروں افراد کو موت کی سزا دی گئی جبکہ دیگر ہزاروں کو موت کی سزا سنائی گئی۔

انڈونیشیا کی سیٹی زینب کو سعودی عرب میں گذشتہ سال پھانسی دی گئی

تاہم ایمنسٹی کے مطابق ایسے اشارے ملے ہیں کہ چین میں حالیہ برسوں موت کی سزا دینے میں کمی آئی ہے تاہم سزائے موت کو خفیہ رکھنے کی وجہ سے یقینی طور پر اس کی تصدیق کرنا ناممکن ہے۔

تنظیم کے مطابق ایران میں گذشتہ برس 977 افراد کو پھانسی دی گئی اور ان میں سے اکثریت کو منشیات سے متعلق جرائم کے لیے پھانسی دی گئی جبکہ سنہ 2014 میں 743 افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔

پاکستان میں 326 افراد کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا اور یہ ملکی تاریخ میں ایک برس میں دی جانے والی سب سے زیادہ پھانسیاں ہیں۔

سعودی عرب میں سنہ 2014 کے مقابلے میں 2015 میں موت کی سزا دینے میں 76 فیصد اضافہ ہوا اور 158 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔

سعودی عرب میں زیادہ تر کے سر قلم کیے گئے جبکہ بعض کی سزا پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے عمل درآمد کیا گیا اور بعض اوقات لاشوں کو عوامی مقامات پر بھی دکھایا گيا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ دسمبر سنہ 2014 میں شہریوں کی پھانسیوں پر سے قانونی مہلت کے ہٹنے کے بعد سے پاکستان میں ’حکومت کی منظوری سے پھانسیاں دینے کا دور‘ چل پڑا ہے۔

پاکستان میں سرکاری منظوری سے پھانسی دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے

موت کی سزا دینے والا پانچوں بڑا ملک امریکہ ہے جہاں سنہ 2015 میں 28 افراد کو موت کی سزا دی گئی اور یہ تعداد 1991 کے بعد سب سے کم ہے۔

ایمنسٹی کے سیکریٹری جنرل سلیل شیٹی نے کہا ہے کہ ’پھانسیوں میں گذشتہ سال اضافہ انتہائي پریشان کن ہے۔
’گذشتہ 25 برسوں کے درمیان کبھی بھی دنیا بھر میں حکومتوں نے اتنے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی تھیں۔‘

مسٹر شیٹی نے ’ذبح کیے جانے‘ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سنہ 2015 میں حکومتوں نے اس غلط مفروضے کی بنیاد پر لوگوں کو ان کی زندگیوں سے بے رحمی کے ساتھ جدا کرنے کا سلسلہ جاری کہ پھانسی دیے جانے سے دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے