About the author

4 Comments

  1. 1

    Mehar Afshan

    عورت کو مرد ہی کی طرح طلاق کا حق دینے پر آپکی گزارشات قطعی غلط ہیں اور یہ آپکا سوئے ظن ہے کہ اس صورت میں عورتوں کی طرف سے اس کے غلط استعمال کی مثالین زیادہ سامنے آئیں گی ۔
    کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت ایک مرد سے کہیں زیادہ اپنا گھر بچانے کی خواہش مند ہوتی ہے ۔
    مردوں کو تو اپ جیسے علماء کی مہر بانی سے اس قدر فرعون بنا دیا گیا ہے کہ وہ طلاق کو اللہ کی طرف سے باعزت طریقے سے الگ ہوجانے کا زریعہ نہیں بلکہ اپنے ہاتھ کا کوڑا سمجھتے ہیں جس سے وہ عورت کو اپنی مرضی کے مطابق ہانک سکیں ۔
    اور اپ نے قرآن کی اس ایت کا بھی غلط مفہوم نکال کر سخت علمی بددیانتی کا ثبوت دیا ہے کہ اللہ نے مرد کو ایک درجہ اضافی دیا ہے ۔
    یہ ایک درجہ اضافی اللہ نے اس صورت مین دیا ہے جب عورت بھی مرد کے ساتھ رہنا چاہتی ہو لیکن خاندان والے بیچ مین ان کے دوبارہ رشتہ ازدواج میں بندھنے کی مخالفت کررہے ہوں ورنہ اللہ پاک نے صاف فرمادیا ہے کہ عورتوں کے بھی تم پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے تمھارے ان پر ۔اور طلاق بھی ایک ایسا ہی حق ہے ۔
    سب سے بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ حکومت وقت نکاح کی طرح طلاق کے معاملات میں بھی دو گواہوں کی موجود گی کو لازم قرار دے اور زبانی طلاق کو کعلدم قرار دیا جائے ،تاکہ دونوں مین سے کوئی بھی نہ تو زیادتی کرسکے اور نہ ہی اپنے کہے سے مکر سکے

    Reply
    1. 1.1

      dihsar malik

      علماء حضرات جس حدیث کوسورہ طلاق کی وجہ نزول بتاتے ہیں – وہ طلاق کا تقاضا عورت کی طرف سے تھا- یعنی طلاق کی ابتدا خلع سے ہوئی – میں اس تقاضے کی طرف بعد میں آتا ہوں – اس سے پہلے یہ سوال کھڑا کرتا چلوں – باقی تینوں الہامی کتب میں طلاق نامی کوئی آپشن موجود نہیں – کیا وہ ادیان فطرت نہ تھے ؟ یاد رہے کلیسا سے طلاق کی اجازت کو پچاس سال بھی نہیں گزرے – حکومتی قانون کا راستہ اختیار کرتے ہوۓ طلاق کی صورت میں مذہبی وابستگی ممکن نہ رہتی تھی –
      اب آ جا تے ہیں اس تقاضے پر- اس عورت کی طرف سے جو باقاعدہ ایجاب و قبول کو اختیار کرکے نکاح کر چکی تھی – اپنے شوہرسے محض ذاتی ناپسندیدگی کی وجہ سے ہمیشہ کا تعلق ختم کرنا چاہتی تھی – حدیث کے الفاظ “جب وہ میرے سامنے آتا ہے تو میرا دل چاہتا ہے اس کے منہ پر تھوک دوں” -بخاری کی حدیث کا باقی کا بلواسطہ مکالمہ یہاں بہت سے مسلمانوں کے لیے صدمے کا باعث بنے گا – ضرورت پڑنے پرحوالہ دے دیا جائے گا. لڑائی ، جھگڑا ، فساد، گالی گلوچ ، خرچہ ، پانی، نان ، نفقہ تو بہت بعد کی باتیں ہیں- افسوس ہم آج تک عورت کو درج ذیل وجوہات پر خلع کا حق دینے پر تیار ہی نہیں –
      محبت کی کمی – تعلقات(بشمول ازدواجی) کی سرد مہری – بغیر کسی وجہ کے برا لگنا – جائز عادات کا برا محسوس ہونا – یہاں یہ یاد رہے کہ مرد ان صورتوں میں اپنے لیے دوسری تیسری کے انتظامات کر سکتا ہے – عورت کے پاس آسودہ زندگی کا کوئی اور راستہ نہیں – اگر ہم یہاں میری بیان کردہ وجوہات کو طلاق کی وجہ قرار دینے پر رضامند ہو بھی جائیں تو کیا عورت کو اجازت مل سکتی ہے کہ وجہ کا بیان کرنا لازم نہ رہے تاکہ اندرکی باتوں پر اللہ کا پردہ پڑا رہے – اب دیکھئے خلع اور طلاق میں صرف نام کا ہی فرق رہ گیا ہے –
      ہوتا کیا ہے کہ خلع کی وجوہات میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر- ایسے ایسے جھوٹ گھڑنے کی مجبوری آن پڑتی ہے کہ انسان کا ایمان متزلزل ہو جائے – اس کے علاوہ تین فوری طلاقوں کی جو تاویل گھڑی گئی ہے اور طلاق مرد کا حق اور خلع عورت کا انتہائی نامساعد حالات کا حل – یہ سب عورت کی توہین و تذلیل ہے –
      جب طلاق کے بعد کا بھگتان بھی عورت ہی نے ادا کرنا ہے تو اس کی ناقص عقل میں اپنی تاویل مت ڈھونڈئیے – جی لینے دیجئے اسے اپنی زندگی –

      Reply
      1. 1.1.1

        Mehar Afshan

        میں تو یہ جانتی اور مانتی ہوں کہ یہ لفظ خلع مردوں کی ایجاد ہے اور اس کی تمام شرائط بھی ،ورنہ اللہ پاک نے تو صرف ایک لفظ ہی استعمال کیا ہے اور وہ ہے طلاق چاہے مرد دے یا عورت دونوں صورتوں میں لفظ طلاق ہی رہے گا

        Reply
  2. 2

    SanityCheck

    Questions for Author: Are you familiar with Quranic injunction of: “And defame not your own people, nor call one another by nicknames.” (49:11)?

    Where in the Quran is the punishment for apostasy mentioned?

    Quran in fact says: “Those who believe, then disbelieve, then again believe, then disbelieve, and then increase in disbelief, Allah will never forgive them nor will He guide them to the way.” (4:137). If indeed apostasy is punishable by death, how would some one repeatedly switch between belief and disbelief?

    Where in the Quran is the injunction about offensive Jihad?

    Quran in fact says: “Permission to fight is given to those against whom war is made, because they have been wronged — and Allah indeed has power to help them”. (22:39).

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ