About the author

6 Comments

  1. 1

    Irfan Shahzad

    though not fully agreed, but written beautifully

    Reply
  2. 2

    Sundas Rashid

    عجیب تحریر ہے کہ جس میں کسی ایک بھی موضوع کا حوالہ دئیے بغیرجس پرمصنف کو غامدی صاحب کے دلائل پر اعتراض ہو، صرف ان کی شخصیت پرتیر برسائے گئے ہیں۔ آپ کو ان کی آرا یا ان کے طریق اصلاح سے اختلاف ہے تو کم از کم کوئی ٹھوس دلیل ، کوئی حوالہ تو دیں۔ یا محض ان کی شخصیت پر تنقید مقصود ہے تو اس پر بھی زرا کھل کروجوہ بیان کرتے۔ ایک طرف شکوہ ہے کہ ان کے لہجے میں تحکم ہے دوسری طرف اعتراف ہے کہ اعلی اخلاق بھی رکھتے ہیں۔ جہاں تک جذبے کا تعلق ہے تو وہ اگر جزبوں کی پرواہ کرنے لگیں تو علمیت کی راہ فراموش کرنا ہو گی۔ ایک شخص آپ کو اپنے علم اور اخلاق سے مستفید کر رہا ہے اور آپ کو شکایت ہے کہ جذبوں کا خیال نہیں۔ جہاں تک میرا خیال ہے اعلی اخلاق کا تعلق بھی کسی کوارادتاذہنی یا جسمانی تکلیف نہ پہنچانے سے ہی ہے۔ غامدی صاحب کا المیہ یہی ہے کہ وہ شخصیات پر بے تکی تنقید کی بجائے دینی وعلمی موضوعات پر اپنی توانیاں صرف کرتے ہیں۔ کیا ان کی ساری کی ساری علمی کاوش کو محض کسی کا دل زخمی کرنے کا اوزار قرار دے دینا انتہا درجے کی ناانصافی نہ ہو گی؟ اور جس بات کا ان سے شکوہ ہے وہ تو خود آپ کی تحریر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ کیا ’’ کلامِ اقبال کی کامیاب پیروڈی‘‘ جیسے الفاظ کے استعمال سے ان پر طنز یا ان کی تحقیر مقصود نہ تھی ؟ جبکہ آخر میں خوش گمانی کا دکھاوا بھی کر دیا۔ کیا آپ مومنانہ بصیرت اورحکمت کے نام پر ان سے بھی اسی قسم کی منافقت کے خواہاں ہیں جس کا مظاہرہ خود آپ نے کیا ہے؟ کتنے عالم ہیں جو دلیل اور تحقیق کی روایت کو زندہ کرنے میں ان جیسا کردار ادا کر رہے ہیں؟ اس سفر میں اگر وہ ہرایک مذہبی گروہ کے جزبات کو پیشِ نظر رکھنے لگے تو کیونکر یہ خدمت انجام دے پائیں گے؟ آپ کے اندازوں کو ایک بھی دلیل میسر نہیں۔۔تمام تر انحصار ’’محسوس ہو تا ہے، نظر آتے ہیں، یوں لگتا ہے ‘‘ پر کرتے ہوئے فیصلہ بھی سنا دیا۔ بیان تو کیا ہوتا کہ محسوس ہوا تو کیوں؟ نظر آیا تو کیا دیکھ کراور یوں لگا تو ان کے کس عمل سے؟ اس پر ظلم یہ کہ ان پرکسی سیاسی ایجنڈے کیلئے کام کرنے کا الزام بھی لگا دیا۔ بنا یہ واضح کیے کہ کون سی ایسی سیاسی تحریک یا تنظیم ہے جس کے ایجنڈے کا وہ حصہ ہیں اور ان کا کون سا رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے؟ ان کے علمی وعقلی انداز بیان سے کچھ افراد یا مزہبی گروہوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچنا؟ آخر میں اگر یہ وضاحت بھی کر دیتے کہ ’اعلی اخلاق‘ کا منہ زور گھوڑا کیا چیز ہے تو مجھ جیسے نا قص العقل کو سمجھنے میں آسانی رہتی ؟ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اعلی اخلاق کیونکر منہ زورگھوڑے کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟

    Reply
  3. 3

    IndusTree Islamabad

    محترمی سندس صاحبہ

    آپکی رائے کا احترام۔ عرض کیا کہ یہ ایک تاثراتی تحریر ہے، علمی نقد نہیں۔

    کلام اقبال کی پیروڈی واقعی کمال کی ہے اور کامیاب بھی، یہ طنز نہیں ہے۔

    باقی نکات کا جواب اپنی اگلی تحریر میں دینے کی کوشش کروںگا۔

    توجہ دلانے اور تنقید کا شکریہ کہ میں تنقید کو تنقیص نہیں سمجھتا

    اللہ آپکو خوش رکھے اور غامدی صاحب سے ہماری محبت اور حسن ظن کو قائم رکھے

    شاہد اعوان

    Reply
  4. 4

    Imran Karim

    غامدی صاحب علم وتحقیق کی راہ کے مسافر ہیں – لسانیات ، سائنس ، فلسفہ اور ادب ان کے دیگر شغف ہیں ۔ اخلاق وکردار میں صوفی مزاج اور علمی رائے اختیا رکرتے وقت دلیل کورہبر رکھتے ہیں۔ تحقیق کے میدان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ، دو اور دو چار ہوتے ہیں ، سوا چار یا پونے چار کو قبول کر لینا کہیں حکمت کا تقاضا تو ہو سکتا ہے لیکن ان جوابات کودلیل و تحقیق کی لیبارٹری میں بہرحل رد ہی ہونا ہے ۔ ایسےمیں محقق ، مصلح اورعوامی راہنما کے انداذ بیاں میں کچھ فرق ہوجانا کوئی غیرفطری بات نہیں ۔
    دلیل اور علمیت سے دلوں کو زخمی کرنا صاحب علم لوگوں کا شیوہ نہیں ، اگر کچھ حوالے دے سکیں تو بندہ ممنون ہو گا ۔ رہ گیا غامدی صاحب کا کسی سیاسی ایجنڈےمیں استعمال ہونا تو اس استعمال کے عوض زیادہ سے زیادہ وہ کوئی حکومتی عہدہ یا مراعات حاصل کرسکتے تھے ، مشرف دورمیں ان کو وزارت کی پیشکش ہوئی تھی جو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ آپ لوگ ٹھیک طریقہ سے اقتدار میں نہیں آئے ۔
    اعوان صاحب اگر غامدی صاحب کی فکر کو موضوع بناتے تو یہ قارئین کے لیئے معلوماتی اور دلچسپی کا باعث ہوتا ، کسی شخص کے روئیوں کے بارے میں لکھنا اگر ضروری ہو تو مصنف کو کوشس کرنا جاہیے کہ وہ لکھنے سے پہلے اس شخصیت کو اچھی طرح جان لے (میرا گمان ہے کہ اعوان صاحب ان کو ذاتی طور پراتنا نہیں جانتے ہوں گے جتنا خاکساران کو جانتا ہے)
    سلامت رہئیے

    Reply
  5. 5

    Munawar

    It’s writer’s “impression” about him and impressions are always based on how you perceive and expect things to happen – impressions do not necessarily reflect the actual facts about the subject but they are presented in the manner how the impressionist look at the subject. It’s like a painter drawing the picture without much of details available to him … I think the writer hasn’t done any harm to the subject (Ghamidi Sahib) …. he is “only” expressing “his” impression about him …

    Reply
  6. 6

    Moazzam Safdar

    اس تاثر پر میرا تاثر ــــ تعصب اور عناد کو خوب صورت انداز میں پیش کرنے کی کوشش

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ