بھارتی چشمہ اتاروبھائی

ایک محفل میں گفتگو کچھ یوں شرو ع ہوئی۔۔۔ فاصلے دو طرح کے ہوتے ہیں مکانی اور زمانی ۔ مکانی فاصلہ یعنی وہ مجھ سے پانچ کلومیٹر دور ہے اور زمانی فاصلہ یعنی وہ پانچ گھنٹے پہلے یہاں سے رخصت ہو گیا ۔ اگر اس پیمائش میں جذباتی و سیاسی فاصلوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو رشتوں میں فاصلوں کی تشریح کا کوئی سامان ہوسکتا ہے ۔

مکانی اعتبار سے اگر میں اس سے پانچ کلومیٹر دور ہو ں تو وہ بھی مجھ سے اتنے ہی فاصلے پر ہونا چاہیے اور زمانی طور میرے اور اس کے درمیان پانچ ہی گھنٹے کا فاصلہ ہو ناچاہیے۔لیکن جذباتی اور سیاسی فاصلوں کی پیمائش کے معیارات مختلف ہیں ، جذباتی لگائو،وابستگی اورقربت یکطرفہ وارداتیں بھی ہوسکتی ہیں ضروری نہیں کہ جذباتی طور پر کوئی ایک دوسرے سے اتناہی قریب ہو جتنا دوسرا اس سے دور ۔

بات آگے بڑھتی ہے۔۔۔۔جذباتی فاصلے زمان و مکان کے محتاج نہیں ہیں ، کوسوں دور ،زمانوں پہلے کسی بھی شئے سے جذباتی قربت ہوسکتی ہے جبکہ سیاسی فاصلے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ فاصلو ں کو مفادات کی کسوٹی پرپرکھا جا ئے تو قربتیں دوریوں اور دوریاں قربتوں میں بدل سکتیں ہیں ۔

سیاسی طور پر مفادات میں یکسانیت ہو تو ہزاروں کوس فاصلے نکتے میں سمٹ سکتے ہیں اور مفادات میں تصادم ہو جائے تو ہم سائے بھی دشمن بن جاتے ہیں ۔بلکل ایسے ہی جیسے پاکستان ، بھارت، افغانستان ، ایران اور روس سمیت جملہ علاقائی ممالک سے جغرافیائی قربتیں ہونے کے باوجودمفادات میں ٹکرائو کے باعث تعلقات میں ہم آہنگی استوار نہیں ہوسکی۔سرکاری طورخارجہ پالیسی کے جوبھی اصول وضع کیئے جائیں ہمیشہ تجزیہ عملی رویوں کی بنیادو ں پرہو نا چاہیے ۔ عملی طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی میں واحد اصول دشمن کا دوست بھی دشمن کارفرما لگتا ہے ۔

کہنے لگے بھئی ۔۔۔مشکل باتیں چھوڑوسیدھی سی بات ہے کہ بھارت ہمارا دشمن ہے ۔اس لئے بھارت کوگھورناپاکستان کی پیدائشی مجبوری ہے۔۔۔۔چلو مان لیا بھئی بھارت ازلی دشمن ہے لیکن اگر ہر شے کو بھارتی چشمے سے دیکھو گے ہرشے ہی دشمن نظر آئے گی۔
ٹھیک کہتے ہو لیکن نہ جانے کیوں جی چاہتا ہے بھارت کا سر ہی پھوڑ دوں، کم بخت کہیں کا ، ہمارے دوستوں کے ساتھ بھی دوستی کرکے ہمارے دشمنوں کی فہرست طویل کر رہا ہے ۔ ۔۔۔کیا مطلب جس کسی نے بھی بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کئیوہ پاکستان کی دوستوںکی صفوں سے نکل کر دشمنوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ۔

اچھا مان لیا،،،،مگر اس اصول کے تحت ۔۔۔۔ ہم اپنے دوستوں کی فہرست مختصر کررہے ہیں ۔

تم نہیں جانتے ہندو بنیا ہے اور پاکستانیو ں اور مسلمانوں کا ازلی دشمن ۔۔۔پاکستانی کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے ۔
بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا،65میں لاہور پر چڑھائی کا ناپاک ارادہ کیا جس کے بعد پھر ریڈیو پاکستان پر اے پتر ہٹا ںتے نئیں وکدے کے ترانے نہ چلتے تو حالات کچھ اور ہوتے

بھارت ہی تھا جس نے 71میں ہمار آدھا دھڑ اتار کر بنگلہ دیش بنا یا

پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے جوہری بم بنایا۔۔۔پھر ہمیں بھی چاغی کی پہاڑیوں پر جانا پڑا

کارگل پر ہمارے سپاہیوں کا خون پیا، فاٹا سے لیکر کراچی ، بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کرائی ،
بلوچ علیحدگی پسندوں کو اکسایا، وسائل ،ہتھیار دئیے۔۔۔ اقتصادی رہداری پر بارود کے انبارلگائے ،
یہ بھارتی ایجنٹ کلبوشن اور اسکا نیٹورک بلوچستان میں نہ پکڑا جاتا تو کیا ہونا تھا تم خود ہی سمجھ دار ہو

بابا میں نہیں کہہ رہا ہے کہ اسے دوست بنا لو ،فقط اتنا کہتا ہوں کہ ہر چیز کو بھارتی چشمہ پہن کر نہ دیکھو ،
کس نے کہا تھا کہ روسی محبت نا مہ ٹھکرا کر امریکہ بہادر کے ساتھ امر بیل چڑھائوجو سالا قیام پاکستان کا حامی بھی نہیں تھا جس نے کئی زخم بھی دیئے ہیں۔

کیا بھارت نے کہا ہے کہ افغانستان، ایران، روس سمیت دیگر ہمسایوںکو بھی دشمن بنا لو؟
بھارت کا منہ چڑانے کیلئے شاید بھٹوکو پھانسی پر چڑھانا ضرور ی ہو گیا تھا۔۔۔
کس نے کہا کہ تھا کہ افغانستان میں سویت افواج کے خلاف مذہب کے نام پر ڈالروں اوریال کیلئے خون کی ہولی کھیلو ، خونخوار طالبان بنائوں،جنہوں نے بعد میں بچوں کا خون اژدھوں کی طرح پیا
یہ مارشل لا ۔۔۔ ایوب ، یحی ، ضیا اور مشرف نے یقینا بھارت کو فتح کرنے کیلئے اقتدار پر قبضہ کیا ہوگا؟

بھارت کو ازیت دینے ۔۔۔یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ میں کمزور کرنے کیلئے ایم کیو ایم بنائی۔ جسے ختم کرنے کیلئے اب پاک سر زمین شاد باد

کیا بھارت نے پاکستان کو ون یونٹ بنایا؟ جس نے بنگالیوں میں نفرت کی آگ لگائی اور ہم دو لخت ہو گئے۔
یقینا بھارت ہی کی وجہ سے پاکستان کو پرانے ہمنوائوں( طالبان )کے خلاف امریکی اور اتحادیوں کا ساتھ دینا پڑا
وسطی ایشیائی ریاستوں کے راستے میں شاید کہیں بھارتی خفیہ ایجنسی رانے اپنے اڈے بنا رکھے ہیں۔
ایران اس لیے اچھا نہیں لگتاکیونکہ وہ بھارت کے ساتھ محبت کی پینگیں جھول رہا ہے۔
بہت جلد سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو جائے گی کیونکہ مودی نے سعودی ارض پاک پلید کر د ی ہے ۔ صد افسوس سب سے پکا دوست سعود ی عرب بھی ۔۔۔۔دوستوں کی فہرست سے نکل رہا ہے ۔
دیگر خلیجی ریاستوں نے بھی بھارت کے ساتھ ہنی مون شروع کر دیا ہے لہذ ا انکے ساتھ بھی دوستی کا اب کوئی جواز رہ نہیں گیا۔ یورپ کے ساتھ ویسے بھی کوئی قدر مشترک نہیںہے جہاںپر بھارتیوں کی ریل پیل ہے۔
ایک اور صاحب بولے۔۔۔۔لارڈ جان ٹیمپل نے ایک مرتبہ کہا تھاکہ سیاسی مفادات میں ہمارے اتحادی ابدی ہوتے ہیں اور نہ دشمن مستقل، دراصل مفادات ہی ابدی اور مستقل ہیں جن کی ہمیں سختی سے پابندی کر نا چاہیے۔
تو کیا مطلب کبھی بھی پاکستان سے غربت کا خاتمہ،معاشی ترقی اور دوستوں میں کمی ملک کا سیاسی مفاد نہیں رہا؟


آئی بی سی اردو اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتا ہے . اس کالم کے جواب میں کوئی اپنی تحریر لکھنا چاہے تو ادارہ اسے شائع کرے گا . ویب سائٹ پر رابطہ میں جا کر اپنی تحریر لکھئے .
شکریہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے