About the author

2 Comments

  1. 1

    Raja

    Comment…واہ جناب. جس بندے نے اس عزت دار خاندان کی بیٹی اور نواسی کے ساتھ سب کچھ کیا وہ تیسرے نمبر پے. اورجس بچارے نے اس مظلوم کے لیے اواز اٹھائ جیسے بھی اس کا بس چلا اس کو پہلے پکڑو تا کہ پہلے سب مولوی مل کے اس کا مکو ٹھپ سکیں. باقی باتیں لوگ آھستہ آہستہ بھول ھی جایں گے. اور وڈے مولوی صاب ایسے ھی مدرسے میں بچے اور بچیاں پاڑتے رھیں گے. واہ مولوی تیری منافقت اور جہالت بھرے مشورے کا شکریہ. بچا لو وڈے مولوی صاب کو. یہ الیاس مولوی کے سارے وکیل مولوی بھی سب بچے باز ھیں اور سب اپنا آپ ظاہر کر رہے ھیں اس کوبچانے کے چکرمیں

    Reply
  2. 2

    .

    اصل میں جو بھی غلط ھوگا۔ایک فریق تو ھوگا۔لیکن میرے خیال میں عورت کی عقل ٹخنے میں ھوتی ھے۔پھلے تو ان کو دوسری شادی نھی کرنی چاھیے تھی۔کہ ان کے بیٹی بھی شادی شدہ ھوں۔ان کے جوان بیٹے۔بیٹیاں ھوں۔
    دوسری بات یہ کہ اللہ نہ کرے ۔اگر گھمن صاحب میں یہ بیماری ھوتی۔جو یہ بیان کر رھے ھیں۔تو شیخ رشید کی طرح۔کہ جب تازہ دودھ ملتا ھوں۔تو گھر میں بھینس رکھنے کی کیا ضرورت۔تو ان کو یہ بوڑھی بیوہ سے شادی کی کیا ضرورت تھی۔یعنی سوچنے کی بات ھے۔اگر آپ لوگوں کو 2016 ماڈل گاڑی ملتی ھوں۔تو کوئ 78 ماڈل قبول کریگا۔
    دوسری بات یہ کہ اگر مولانا یہ کام کرتے۔تو وہ کوئ ایسی عورت سے شادی کرتا۔جنکا ایک وسیع حلقہ احباب ھوں۔یہ تو یہ بات ھوئ۔کہ آبیل مھجے مار۔
    تیسری بات یہ۔کہ جب آپ کو ایک مھینے کے اندر پتہ چلا۔کہ گھمن نے آپ کی بیٹی پر برا نظر ڈالا ھے۔تو آپ فی الفور وفاق المدارس وعیرہ کو کھتی۔تین سال جاسوس لڑکیوں کو کیوں مدرسے میں داخل کروایا۔آپ کو تو تین سال پھلے پتہ چل گیا تھا۔اس گناہ میں پھر آپ برابر شریک ھے۔
    رھی گھمن صاحب کی بات۔جب ایک عورت بغیر ثبوت کے اتنے الزامات لگاتی ھے۔تو ان کے ساتھ مناظرہ کرنے کا کوئ فایدہ نھں ھے۔پھر اس سے اور شدید الزامات لگا لیگا۔اور جو وقت امت کی اصلاح میں لگنی چاھیے ھوں۔وہ انرجی اس فضول قسم کی بحث میں گزر جایئگی۔
    اور اگر یہ عورت غلط ثابت ھو گیئ۔تو پھر بدنامں کس کی ھے۔اپنے مسلک اور اپنے اکابر کی ھوگی۔جسکا جتنا ظرف ھوتا ھے۔اتنا ھی وہ سمھجتا ھے۔تو گھر کی بات کو گھر میں رھنی چاھیئے۔
    اس کے علاوہ اتنی ساری بچوں اور بچیوں میں کوئ بھی نھی تھا یا ھے۔کہ کھتا کہ ھمارے ساتھ یہ ھو رھا ھے۔طلاق کے علاوہ گھمن کا اور کیا حق بنتا ھے۔کہ ان کے ساتھ۔عدالتوں میں چلا جائے۔ٹی۔وی۔ٹاک شوں منعقد کرے۔
    یہ الزامات تو سارے لوگوں پر لگتے ھے۔کیا عمران نے کھبی سیتاوایٹ پر بات کی ھے۔حالانکہ وہ واقعہ شاید سچ بھی ھوں۔
    میں الیاس گھمن کو نہ جانتا ھوں۔نہ ان کا بے جا حامی ھوں۔
    لیکن جھوٹے ھونے کے لیے یہ کافی ھے۔کہ بغیر تحقیق کے کسی بات کو آگے بیان کرنا۔
    لھذاء میری سب سے گزارش ھے۔کہ ان دو میں سے ایک تو علطی پر ھوگا۔لیکن اللہ کو معلوم ھوگا۔ھمیں کسی پر الزامات نھی لگانے چاھیئے۔watanyaardik@yahoo.com
    Abed jan

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ