About the author

25 Comments

  1. 1

    Mehar Afshan

    نام نہاد علامہ صاحب اس پوری آیت کا سارا مفہوم ہی مردوں نے غلط تراجم و تفاسیر کے زریعے بگاڑ کر رکھ دیا ہے

    اس مین اللہ پاک ساف صاف کہہ رہے ہیں کہ مرد عورتوں کا سہارا ہیں کیونکہ قوامون کا مطلب ہرگز بھی حاکم نہیں ہوتا بلکہ یہ لفظ قائم سے نکلا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے خود کھڑا رہ کر دوسروں کو سہارا دینے والا ،

    ہم نے بعض پر بعض کو فضیلت دی اور وہ اپنے مال سے انفاق کرتے ہیں ،یعنی یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے مردوں کو اس قابل کیا کہ انہین مال دیا اور پھر وہ اس مین سے انفاق کرتے ہیں ،جس کا اجر اللہ پاک انہین دنیا و آخرت دونوں مین عطافرمائے گا ۔

    پھر کہا کہ صالحات ہیں قانتات ہیں،چھپی ہوئی چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں ،اور اللہ راز چھپانے والا ہے۔
    اور یہ باتیں بھی اللہ اور اس کی بندیوں کے حوالے سے ہیں۔،یعنی اللہ کے لیئے نیک عمل کرنے والیاں اور اس کے دیئے پر قناعت کرنے والیاں ،اور اللہ نے جن چطیزوں کو چھپانے کے لیئے ان سے کہا انکو چھپانے والیاں ہیں۔۔۔۔۔۔

    اگر تمھیں ڈر ہو نشوذ کا تو انہین سمجھائو ، تنہا چھوڑ دو بستروں میں، اور سزا دو ۔

    یہ آیت شوہر کو مخاطب کر کے نہین کہی گئی ہے بلکہ یہ حکومت وقت یا قاضی القضاۃ کا کام ہے کہ وہ دیکھے کہ جب کوئی اپنی بیوی کے نشوز کی خبر لے کر آئے، تو وہ پہلے اسے سمجھائے بجھائے پھر ان میں وقتی علیحدگی کروادے اگر پھر بھی نہ مانے تو اسے ہلکی پھلکی سزا دے اور اس پر بھی باز نہ انے پر دونوں کی طرف سے ایک ایک بڑا لے کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کرے ،پھر آخری حل طلاق ہے ۔

    Reply
  2. 2

    عمران احمد راجپوت

    جی مہر افشاں آپ نے درست فرمایا علامہ غلام احمد پرویز صاحب اور جاوید احمد غامدی کے نزدیک کچھ ایسا ہی ہے.

    Reply
    1. 2.1

      Mehar Afshan

      مسئلہ نہ غامدی صاحب کا ہے نہ غلام احمد پرویز کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      بات ہے آپ جیسے لاعلم لوگوں کے عالم بن کر عالمیت جھاڑنے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      زرا یہ تو بتائیں کہ آپ نے زندگی میں کتنی بار قرآن کو سمجھ کر مکمل ختم کیا ہے ؟؟؟
      اور یہ بات اللہ کو حاضر ناضر جان کر بتائیے گا شکریہ

      Reply
  3. 3

    Mehar Afshan

    اور یہ خاوند کو سجدے والی بکواس بھی سراسر نبی کریم پر بہتان ہے ۔
    ایک عورت جو بچے کو جنم دیتی ہے پالتی پوستی ہے خون جگر پلا کر اس کے لیئے تو نبی کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو سجدے کا حکم ہوتا تو میں اولاد سے کہتا کہ ماں کو سجدہ کرے لیکن ایک مرد کو جو صرف کما کر لا رہا ہے سجدے کا حکم دینے کی بات کریں ۔ناممکن
    مردوں نے ہمیشہ ہر نبی کی تعلیمات کو اسی طرح خراب کیا ہے ۔پہلے وہ دینی کتب میں من مانی تبدیلیاں کرکے دین کو کراب کرتے رہے ،عورت کی تذلیل کرتے رہے لیکن جب اللہ پاک نے قرآن پاک کی حفاطت کا زمہ خود لے لیا تو ان خبیثوں نے روایات اور احادیث کے نام پر اپنا شیطانی کھیل جاری رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سب کو روز حشر پتہ چل جانا ہے کہ کس نے کیا کیا
    اور کون کون اپنے نفس کا پجاری بن کر اللہ کے کلام سے اوپر انسانوں کی لکھی سنائی اور بنائی کہانیوں کو لاتا رہا 🙁

    Reply
  4. 4

    عمران احمد راجپوت

    یقین کریں میں ابھی تک حیرت میں ہوں آپ کا انداز تکلم دیکھ کر
    جبکہ میں نے تو آپ کے تبصرے کی تائید ہی کی ہے پھر اِس طرح بھڑکنا کیا جواز رکھتا ہے.
    دیکھیں مسلم امہ میں مسالک میں جتہ ہوا ہے مختلف نظریات اِس حوالے سے پائے جاتیں ہیں ممکن ہے آپ میرے خیالات سے متفق نہ ہوں لیکن اِس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ اس کی علم و قابلیت، پر حملہ کرینگی.
    خیر جانیں دیں آپ ہمارے لیے انتہائی قابلِ محترم ہیں جہاں تک آپ کے نظریے کی بات ہے وہ علامہ غلام احمد پرویز کی قرآنی تشریحات سے مطابقت رکھتا ہے. شاد رہیں

    Reply
    1. 4.1

      Mehar Afshan

      میں کسی غلام احمد پرویز کی قرانی تشریحات کی بات نہین کرتی میں خود قران کو سمجھ کر پڑھنے جاننے کی کوشش کررہی ہوں کاش اپ بھی ایسا ہی کرتے تو آج اس طرح کی خرافات مین نہ پڑے ہوتے

      Reply
      1. 4.1.1

        عمران احمد راجپوت

        اللہ رب العزت آپ کو صحیح علم سے نوازیں اور الفاظ میں میٹھاس پیدا کریں.آمین
        نیک خواہشات

        Reply
        1. 4.1.1.1

          Sundas Rashid

          عمران میں یہاں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی۔ یقینا افشاں کے لفظوں میں کڑواہٹ ہے جو بظاہر ناجائز لگتی ہےمگر یہ کڑواہٹ بالکل بجا ہے۔ وہ یوں کہ معاشرے کی عام عورت طویل عرصے سے مرد کے ہاتھوں اس قدر ذلت و رسوائی اٹھا رہی ہے کہ اب اسے مرد کیلئے لفظوں میں مٹھاس گھولنے کی تکلیف بھی گوارا نہیں ۔ عورت کو کمتر جان کر اس کی جوحالت کی گئی وہ آپ کے سامنے ہی ہے۔ اور یقینا آپ اس بات سے انکار نہیں کریں گے یہ سب اس قدر منظم انداز میں کیا گیا کہ مذہب، غیرت اور عزت کے نام پر عورت کی زندگی لینے کا سلسلہ ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ہمارے معاشرے کے تمام مردوں نے اس کارِ خیر میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے کیونکہ اگرکم و بیش ہر مرد نے بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسا نہ کیا ہوتا تو عورت کی حالت اس قدر دگرگوں نہ ہوتی ۔ اب جب کہ ایک طویل عرصے بعد عورت کیلئے یہ ممکن ہوا ہے کہ وہ ان تصورات کو اپنے پیروں تلے روند دے تو اس کے لہجے میں جو کرختگی آپ کو محسوس ہوتی ہے وہ مرد کی ہی طویل بے حسی کا نتیجہ ہے۔ جس طرح اس معاشرے کی ہرعورت بالاتفریق کسی نہ کسی طور (delusional) مرد کی حاکمانہ ، تنگ نظر اورگندی سوچ کا شکار ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح مردوں کا بالاتفریق کسی نہ کسی طورعورت کے غم و غصے کا شکارہونا فطری بات ہے ۔ جو بویا وہی کاٹیں گے۔ عورت کے لہجے میں شیرینی آنے کوابھی صدیاں درکار ہوں گی۔

          Reply
          1. 4.1.1.1.1

            عمران احمد راجپوت

            واہ سندس صاحبہ کیا خوب ترجمانی کی ہے آپ نے مہر افشاں صاحبہ کی…
            دیکھیں سندس صاحبہ مہر افشاں صاحب یا صاحبہ جو بھی ہیں انھوں نے ہمارے کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنا ایک نظریہ پیش کیا تھا جس کی ہم نے تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو آپ قرآن کی تشریح کررہی ہیں وہ علامہ غلام احمد پرویز کی فکر سے تعلق رکھتی ہیں جنکی فکر سے اب کافی اور لوگ بھی جڑے ہیں جیسا کہ جاوید احمد غامدی وغیرہ . لہذا آپ مجھ سے مسلکی یا فقہی اختلاف رکھ سکتی ہیں. یہ ضروری نہیں کہ ایک کالم نگار کے خیالات سے سب لوگ متفق یوں ہماری بات سے اختلاف کا حق سب کا ہے. جہاں تک عورت کے احترم اور اسکے حقوق کی بات ہے تو یہ بات ہمارے مسقیل قارئین بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کس فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور عورت کے حقوق اور اس کے جائز مقام کے کس حد تک حامی ہیں.
            لیکن میرا سوال پھر وہ ہی ہے جس کاتذکرہ ہم نے اپنے کالم میں بھی کیا اور ہمارے کالم کا اصل مدعا بھی یہی ہے کہ جو تجاویز اسلامی نظریاتی کونسل نے پیش کی وہ تجاویز عورت مخالف کس طرح ہیں. ایسی کونسی تجویز ہے جو اس کے خلاف جاتی ہے یا عورت کے مفاد میں نہیں ہے. بجائے مہر افشاں اس کا جواب دینے کے مسلکی اور اختلافی باتوں میں الجھ گئیں.

          2. Sundas Rashid

            آپ یقینا میرا نقطہ نہیں سمجھ پائے۔ مگر خیر۔۔۔۔جہاں تک بات ہے اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز کے عورت مخالف ہونے کی تو میرا خیال ہے آپ بھی انہی مردوں میں سے ہیں جوعورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو اس طرح کہ پہلے خود ہی سے یہ طے کر لیتے ہیں کہ عورت کے حقوق یہ یہ ہیں اور دعوی کر ڈالتے ہیں کہ ہم تو دراصل عورت کو حقوق دینے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات بڑی مضحکہ خیزہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کوعورت کو پہلے سے حاصل شدہ حقوق کو اپنی تجاویز میں شامل کرنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔ گویا بڑا احسان کرنا تھا۔ کیا پہلے عورت کو سیاست میں حصے لینے کا حق حاصل نہیں ہے یا پہلے غیرت کا نام پر اس کا قتل جائز تھا؟ یا پہلے جنگ عورتون طلم جائز تھا؟ یا پھرباشعور لڑکی کو قبول اسلام کا حق حاصل نہیں؟ اس کی بجائے اگر یہ کہتے کہ باشعور لڑکی کو زبردستی مسلمان نہیں کیا جائے گا تو بات کچھ سمجھ بھی آتی۔ بات شروع ہوئی تھی عورت پر گھریلو تشدد کو ایک punishable offence بنانے سے اور اسلامی نظریاتی کونسل اپنا پنڈورا باکس کھول کر بیٹھ گئی۔ بات رومال یا ڈندے سے مارنے کی نہیں بات ایک فعل کےانسانی یا غیر انسانی ہونے کی ہے۔ میں ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھتی ہوں اورعورت کی مرد کے ہاتھوں روز روز کی تذلیل اورظلم دیکھتی ہوں، اخبار پڑھ کر دیکھئے تو معلوم ہو جائے گا یہ وقت مرد کی اصلاح کا ہے یا عورت کی ۔ بجائے اس کے عورتوں پر گھریلو تشدد جیسے گھمبیر مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جاتا اسلامی نظریاتی کونسل عورتوں پر اپنی مرضی کا اسلام تھوپنے پر توانیاں صرف کر رہی ہے۔ اور آپ حیران ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل عورت مخالف کیسے ہے۔ ایسی معصومیت پر کون مر نہ جائے! قصور آپ کا بھی نہیں ، دراصل معاشرے نے مذہب کی آڑمیں مرد کو صدیوں سے جو خصوصی incentives دئیے ہوئے ہیں ان سے دستبردار ہونا کسی self-proclaimed آزادو روشن خیال کے بس کی بات نہیں۔

          3. عمران احمد راجپوت

            نقطۂ نظر تو آپ بھی ہمارا نہیں سمجھ سکیں سندس صاحبہ آپ نے ہمیں جن مرد حضرات کی کیٹگری میں لاکھڑا کیا یے اس کے جواب میں صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ آپ بھی ان خواتین میں سے ہیں جو عورت کے حقوق کے نام پر مادر پدر آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں اور بات صرف یہیں تک نہیں بلکہ حقوق نسواں کے نام پر مرد کو اپنے ماتحت بنانے کی خواہشمند ہیں.
            میں مانتا ہوں ہمارے مشرقی معاشرے میں عورت کا استحصال ہوتارہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ انھیں اسقدر اختیارات دیدئیے جائیں کہ مرد کے کردار کو عورت کے سامنے بے اثر کردیا جائے. یہ کہاں کا اصول ہے یہ کیسا انصاف ہے مجھے بتائیں یہ کسی برابری ہے
            عورت کے حقوق کی بات ضرور کریں لیکن مرد کو دشمن کی آنکھ سے دیکھنا یا دکھانا چھوڑدیں پلیز .
            آپ کو شاید علم نہیں یہ سوچ ہماری تباہی کا پیش خیمہ ہے نفرتوں کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے.
            مرد ہو یا عورت دونوں کو حقوقِ انسانی کی بات کرنی چاہئیے یقین جانئیے یہی وہ واحد راستہ یے جہاں سےدونوں کی نجات ممکن ہے.

          4. Mehar Afshan

            آگیا نکل کر اندر وہی ٹپیکل جاہل مرد باہر 🙂
            مادر پدر آزادی کا الزام لگانے ۔۔۔۔۔۔۔۔
            ماتحت ہم عورتیں نہین بنا نا چاہتین مردوں کو بلکہ مرد ہم عورتوں کو اپنی ماتحتی سے باہر نکلتے دیکھ کر خوف سے مرے جارہے ہیں
            آپ جیسون کا اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ کہیں عورت کو اتنے اختیارات نہ مل جائیں کہ وہ اپکے قابو سے باہر نکل کر آپکے سامنے کھڑی ہونے کی جراءت نہ پیدا کرلے
            ۔قرآن جو اختیارات عورت کو دیتا ہے اسے غلط تراجم اور من مانی تفاسیر کی مدد سے ڈھانک دیا گیا اور پھر اس مین مزید چار چاند جھوٹی من مانی روایات و احادیث کی مدد سے لگائے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
            اور ان سب کے پیچھے مردوں کا یہی خوف کار فرما تھا کہ کہین عورت ہمارے قابو سے باہر نہ نکل جائے ۔
            حقوق انسانی کے نام نہاد علمبردار صاحب ،کیا حقوق انسانی کی باتین یہی ہیں کہ شوہر کو بیوی کا مجازی خدا بنایا جائے ،اور اسے بیوی کو مارنے کی اجازت دی جائے؟
            ایسے حقوق انسانی کو ہمارا دور سے سلام

          5. عمران احمد راجپوت

            آپ نے میری سوچ میرے خیالات کو جس طرح اپنی زہنیت کے ترازو میں تولہ ہے مجھے اس کا زرا برابر غم نہیں کیونکہ آپکی سوچ کا معیار پر میرا کچھ اختیار نییں . لیکن میں بڑا فکرمند ہوں آپ کی اس سوچ پر اور آپ کے گردو نواح کے لوگوں کے لیے کہ جس طرح کی آپ کی سوچ یے اور مرد حضرات کے لیے جو آپ کی رائے ہے وہ معاشرے میں کس قدر تباہی کا باعث ہوسکتی ہے کس طرح نسلوں میں نفرتوں کے بیج بو سکتی ہے. خیر مجھے معلوم ہے کہ آپ کے پاس دلیل ختم ہیں لہذا گفتگو میں بدتہذیبی پر اتر آئی ہیں جس سے ماحول میں بدنظمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے میرے نزدیک خواتین نہایت قابلِ احترام ہیں . بہتر ہے ہم بحث کو یہیں ختم کردیں آپ حقوقِ نسواں کا پرچار کرتی رہیں ہم حقوقِ انسانی کی بات کرتے رہیں گے. انشاءاللہ
            جاتے جاتے ہماری ایک بات ضروری نوٹ فرمالیں شاید آپ کے کام آجائے. یاد رکھیں عقل کو وحی کی روشنی میں استمعال کروگے تو رحمن بن جاؤگے ورنہ شیطان بن جاؤ گے

          6. Sundas Rashid

            ’’اس قدر اختیاراتـ ‘‘ ؟؟؟ آپ یقینا ایک خوفزدہ مرد ہیں ۔ ویسے آپ کی اس اصطلاح کے استعمال نے مجھے آپ کی ساری بات سمجھا دی۔ میں نے تو محض بنیادی انسانی حقوق کا تذکرہ کیا اور آپ نے انہیں اختیارات کے کھاتے میں ڈال دیا۔ اگر آپ کیلئے عورت کے بنیادی انسانی حقوق بھی ’’اس قدر اختیارات ‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں تب تو یقینا میں اور آپ ایک دوسرے کا نقطہ نظر نہیں سمجھ سکتے۔ جناب مرد کا کردار تو تب بے اثر ہو گا جب کوئی ایک بھی دن ایسا گزرے گا کہ کسی عورت کو سڑک پر چلتے ہوئے گندہ فقرہ نہ سننے کو ملے اور آپ چاہتے ہیں کہ عورت بدلے میں مرد کیلئے محبتوں کے پھول نچھاور ہوں۔ میں بھی جانتی ہوں کہ مرد اور عورت کے انسانی حقوق برابر ہیں ۔ مگر مرد موقع تو دیں کہ ان کو بھی عورت سے اپنے حقوق کے حصول کیلئے صدیوں کی جنگ لڑنا پڑے پھر شکایت بھی کیجئے گا۔ ظاہر ہے کہ جس صنف کو انسانی حقوق میسر نہیں اسی کی بات کروں گی نا۔ اور پھر اگر حقیقت بیان کر نا آپ کیلئے نفرت پھیلانے کے مترداف ہے تو یوں ہی سہی۔ معافی چاہتی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک پست ترین درجے میں misogynous معاشرہ ہے۔ اگر آپ کو اندازہ بھی ہو کہ ایک عام طبقے کی عورت جب گھر سے باہر نکلتی ہے تو ہر دن اسے کس کس ذہنی اذیت سےگزرنا پڑتا ہے تو آپ کے رائے یقینا مختلف ہوتی۔ مادر پدر آزادی۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔بہت خوب!

          7. عمران احمد راجپوت

            خوف ذدہ…ہاہاہاہا مطلب آپ بھی مہر صاحبہ کا انداز بیاں اپنانے لگیں
            دیکھیں سندس صاحبہ بات کو غیر جانبدار ہوکر سوچیں تو شاید بات آپ کے سمجھ میں آجائے گی
            جہاں تک اختیارات کی بات ہے تو ہمارے معاشرے میں عورت کیا مرد کو پوری طرح اختیارات حاصل نہیں ہیں ہمارے معاشرے میں تو نمرود شداد اور فرعون بستے ہیں جنھیں نہ حقوقِ نسواں کا پاس ہے نہ حقوقِ مرداں کا کچھ خیال ہمارا اور آپ کا اصل رونا ہی اسی بات کا ہے جب تک معاشرے میں نمرود شداد اور فرعون مسلط رہیں گے وہ ہمیں ایسی ہی لڑاتے رہینگے کبھی آپ کو اختیارات دیگر مرد محکوم بنادینا کبھی مرد کو اختیارات دیکر عورت کو محکوم بنادینا.
            بجائے اسکے دونوں باہم مل کر حقوقِ انسانی کی بات کریں ہم اور آپ آپس میں الجھ کر اُن زمینی خداؤں کے آلہ کار بنے ہہوئے ہیں. ہم نے کبھی عورت کے بنیاد حقوق کی مخالفت نہیں کی بلکہ ہمارا تو کہنا ہے کہ صرف بنیادی حقوق ہی کیوں تمام انسانی حقوق ملنے چاہئیں لیکن تمام انسانوں کو جس میں مرد بھی شامل ہوں اور عورت بھی. یاد رکھیں جو ظالم جابر ہوتا ہے اور حاکمانہ رویہ اپناتے ہوئے سامنے والے کو محکوم بنانے کی روش اختیار کرتا ہے وہ یقیناً انسانی اقداروں سے گرا ہوا ہوتا ہے جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں.
            لہذا بحیثیت انسان ہمارا آپ کا سب کا فرض ہے کہ حقوق انسانی کی بات کریں میں پھر کہتا ہوں دونوں کی کہیں نجات ممکن ہے تو وہ اسی راستے سے ہے باقی سب راستے انتشار کی طرف لے جانے والے ہیں.
            جہاں تک خوف زدہ ہونے کی بات ہے سندس صاحبہ میں نے دیکھیں ہیں معاشروں کو تباہ ہوتے نسلوں کو برباد ہوتے جہالت ڈوبی خواتین کے ہاتھوں جہاں میں نے مرد کے ہاتھوں عورت پر ظلم ہوتے دیکھا ہے وہاں عورت کے ہاتھوں مرد کو مار کھاتے بھی دیکھا ہے پتا ہے کیوں…؟
            کیونکہ معاشرے میں موجود جہالت مرد عورت کی تفریق نہیں دیکھتی وہ تو اپنے شیطانی کھیل کے لیے بس انسانی وجود دیکھتی ہے اب وہ چاہے مرد کا ہو یا عورت کا.
            پلیز آئیں اور حقوقِ انسانی کی بات کریں تعمیری سوچ کے ساتھ.

          8. Sundas Rashid

            میرا خیال ہے آپ اصطلاحوں میں گرفتار ہیں۔ حقوق نسواں بھی حقوق نسوانی ہی ہیں۔ پتا نہیں آپ کیوں سادہ سی بات نہیں سمجھ پا رہے کہ عورتوں سے متعلق ایک موضوع زیرِ بحث ہے تو ظاہر ہےعورتوں کی ہی بات ہو گی۔کیونکہ آپ کا کالم بھی عورتوں سے متعلق ہی ہے۔ نہ تو میں نے کہیں مردوں پر ظلم و ستم کی تائید کی اور نہ کبھی ایسی کسی خبر پر خاموشی اختیار کی ہے۔ پھر پتا نہیں آپ اپنے تئیں کیوں یہ طے کر کے بیٹھ گئے ہیں کہ ہمیں مردوں سے کوئی خار ہے۔ انسانی حقوق کا ہی تو رونا رو رہے ہیں ہم بھی۔

          9. عمران احمد راجپوت

            بات تو ہماری بھی سیدھی سی ہے جسے آپ سمجھنے سے قاصر ہیں.
            رہی بات مردوں پر خار کی تو شروع آخر تک اپنے اور مہر صاحبہ کے تمام تبصرے دوبارہ پڑھ لیجئے بات کھل کر واضح ہوجائیگی.
            ہم نے بھی اپنے کالم پر مہر صاحبہ کا تبصرہ جانتے ہوئے انکے تبصرے کی حمایت ہی کی تھی اسلام میں موجود اختلافی نظریات میں سے ایک نظریہ یہ بھی ہے جو کہ فکرِ پرویز سے جڑا ہے. بس اتنی ہی بات تھی.
            خیر چھوڑیں…کافی تبصرے ہوچکے آئیں ایک دوسرے کو نیک خواہشات کا پیغام دیں : )

          10. Sundas Rashid

            میں اس کمنٹ سیکشن کا حصہ ہوں تو یقینا میں نے مہر افشاں کے کمنٹس بھی پڑھے ہی ہوں گے۔ جب ہی تو اس میں شمہولیت کی جسارت کی۔ میرا مقصدعورتوں کے نقطہ نظرکو پیش کرنا اوران رویوں پر اعتراض کرنا تھا جنہیں واضح طور محض انسانی بنیادوں پرعقل عام بھی تسلیم نہیں کرتی۔ جوابات فراہم کرنے کیلئےبہت شکریہ

          11. عمران احمد راجپوت

            نیک خواہشات. شاد رہیں

          12. Mehar Afshan

            🙂 بہت خوب میں اختلافی اور مسلکی باتوں مین الجھی ہوں یا جناب نے اپنی من پسند روایات مضمون میں شامل کرکے اسے مسلکی اور اختلافی بنایا ہے ؟؟؟
            آپ ہی اپنی ادائوں پر زرا غور کریں ۔۔۔۔۔۔۔

        2. 4.1.1.2

          Mehar Afshan

          جی جی آپ لوگ ہم پر پتھر برسائین وہ بھی دین کے نام پر اور ہم لہجے میں مٹھاس پیدا کرلیں ؟ بہت خوب
          رہی بات علم کی تو کیا آپ علم رکھتے ہیں قرآن کا ؟؟
          میں نے آپ سے قران جاننے سمجھنے کے حوالے سے سوال کیا تھا جسے آپ شیر مادر سمجھ کر پی گئے 🙂

          Reply
          1. 4.1.1.2.1

            عمران احمد راجپوت

            نہیں مہر افشاں صاحبہ آپ صرف یکطرفہ بات کررہی ہیں جس طرح خواتین اچھی بری ہوتی ہیں اسی طرح مرد بھی اچھے برے ہوتے ہیں ارے جناب ہم تو عورت مرد کی تفریق کے حامی نہیں ہیں ہمارے نزدیک تو دونوں پہلے انسان ہیں بالکل برابری کی سطح پر اور یہ بات ہم نے اپنے کالم کے اختتامی لائنوں میں بھی کہی اگر سمجھیں تو.
            جہاں تک معاشرے عورتوں پر ظلم و زیادتی اور ناانصافی کی بات ہے ہم نے اسی معاشرے میں ایسے مردوں کو بھی دیکھا ہے جو عورتوں کی جہالت اور تنگ نظری کا شکار ہوتے رہے ہیں ایسی عورتوں کو بھی دیکھا ہے جنھوں نے معاشروں کے معاشرے تباہ کردئیے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم مرد اور عورت کے درمیان تفریق کو ہوا دیں اور اصل حقائق سے آنکھیں موند کر ایک دوسرے کو ستے رہیں یا ایک دوسرے کی تعلیمات پر کیچڑ اچھالیں. ہمیں اور آپکو تو ایسی سوچوں کا خاتمہ کرنا چاہئیے اور بحیثیت انسان دونوں کو اسکے اصل مقام اشرف المخلوقات کے اعلی درجے کی جانب پہنچانے میں کردار ادا کرنا چاہئیے.
            باقی رہی بات قرآنی علوم جاننے سے متعلق تو جناب خاکسار تو ابھی سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہے لیکن میں آپ سے اتنا ضرور پوچھنا چاہونگا کہ آپ قرآن بمعہ ترجمہ پڑھ رہی ہیں وہ کس کی تراجم و تفسیر پر مبنی ہے سر سید کی تفسیر ہے علامہ غلامہ احمد کی تفسیر ہے مولانا ابواعلی کی ترجمہ و تفسیر ہے امام احمد رضا خان بریلوی کی تفسیر ہے یا پھر آپ خود اپنے مطلب کا ترجمہ و تفسیر پر کاربند ہیں پلیز بتادیجئیے تاکہ بات سندس صاحبہ کے بھی اچھے سے سمجھ میں آجائے. نیک خواہشات

          2. Mehar Afshan

            میں قرآن کو خود عربی لغت کی مدد سے پڑھ رہی ہوں اور یہ کام میں نے پندرہ بیس سال مختلف تراجم و تفاسیر پڑھنے کے بعد شروع کیا ہے ،اور الحمد للہ اب تک مین نے جن جن الفاظ کے غلط تراجم پر آبجیکشن اٹھائے ہیں کوئی عالم انہیں غلط ثابت نہیں کرسکا ہے

          3. عمران احمد راجپوت

            ہمممم…میں آپ کی اس کاوش پر آپکو اپریشیٹ کرونگا.
            گڈ جاب

          4. Mehar Afshan

            آپ صرف مجھے اپریشیئیٹ کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنی قرآنی قابلیت کو بڑھانے کے لیئے خود بھی قرآن سیکھنے کی کوشش کریں شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ