About the author

2 Comments

  1. 1

    Mehar Afshan

    عدت کا مقصد بچے کے نسب کو غلط الزام سے بچانا تھا،یعنی اگر بیوہ یا طلاق یافتہ عورت پریگنینٹ ہوگئی ہے جس کا علم اسے کچگ عرصے بعد ہوتا ہے تو اس بچے کا باپ کون ہے یہ علم رہے اور اس کا وراثت میں جو حصہ ہے اسے کوئی جھوٹا الزام لگا کر غصب نہ کرسکے ۔

    آج ڈی این اے ٹیسٹنگ موجود ہے لیکن اس تک کتنوں کی رسائی ہوسکتی ہے یہ بھی ایک قابل ذکر سوال ہے اس لیئے آج بھی عدت کی اہمیت باقی ہے،
    لیکن ہمارے یہان جہالت یہ ہے کہ کوئی عورت جو بوڑھی ہوگئی ہو اس بھی زبردستی عدت کی مدت گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے حالانکہ در حقیقت اس کا کوئی تک نہین بنتا ۔ اس پر بھی علماء کو غور و فکر کرنا چاہیئے

    Reply
  2. 2

    Mehar Afshan

    آج ڈی این اے ٹیسٹنگ موجود ہے لیکن اس تک کتنوں کی رسائی ہوسکتی ہے یہ بھی ایک قابل ذکر سوال ہے اس لیئے آج بھی عدت کی اہمیت باقی ہے،
    لیکن ہمارے یہان جہالت یہ ہے کہ کوئی عورت جو بوڑھی ہوگئی ہو اس بھی زبردستی عدت کی مدت گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے حالانکہ در حقیقت اس کا کوئی تک نہین بنتا ۔ اس پر بھی علماء کو غور و فکر کرنا چاہیئے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ