About the author

2 Comments

  1. 1

    Mehar Afshan

    تم جیسے شیطان کے چیلوں کو ہر بات مین ایم کیو ایم کو ملوث کرنا بہت لازم ہوتا ہے تمھارے اندر کا گند تمھیں چین جو نہیں لینے دیتا

    Reply
  2. 2

    Mehar Afshan

    لو یہ دیکھ لو کہ خفیہ ادارے کے اعلی افسران کیا کہہ رہے ہیں اب کیا تم اپنا تھوکا ہوا چاٹو گے ؟؟؟
    http://hassannisar.pk/pakistan_20894.html
    کراچی(نیوزڈیسک) شہر میں آئندہ چند دنوں میں اہم شخصیات سمیت سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ مختلف کالعدم تنظیمیوں نے کراچی میں اپنا جال بچھانا شروع کر دیا ہے۔
    شبہ ہے کہ امجد صابری کی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم تنظیم کے کارندے ملوث ہیں۔ یہ بات ایک حساس ادارے کے افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایکسپریس نیوزکو بتائی۔ انھوں نے بتایا کہ کالعدم جیش محمد، کالعدم لشکر جھنگوی، کالعدم جند اللہ اورکالعدم القاعدہ سمیت دیگر کالعدم تنظیم کے کارندے فوجی آپریشن کے دوران اپنے اہم رہنماؤں اور کارندوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے ہیں۔ مذکورہ تمام کالعدم تنظیموں نے کراچی میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔
    حساس ادارے کے اہلکار نے بتایا کہ مذکورہ کالعدم تنظیموں کے سربراہان نے افغانستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک کے علاوہ بلوچستان، خیبر پختونخوا سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں موجود اپنے دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور ریکی کرنے کے ماہر کارندوں کو کراچی پہنچنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے کارندے سیاسی جماعت کے رہنماؤں، کارکنوں کے علاوہ معروف شخصیات ، صحافیوں کے علاوہ دیگر اہم شخصیات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
    ذرائع نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کے کارندوں کو گنجان آباد علاقوں میں رہائش فراہم کیے جانے کا خدشہ ہے جبکہ ان کے سربراہان پوش علاقوں میں رہائش اختیار کریں گے، انھوں نے بتایا کہ شبہ ہے کہ معروف قوال امجد فرید صابری کے قتل میں بھی کالعدم تنظیم جیش محمد ملوث ہے، انھوں نے بتایا کہ حساس اداروں نے کالعدم تنظیموں کے کراچی میں اکٹھا ہونے کی اطلاعات پر پورے شہر میں اپنا نیٹ ورک پھیلا دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو شہر کا امن خراب کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ