شام: ہسپتال پر بمباری میں 27 افراد ہلاک

دمشق: شام کے شہر حلب میں ایک ہسپتال پر بمباری کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک ہو گئے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق حلب کے ہسپتال پر بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں 3 ڈاکٹرز، حفاظت پر مامور 2 گارڈ اور ایمبولینس ڈرائیور بھی شامل ہے۔

مقامی ذرائع سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق القدس ہسپتال کے مرکزی دروازے پر موجود افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

شام میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی برطانوی تنظیم ‘سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس’ کے مطابق گزشتہ 6 روز میں حلب میں 148 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

حلب پر شام کے صدر بشار الاسد کے مخالف باغی گروہ کا قبضہ ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر سٹافن ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ 2 روز کے دوران ہر 25 منٹ میں کوئی عام شامی شہری ہلاک ہوا ہے جبکہ ہر 13 منٹ بعد کسی عام شہری کے زخمی ہونے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت میں 2011 میں خانہ جنگی شروع ہوئی تھی، جس کے بعد سے گزشتہ 5 سال میں 2 لاکھ 70 ہزار افراد اس جنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔

شام میں امریکا اور اتحادیوں کے علاوہ روس اور شام کے جہاز بھی فضائی حملے کررہے ہیں، لہذا یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بمباری کس ملک کے طیاروں نے کی۔

الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فضائی کارروائی شامی فوج کے طیاروں نے کی۔

[pullquote]شام میں ہسپتال پر فضائی بمباری، 7 افراد ہلاک
[/pullquote]

یاد رہے کہ 2 ماہ قبل فروری میں صوبہ ادلب میں روسی طیاروں کی فضائی کارروائی میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی معاونت سے چلنے والے ہسپتال پر بمباری میں ایک بچے سمیت 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جون 2014 میں شام اور عراق کے ایک بڑے رقبے پر شدت پسند تنظیم داعش نے قبضہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے ابوبکر البغدادی کو اپنا خلفیہ مقرر کیا تھا، داعش کے خلاف شام اور روسی اتحاد کے علاوہ امریکا اور اس کے حامی ممالک فضائی کارروائی کر رہے ہیں، دوسری جانب داعش مخالف القاعدہ کی حامی النصرہ فرنٹ سمیت مختلف چھوٹے گروہ بھی شام کے دیگر علاقوں پر قابض ہیں۔

[pullquote] شام میں جنگ بندی اور انتخابات کا اعلان
[/pullquote]

شام میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے مذاکراتی عمل بھی شروع کیا گیا، مذاکراتی عمل کے دوران فروری میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس جنگ بندی کا اطلاق داعش اور القاعدہ پر نہیں کیا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے