About the author

سبوخ سید

سبوخ سید

سبوخ سید معروف صحافی ہیں ، ان کی آئی بی سی اردو پر شائع شدہ تمام تحاریر پڑھنے کے لئےنیچے دئیے گئے لنک پہ کلک کریں: سبوخ سید کی تمام تحاریر

2 Comments

  1. 1

    Imran Khan

    تحریر میں بار بار صحافیوں اور دیگر عملے کے بیروزگار ہونے کی کمزور دلیل پیش کی ہے آپ نے۔
    یا تو چیزیں ٹھیک ہوتی ہیں، یا غلط ہوتی ہیں۔ اگر ایگزیکٹ جعلی ڈگریوں اور فحش ویب سائیٹس کے کاروبار میں ملوث تھی، اور اسی کالے دھن کو بول کے ذریعے سفید کیا جانا تھا، تو دونوں کا بند مستقل بند ہونا ملکی مفاد میں ہے۔ بول کے اجرا معاملہ مستقبل سے متعلق فیصلے سے مربوط ہے، کہ آیا اس ملک میں ٹھیک اور غلط کے فرق کو قائم رکھنا ہے، یا دولت کے بل بوتے پر ہر غلط کو تسلیم کرنا ہے، ویسے ملک میں موجود دہشت گردوں کی تعداد بول اور ایگزیکٹ ملازمین کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے، فوجی آپریشن سے ان کا ذریعہ معاش یعنی دہشتگردی خطرے میں ہے، تو کیا آپریشن اس لیے بند کردیا جائے، ہزاروں دہشتگرد بیروزگار ہوجائیں گے

    Reply
    1. 1.1

      Waqar Ahmed

      بہت شکریہ عمران خان صاحب ، آپ نے صحافیوں کو دہشت گردی سے تشبیہ دی ہے۔ قصور آپ کا نہیں ، دراصل میڈیا نے بول اور ایگزیکٹ کے حوالے سے لوگوں کی اتنی برین واشنگ کی ہے کہ لوگوں کو وہی درست نظر آرہا ہے جو ٹی وی پر نظر آتا ہے یا اخباروں میں چھپ رہا ہے ۔
      جب ایف آئی کے ڈائریکٹر خودفرما رہے ہیں کہ انہیں بول یا ایگزیکٹ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تو محض الزام کی بنیاد پر اداروں کو بند کرنا، مالک کو گرفتار کرنا اور ہزاروں افراد کو بے روزگار کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔
      میں بھی ایک صحافی ہوں اور بول کے صحافیوں کی پریشانی سمجھ سکتا ہے ۔ اس سارے معاملے میں ان کا کوئی قصور نہیں ، مگر وہ سزا بھگت رہے ہیں ، کیونکہ آپ جیسے لوگ انہیں بھی ملزم قرار دے کر بے روزگار کرنا چاہتے ہیں ۔
      میرا صرف اتنا کہناہے کہ جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے کسی کو گرفتار کرکے ہتھکڑیوں میں جکڑ کر اس طرح رسوا نہیں کرنا چاہئے ۔
      میڈیا پر روزانہ درجنوں افراد پر چوری ،لوٹ مار، قتل و غارت اور بھارت سے رقم لینے جیسے الزامات لگتے ہیں ،ان کے خلاف کارروائی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *