کھڑکتےترازو

اعلی’ عدلیہ کی طرف سے ریمارکس اور عبوری احکامات کے ذریعے سرکاری اداروں کو میڈیا کے خلاف انتظامی اقدامات کی ترغیب آزادئ راۓ کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں- اس حوالے سے میری ذاتی راۓ درج ذیل تحریر میں حاضر ہے-

—–کھڑکتےترازو——–

دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں عدالتوں اور ججوں کو بے جا تنقید اور ذاتی حملوں سے قانونی تحفظ دیا جاتا ہے ۔ ” تو ہین عدالت “ کے ان قوانین کے تحت معزز جج صاحبان اراکین عدلیہ کے خلاف ہتک آمیز بیانات اور جھوٹے الزامات پر کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو قید اور جرمانے کے سزا سنا سکتے ہیں ۔ ججوں کو اس قانونی تحفظ دینے کا مقصد ریاست سے وفاداری کے آئینی تقاضے کے تحت ریاست کے اہم ترین اور آخری ستون کی حفاظت کرنا ہے ۔عدلیہ کا یہ ستون اس لحاظ سے اہم ترین اور آخری بن جاتا ہے کہ جب عام شہری تمام اداروں اور افراد کے ظلم اور ناانصافی سے مایوس ہو جاتا ہے تو سب سے آخر میں عدالت کا ہی دروازہ کھٹکھٹاتاہے اور اگر عدالتوں میں بھی اسے انصاف نہیں ملتا تو پھر وہ ریاست کا باغی ہو جاتا ہے ۔اسی لیے اگر دوسرے اداروں اور افراد کی طرح عدالتوں پر بھی تنقید کی لامحدود آزادی دے دی جائے تو عوام میں عدلیہ اور پھر ریاست پر اعتماد ختم ہو سکتا ہے اور ملک کا وجود خطرے میں پڑھ سکتا ہے

۔مگر پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ معزز شہریوں اور معززاور ججوں کے درمیان احترام کا یہ رشتہ یکطرفہ نہیں ہو سکتا ۔ آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کو عدالتیں اپنے بروقت اورجرات مندانہ فیصلوں کے ذریعے یقینی نہیں بناسکتی تو انکے فیصلوں یا عدم فیصلوں پر ” مناسب رائے “ (Fair Comment) دینے کا بنیادی حق بھی ازخود ختم نہیں ہوجاتا ۔خاص کر پاکستان جیسے ممالک میں جہاںعدلیہ آئین کے برخلاف آئین شکنی کے مرتکب فوجی آمروں سے ملی بھگت میں ملوث رہی ہواور بعد میں بھی سیاسی نوعیت کے معاملات پر فیصلے صادر کرتی رہی ہو تو پھر مہذب معاشروں کی عدلیہ جیسے احترام کی توقع اور وہاں کے توہین عدالت کے قوانین اور اصولوں کو بلا سوچے سمجھے اور بغیر عدالتی فیصلوں کے لاگو کرنا مزید توہین عدالت کا باعث بنتا ہے ۔اس حوالے سے پاکستان میں ایک خطرناک رجحان پنپتا جارہا ہے اور وہ رجحان ہے انصاف کے تقاضوں اور قانونی عمل کے بغیر ہی عوام کی آزادی رائے پر قدغنوں کا نفاذ ۔ فوجی آمریت کے زمانے میں جس طرح ایک ٹیلی فون کال پر خبر یا صحافی دونوں غائب ہو جاتے تھے اسی طرح اب اعلیٰ عدلیہ میں بھی آزادی رائے کے آئینی حق سے متعلق دلائل سے بھرپور مفصل فیصلوں کی بجائے سرکار کے اداروں کو ازخود ہی میڈیا کے خلاف فوری اور سخت کاروائی کی زبانی کلامی ہدایات اور عبوری احکامات جاری کیے جارہے ہیں ۔ کچھ معزز ججزحضرات چند ٹی وی پروگراموں کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر بیٹھ کر دیکھنے کے بعدبظاہر اپنا ذہن بنا لیتے ہیں ۔ اگلی صبح ٹی وی چینلوں کی لائسنسگ اتھارٹی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یا انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو طلب کرکے زبانی کلامی پوچھا جاتا ہے کہ فلاں فلاں اینکروں اور ٹی وی چینلوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی اور اگر کچھ جرمانہ یا سزا ہوئی بھی تو وہ ناکافی تھی ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعلیٰ ترین عدالت کے معزز جج صاحبان سرکاری افسران کو طلب کر کے کسی ٹی وی چینل یا صحافی کو مؤقف سنے بغیر زبانی کلامی یا عبوری احکامات کے ذریعے میڈیا کے اداروں اور چند اینکروں کے خلاف ” سخت کاروائی “ کے لیے کیسے دباؤڈال سکتے ہیں ؟جواب واضح ہے کہ ہر گز نہیں ۔کسی کو سنے بغیر اور مفصل عدالتی فیصلوں کے علاوہ کسی جج کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ گھر بیٹھے کسی پروگرام کے پسند نہ آنے پر اگلے روز کھلی عدالت میں سرکاری حکام کو کسی کے خلاف سخت کاروائی کے زبانی کلامی احکامات ، ریماکس یا عبوری احکامات دینے کے بعد اس معاملے پر کئی ماہ سماعت بھی نہ کرے ۔چند اینکر پرسن قابل نفرت سہی مگر قانونی تقاضوں کے بغیر قابل سزا نہیں ٹھرائے جاسکتے ۔جمعرات کو کراچی میں ہونے والی سپریم کورٹ کی کاروائی کے دوران معزز جج صاحبان نے پیمرا کے سربراہ سے پوچھا کہ ان چینلز کا لائسنسن کیوں نہیں منسوخ کیا گیا۔ پھر کہا گیا کہ کیا ایک لاکھ جرمانے کے ساتھ جج کی بے عزتی کر دی جائے اور کیا یہ آزادی رائے ہے۔ کیا آزادی رائے کا یہ مطلب ہے کہ کسی اینکر کو لائسنس دے دیا جائے کہ وہ کسی بھی جج اور اسکے اہل خانہ کی تذہیک کرے ، ایک معزز جج نے تو ” خوشگوار “ انداز میں پوچھا کہ کیوں نہ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمنیونکیشن اتھارٹی کو گرفتار کر کے بلایا جائے ۔آئندہ سماعت کے لیے ٹی وی چینلوں کے خلاف کارروائی کی رپورٹس بھی طلب کر لی گئی ہے۔

معزز ججز صاحبان کی طرف سے دیے گئے ریمارکس سو فیصد حقیقت پر مبنی بھی ہوں مگر ایسے ریمارکس عام تجزیہ کاروں اور عام قانونی ماہرین کی طرف سے آنے چاہیں ۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے معزز جج صاحبان کے ان ریمارکس کے بعد کسی ماتحت عدلیہ کے جج کی کیا جرات ہو گی کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ ملزم ٹی وی چینل یا اسکے اینکرپرسن نے جو تنقید کسی جج پر کی تھی شایدوہ آزادی رائے کے زمرے میں آتی ہے۔ اور ایسا ہونا ممکن بھی تو ہے کہ عدلیہ ، ججوں اور انکے فیصلوں پر تنقید ” مناسب رائے “(Fair Comment) کے زمرے میں آتی ہو۔ہمارا عدالتی المیہ یہ ہے کہ انصاف کا ترازو اٹھائے ہمارے معزز جج صاحبا ن اس ترازو میں انصاف کے مطابق تحریری فیصلے ڈالنے کی بجائے اس کو محض کھڑکھڑا تے جا رہے ہیں ۔بجائے اس کے کہ توہین عدالت کے انفرادی مقدمات کی باقاعدہ سماعت کے بعد آئین اور قانون کے تحت ملزمان کو سخت سے سخت سزا سنائی جائے زبانی کلامی ریمارکس کے ذریعے سرکاری حکام کو میڈیا کے خلاف عمومی طور پر سخت کاروائی کرنے کی کھلی چھٹی دی جا رہی ہے اور اعلیٰ ترین عدالتی فورم پر دیے گئے اتنے سخت رد عمل کے بعد ماتحت عدلیہ میں آزادی رائے کے بنیادی آئینی حق کے حوالے سے شکوک و شہبات پیدا ہو رہے ہیں ۔ معزز جج صاحبا ن کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ معاشری کی آنکھ اور کان صحافیوں کے خلاف ایسے ریماکس دینے کے بعد کیا وہ ان ٹی وی چینلوں اور صحافیوں کی وہ اپیلیں ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سن سکیں گے ۔ جو وہ اپنے خلاف کیے گئے ماتحت عدلیہ کے فیصلوں پر کریں گے ؟ پیمرا کی طرف سے جرمانے اور نشریات کی عارضی معطلی کی سزاہوں کے خلاف اپلیں نہ کرکے اور ایسے فیصلوں کو تسلیم کر کے میڈیا اور صحافی اپنا ہی کلا گھونٹ رہے ہیں ۔

بد قسمتی سے ہمارے بہت سے اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان نے انصاف کے ترازو میں اپنے تحریری فیصلوں کا وزن ڈالنے کی بجائے اپنے خالی ترازو سے انصاف کی موسیقی ترتیب دے رکھی ہے ۔ آئین سے سنگین غداری جیسے سنگین مقدمے میں بھی ایسی ہی کھڑکھڑاہٹ کے علاوہ نجی ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد توہین عدالت اور خصوصا آزادی رائے سے متعلق نہ ہی وہ فیصلے تحریر کیے گئے ہیں جو معاشرے اور اداروں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوتے۔ تقریبا 20 سال کی سپریم کورٹ رپورٹنگ کے بعد یہ مشاہدہ ہے کہ معزز جج صاحبا ن وکلا کی مدد ، مداخلت اور اعانت سے ملزم کی غیر مشروط معافی حاصل کر کے اس کے خلاف مقدمہ ختم کر نے کو اسکے آزادی رائے کی آئینی حق سے متعلق تفصیلی فیصلے پر ترجیح دیتے ہیں۔ اب تو ہین عدالت کا قانون ایسا ہتھیار بن چکا ہے کہ جسے آئین کی تشریح کی بجائے اداروں اور افراد کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کیا جا رہے ۔بد قسمتی سے ایسا جارحانہ عدالتی رویہ عام لوگوں کو اپنے آزادی رائے کے حق کے لیے بات کرنے سے بھی ڈرا دیتا ہے ۔

مختصر یہ کہ اگر معزز جج صاحبا ن نے بھی تحریری فیصلوں کی بجائے زبانی فتوے ہی دینے ہیں تو پھر میڈیا اور صحافیوں کو بھی سینسر شپ کی اس نئی نوعیت کا مقابلہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔جس آئین میں عدلیہ اور فوج کو غیر مناسب تنقید سے تحفظ دیا گیا ہے اسی آئین میں آزادی رائے کا حق بھی ہر شہری کو دیا گیا ہے ۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ ججوں کو صرف اور صرف اپنے تحریری فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہیے وگرنہ ان میں اور پاکستان کے میڈیا مخالف حکام میں کیا فرق رہ جائے گا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے