غیر سیاسی بلاگ

کتوں کے ایک گروہ نے ایک ہرن پر حملہ کردیا ۔ گروہ میں ظاہر بات ہے کہ طاقتور بھی ہوتے ہیں اور کچھ کمزور بھی۔ ہوا پھر یوں کہ ہرن کو مار گرایا گیا۔ گوشت کی بندر بانٹ شروع ہوئی تو کمزور کتوں نے ایک طاقتور کتے کو نشانے پر رکھ لیا اور اس کے چھینے ہوئے حصے کو چھیننے کی کوششیں شروع کیں۔ ایک کی دم دوسرے کے منہ میں اور دوسرے کا کان پہلے کے منہ میں۔

اس تاریخی واقعے کو حالیہ حالات کے تناظر میں دیکھتے ہوئے اگر ہم غور کریں تو ہمارا میڈیا بھی اسی کتوں کے گروہ کا روپ دھار چکا ہے جو پہلے مل کر شکار کرتا ہے اور بعد میں خود دست و گریباں ہو جاتا ہے۔

ایک اور حقیقت نما لطیفہ بھی احباب کو یاد ہو گا کہ جسن میں گاوؐں کا مراثی اپنے بیٹے کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ پورا گاوؐں بھی مر جائے تو کسی نے تمہیں چوہدری نہیں بنانے۔

شام چھ بجے سے رات بارہ بجے تک "ہل من مزید”کا نعرہ بلند کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ انہیں کسی نے گاوؐں کا چوہدری نہیں بنانا تو وہ گاوؐں والوں کی موت کی دعائیں ترک کردیں۔

واپس آتے ہیں کتوں کے گروہ کی طرف تا کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ "اگر ہمارے اعلٰی دماغ سونگھوں کو کالے چمڑے کی خوشبو پاگل کئے جا رہی ہے تو انہیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ گزشتہ روز ہونے والی قربانی نظام سیاست کی قربانی نہیں بلکہ ان کے حق اظہار کی اور صحافت کے عظیم اصولوں کی قربانی ہے۔

یاد رہے کہ کالا چمڑا زبان کی چمڑے کو سب سے پہلے اوئے اوئے سے اوئی اوئی میں تبدیل کرتا ہے۔ تو عوامی اور سیاسی مفکرین سے گزارش ہے کہ حالیہ تاریخ، اس کے کرداروں ، ان کرداروں کی خودپرستی پر محمول پالیسیوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جبر کو کو ذرا مدںظر رکھتے ہوئے نادیدہ چاپوں کے سنیں اور پھر ان چاپوں کو گونج میں تبدیل کرنے سے بچیں۔

بیگانی شادی میں عبداللہ کو دیوانے ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اور اشرافیہ کی لڑائی میں میڈیا (میڈیا سے میری مراد ہمارے صحافی دوست ہیں نا کہ مالکان )کو گھاس بننے سے بھی بچنا چاہئے۔کتوں والے واقعہ کی حالیہ سیاسی حالات سے مماثلت قطعاً اتفاقی نہیں ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے