About the author

3 Comments

  1. 1

    Mehar Afshan

    اوریا مقبول جان صاحب آپکا مطلب یہ ہے کہ اگر یہود اور عیسائی جھوٹی پیشن گوئیوں پر ایمان رکھتے ہیں تو ہم مسلمانوں کو بھی ایرانی النسل بخاری مسلم دائود نسائی ابن ماجہ ترمزی کی لکھی اسی یہودی بکواس پر ایمان رکھنا چاہیئے؟؟؟

    Reply
  2. 2

    Usmani Kamran

    اپنے مغالطوں کو قرآن کا منشا اور دین کا اصل کہنا اس عہد کا سب سے بڑا جرم ہے
    نبیوں اور رسولوں اور آسمانی کتابوں میں قیامت کی خبر ایک چیز ہے کہ ان کو آسمانی ہدایت حاصل تھی جبرئیل امیں کے ذریعے علم نبوت کا دروازہ کھلا تھا خدا کا کلام اترتا تھا
    رسولوں اور نبیوں کی خبر محض پیشن گوئی نہیں تھی عالم
    الغیب کی طرف سے واضح خبر تھی اس کو بیان کرکے اپنی پیشن گوئیوں کو مذہبی جواز دینے کی جسارت ایسا مغالطہ ہے جس میں اوریا صاحب برسوں سے مبتلا ہیں
    یا ہوسکتا ہے فرشتوں کی آمد ہوتی ہو ان کے پاس۔۔یہ دعوی بھی کردیں تاکہ چھٹی ہو۔

    Reply
  3. 3

    Sundas Rashid

    اوریا مقبول جان صاحب کی یہ تحریرتنقید کم اور علم و عقل کی تحقیر زیادہ معلوم ہو تی ہے۔ پہلے تو انہیں سیکولر زم، لبرلزم اور جمہوریت جیسے تصورات کی وہ تعریف جو انہیں دوسروں نے بتائی ہےکو چھوڑ کر، حقیقی تعریف سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے تئیں یہ تو طے کر لیا ہے کہ یہ سب کفر و شرک کی شیطانی پیداوار ہیں مگر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ان کے غیر اسلامی ہونے کےخیال کی بنیاد انہوں نے کن دلائل پر رکھی ہے۔ محترم کا خیال ہے کہ ان تصورات کےحامی لوگ صرف اس لئے میری بات نہیں مانیں گے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ غیر سائسنی کہلائیں گے۔ حد ہی ہو گئی۔ سائس، جدت اور مزہب کو آپس میں یوں گڈ مڈ کر دیا کہ تحریر کا نہ تو کوئی سر ہے نہ پیر۔ مگر سب سے بڑا ظلم یہ کہ محترم نے سیکولر ماں باپ کے ہاں پیدا ہونے والے آئن سٹائن، مذہب کو opium of the people قرار دینے والے کارل مارکس اور خدا کو خواب خیال سمجھنے والے فرائڈ کے مذہبی عقائد کا تعین بھی خود ہی کر لیا۔ اور کچھ نہیں تو ان شخصیات کے مزہب اور خدا سے متعلق ان کے اپنے کہے گئے الفاظ کا مطالعہ ہی کر لیا ہوتا۔ ارے اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کیا معلوم وہ غلظ بیانی کر رہے ہوں اور اندر ہی اندر انسانیت کیلئے انجام دی گئی ان کی سب خدمات (جو انہوں نے بنا رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے انسانیت کے ساتھ بانٹیں ) اصل میں اپنے مسیحا کی آمد کی تیاری ہو۔ تو چلئے آپ نور ، خواب اور جھوٹی سچی پیشین گوئیوں پر تکیہ کئے رکھئے، کیونکہ پھر آپ کو دشمنوں کی بھی ضرورت نہیں۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ