About the author

2 Comments

  1. 1

    ماجد عبدالکریم

    اس انٹرویو میں بہت سارے جھول ہیں
    (1) گھمن صاحب کہتے ہیں کہ بچی نے تپھڑ مارا ، دوسری بچی نہیں جاگی ، اس کی ماں شور سن کر نہیں جاگی کیوں ؟
    کیا یہ ممکن نہیں کہ گھمن نے طریقے سے لڑکی کی ماں اور بہن کو نشہ آور چیز پلادی ہو اور اس کے بعد بھی احتیاطا اپنی دوسری بیوی کو پہرے پر کھڑا کردیا ہو
    (2) لڑکی خود کہتی ہے کہ میں نے مزاحمت بھی کی لیکن اس نے قابل اعتراض حالت میں اس کی تصویریں نکالی تھیں جس کے بل پر وہ اسے بلیک میل کررہا تھا ، ایک شاطر بے دین شخص کیلئے کونسا مشکل ہے کہ اپنے گھر میں آئی ہوئی کسی مہمان لڑکی کی تصویریں لے سکے خفیہ کیمروں کی مدد سے ۔۔۔
    پھر لڑکی کی ماں نے کب اس کی بیوی کو گواہ بنایا ہے ، اس نے تو اسے شریک ملزم ٹھہرایا ہے
    (3) گھمن کہتا ہے کہ اگر میرا ان سے تعلق ختم ہوگیا تھا تو میں اس کے بیٹے کی شادی میں کیوں گیا تھا اور شادی کارڈ پر متمنی شرکت کے خانے میں اس کا اور اس کے بیٹوں کا نام کیوں درج ہے ؟
    جواب: اس کا جواب خاتون کی طرف سے بہ لسان مفتی ریحان یہ دیا گیا ہے کہ گھمن کا نام شادی کارڈ پر درج نہیں تھا ، یہ اس نے بعد میں رولا رپھا ڈال کر دوسرا کارڈ چھپوایا تھا محدود تعداد میں اپنے دوستوں اور رتعلقداروں میں بانٹنے کیلئے جب کہ دونوں کارڈز کے عکس کی موجودگی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے
    (4) جہاں تک پیسوں کی منتقلی کا معاملہ ہے اس کا جواب یہی ہے کہ خاتون کا ایک بیٹا گھمن نے اپنی طرف کرلیا تھا جس کو وہ اپنے ساتھ گھماتا تھا دلیل کے طور پر ۔۔۔تو یہ پیسوں کا دینا اور لینا کوئی دلیل نہیں کہ وہ پاک صاف ہیں اور خاتون کے الزامات جھوٹے ہیں ۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ خاتون کو بطور رشوت رقم دے رہا ہو کہ اپنا منہ بند رکھو اور چپ چاپ برداشت کرو
    (5) بیوی سے ان بن ہوگئی تھی ، اچھا مگر ان بن ہونے کے بعد خاتون نے اپنی ہی بیٹی کو بدنام کرنے کا رسک کیوں لیا؟ پھر اس کی بیٹی بالغ ہے وہ کیوں خاتون کا ساتھ دے رہی ہے ؟ کیا خاتون کے پاس یہی ایک راستہ رہ گیا تھا اپنا بدلہ چکانے کا ؟
    مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ خاتون اس بات پر کہ گھمن نے چوتھی شادی کرلی تھی اس حد تک ناراضگی اک اظہار کرہی نہیں سکتی تھی ، کیونکہ ایک تو وہ عمر کی وہ حد کراس کرچکی تھی جس میں خواتین کے جذبات خاوند کے بارے میں بڑے حساس ہوتے ہیں ،
    پھر گھمن خود اقرار کررہے ہیں کہ علیحدہ شہر اور گھر میں رہنے کی شرب خاتون کی طرف سے تھی اور گھمن صرف مہینے میں ایک بار جانے کا پابند تھا ، ایسے خاوند کے بارے میں ایک پانچ بچوں کی ماں کیسے اتنے شدید جذبات رکھ سکتی ہے کہ وہ کوئی اور شادی نہیں کرے گا ؟
    خاتون نے جو کچھ دیکھا ہے جو محسوس کیا ہے وہ سب بیان کردیا ہے ، اب یہ عدلیہ اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ گھمن کو گھیر کرحقیقت معلوم کرے اور یہ مشکل بھی نہیں انہیں اور ان کی بیوی کو پکڑے ریمانڈ لے دو چار گھنٹوں میں سب بک دے گا

    Reply
    1. 1.1

      tariq awan

      majid kareem khuda ka koof karoo aisay baghair solid saboot k beghair apna ghusa nikaal rahen hen app jab tak jurm sabit na hoo humain janib darana comments pass nahi krnay chahyay

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ