About the author

سبوخ سید

سبوخ سید

سبوخ سید معروف صحافی ہیں ، ان کی آئی بی سی اردو پر شائع شدہ تمام تحاریر پڑھنے کے لئےنیچے دئیے گئے لنک پہ کلک کریں: سبوخ سید کی تمام تحاریر

25 Comments

  1. 1

    حافظ صفوان محمد

    یادوں کا ایک دریا تھا جس پر یہ بند باندھا۔ عبد اللہ حسین بہت دیر تک یاد رہیں گے۔ اللہ غریقِ رحمت کرے۔

    Reply
    1. 1.1

      Asrar ul Haq

      جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہيں
      حافظ صاحب، آپ نے مرحوم کو اچھے الفاظ سے یاد کرکے ‘فرض کفایہ’ ادا کر دیا۔ بہت بڑھیا۔

      Reply
      1. 1.1.1

        حافظ صفوان محمد

        بہت شکریہ سر۔ آپ کی محبت۔

        Reply
    2. 1.2

      احسن قریشی

      کہنے لگے سوچنا بھی تو ایک تخلیقی کام ہے اور اب میں پڑھ رہا ہوں۔۔۔۔۔
      اور پھر ایک مدت کے بعد:
      آج میں اپنے کندھے پر ان کا ہاتھ تلاش کررہا ہوں۔۔۔
      جب کندھے پر رکھے ہاتھ ہوتے ہیں تو فرصت نہیں ہوتی اور انسان فرصت نکالتا ہے تو ہاتھ نہیں ہوتا
      جانے کیوں میرے کندھے بھی خالی خالی ہیں
      اور
      پشت پر ایک تھپکی بھی نہیں
      بقول کسے پچھلے اگلوں کو مکنمل کرنے میں مصروف ہوتے ہیں اور ایک دن اگلوں کو نامکمل کرکے چلے جاتے ہیں۔۔۔۔اب ہم مکمل کرنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      Reply
      1. 1.2.1

        حافظ صفوان محمد

        جب کندھے پر رکھے ہاتھ ہوتے ہیں تو فرصت نہیں ہوتی اور انسان فرصت نکالتا ہے تو ہاتھ نہیں ہوتا۔ واقعی آدمی کو بیک وقت سب طرف تعلق رکھنا چاہیے۔

        Reply
  2. 2

    ناہید مرزا

    عبداللہ حسین پر ایک عمدہ تحریر صفوان صاحب !
    یہ آپ کی یادوں کے وہ سنہری جھروکے ہیں کہ جِن کی اوٹ سے ہمیں بھی عبداللہ حسین صاحب کی شخصیت کے کچھ پہلو نظر آئے ، یہی چھوٹی چھوٹی یادیں اور باتیں بڑے لوگوں کو دراز قامتی عطا کرتی ہیں ،اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے آمین ۔

    Reply
    1. 2.1

      حافظ صفوان محمد

      بے حد شکریہ ناہید مرزا۔ آپ کے کومنٹ کا مطلب زبان و بیان کی سند ہے۔

      Reply
  3. 3

    Usama Hameed

    عبداللہ حسین مرحوم کے حوالے سے ایک عمدہ تحریر۔مجھے آج سے صرف چند ماہ قبل عبداللہ حسین سے متعارف ہونے کا موقع ملا جب میں نے ان کا شاہکار ناول “اداس نسلیں” تین راتوں میں ختم کرڈالا۔یقیناََ اردو ادب کے دُرِ نایاب تھے عبداللہ حسین۔اور میرے لیے انتہائی حیرت کی بات یہ ہے کہ اداس نسلیں پڑھتے ہوئے بھی اور اس کے بعد بھی میں یہی سمجھتا رہا کہ مصنف کافی عرصہ قبل اللہ کو پیارے ہوچکے ہوچکے ہوں گے۔دو روز قبل فیس بک کھولی تو ان کی وفات کی خبر پڑھ کر علم ہوا کہ اردو ادب کا یہ شاہ بلوط تو اب ٹوٹ گرا ہے۔حافظ صفوان محمد صاحب نے انتہائی مختصر مگر جامع انداز میں عبداللہ حسین سے موسوم اپنی سنہری یادوں کو تازہ کیا ہے۔۔یہ بات پڑھ کے ہنسی آئی کہ عبداللہ حسین نے ان سے اپنے ناول کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ناول پڑھ کر مجھ پہ فتوٰی کیوں نہیں لگایا۔یقین مانیے اداس نسلیں پڑھتے وقت میری اپنی صورتحال یہی تھی کہ میرا ان پہ فتوی لگانے کا دل کر رہا تھا۔اگرچہ میں نے اسے جیسے تیسے ہضم کر ہی لیا لیکن اس کے چند فقرے میرے ذہن سے چپک کر رہ گئے مثلاََ: “یہ پسینا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لسی کی طرح بہتا ہے۔”
    بہرحال اللہ تعالٰی مرحوم کو غریقِ رحمت کرے اور اردو زبان و ادب کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔آمین

    Reply
    1. 3.1

      حافظ صفوان محمد

      اسامہ، بھائی عبد اللہ حسین ہمارے لیجنڈری ناول نگار ہیں۔ انھیں مکمل پڑھ لیجیے ایک بار۔

      Reply
  4. 4

    Usama Hameed

    عبداللہ حسین مرحوم کے حوالے سے ایک عمدہ تحریر۔مجھے آج سے صرف چند ماہ قبل عبداللہ حسین سے متعارف ہونے کا موقع ملا جب میں نے ان کا شاہکار ناول “اداس نسلیں” تین راتوں میں ختم کرڈالا۔یقیناََ اردو ادب کے دُرِ نایاب تھے عبداللہ حسین۔اور میرے لیے انتہائی حیرت کی بات یہ ہے کہ اداس نسلیں پڑھتے ہوئے بھی اور اس کے بعد بھی میں یہی سمجھتا رہا کہ مصنف کافی عرصہ قبل اللہ کو پیارے ہوچکے ہوچکے ہوں گے۔دو روز قبل فیس بک کھولی تو ان کی وفات کی خبر پڑھ کر علم ہوا کہ اردو ادب کا یہ شاہ بلوط تو اب ٹوٹ گرا ہے۔حافظ صفوان محمد صاحب نے انتہائی مختصر مگر جامع انداز میں عبداللہ حسین سے موسوم اپنی سنہری یادوں کو تازہ کیا ہے۔۔یہ بات پڑھ کے ہنسی آئی کہ عبداللہ حسین نے ان سے اپنے ناول کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ناول پڑھ کر مجھ پہ فتوٰی کیوں نہیں لگایا۔یقین مانیے اداس نسلیں پڑھتے وقت میری اپنی صورتحال یہی تھی کہ میرا ان پہ فتوی لگانے کا دل کر رہا تھا۔اگرچہ میں نے اسے جیسے تیسے ہضم کر ہی لیا لیکن اس کے چند فقرے میرے ذہن سے چپک کر رہ گئے مثلاََ: “یہ پسینا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لسی کی طرح بہتا ہے۔”
    بہرحال اللہ تعالٰی مرحوم کو غریقِ رحمت کرے اور اردو زبان و ادب کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔آمین

    Reply
  5. 5
    Sabookh Syed

    Sabookh Syed

    حافظ صاحب کا اظہار عقیدت بھی واقعی بہت دلکش اور خوبصورت ہے ۔
    اللہ عبداللہ صاحب اپنے سایہ رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔
    آمین

    Reply
    1. 5.1

      ڈاکٹر عاصم اللّہ بخش

      مجھے یہ اعتراف کرنے میں کچھ عار نہیں کہ میں نہیں جانتا تھا کہ عبداللہ حسین دراصل محمد خان ہیں۔ لیکن، میں تو اس سے بھی لاعلم تھا کہ اداس نسلیں کے خالق کی شخصیت کے اصل رنگ کیا ہیں۔

      حافظ صفوان صاحب نے ایک ذاتی تعلق کو حوالہ بنا کر جو نقشہ کھینچا ہے، بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ ملاقات ہونا چاہئے تھی۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی کہ بقول منیر نیازی، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔

      اللّہ تعالی محمد خان صاحب کے ساتھ شفقت اور آسانی کا معاملہ فرمائیں کہ اس کے بندوں کے پاس علم اور علمیت کا خزانہ چھوڑ آئے ہیں اور حافظ صاحب کے قلم میں اور بھی بہت برکت عطا فرمائیں ۔ آمین۔

      Reply
      1. 5.1.1

        حافظ صفوان محمد

        آپ کے کومنٹ سے دل باغ و بہار ہوگیا سر۔ بہت شکریہ۔

        Reply
    2. 5.2

      حافظ صفوان محمد

      سیدی آپ کی دعا چاہیے۔

      Reply
  6. 6

    Nosheen Fatima Abdulhaqq

    ایک ایسی شخصیت کے سامنے جس نے نہ صرف عبداللہ حسین صاحب سے کئی بار ملاقات کا شرف حاصل کیا بلکہ ان کے دست شفقت کے سائے تلے رہا مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے عجیب سی ندامت محسوس ہو رہی ہے کہ آج تک عبداللہ حسین کی کوئی تصنیف پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔اب ان شاء اللہ پہلی فرصت میں پہلا کام یہی کروں گی۔
    صفوان سر ! آپ کا جذبہ اور عبداللہ حسین سے قلبی وابستگی قابل داد ہے۔سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آپ زیادہ خوش قسمت ہیں جن کا تعلق عبداللہ حسین سے نہ صرف ان کی زندگی میں رہا بلکہ بعد الممات بھی اتنے اعلی انداز میں ان سے محبت ظاہر کرنے کا موقع ملا کہ عبداللہ حسین زیادہ خوش قسمت ہیں کہ انھیں آپ جیسے چاہنے والے ملے۔اللہ تعالی ان کی محبت آپ کے دل میں ہمیشہ کے لیے قائم رکھے !
    اور سر عبداللہ حسین کو غریق رحمت کرے ! ۔
    آخر میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ
    اجل نے نہ کسری ہی چھوڑا نہ کارا
    اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
    ہر ایک لے کے کیا کیا نہ حسرت سدھارا
    پڑا رہ گیا سب یونہی ٹھاٹھ سارا۔
    خوش رہیے۔

    Reply
    1. 6.1

      حافظ صفوان محمد

      جلدی سے پڑھ ڈالو ان کی سب کتابیں۔ آدمی کی اپنی لرننگ کے لیے ضروری ہے۔

      Reply
  7. 7

    تطہیر عزیہز

    ماشاء اللہ بہت عمدہ تحریر
    آپ نے بہت عمدگی سے یادوں کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر اُن کی شخصیت کو بیان کیا ہے ۔ یقیناََ آپ خوش نصیب ہیں جن کو عبداللہ حسین صاحب کی رفاقت نصیب ہوئی ۔

    Reply
    1. 7.1

      حافظ صفوان محمد

      بہت شکریہ تطہیر۔ تم بھی عبد اللہ حسین صاحب کے ناول پڑھ ڈالو۔

      Reply
  8. 8

    احمد بشیر طاہر

    کسی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنا اس طرح کے پڑھنے والا شخصیت کو اپنے سامنے پائے اور اس کا ہاتھ”اپنے کندھے پر ” محسوس کرے یہ ایک غیر معمولی صلاحیت ہے اور محترم حافظ صاحب نے واقعی حق ادا کر دیا۔

    اللہ عبداللہ حسین اور محترم حافظ صاحب کے والد گرامی کو اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ عطا فرمائیں۔

    Reply
    1. 8.1

      حافظ صفوان محمد

      میری خوش قسمتی کہ آپ نے توجہ فرمائی۔ عبد اللہ حسین بڑے آدمی تھے۔

      Reply
  9. 9

    عاصم بخشی

    میں خوش قسمت ہوں کہ عبداللہ حسین کا اہم ترین کام (ویسےتو ان کا سارا ہی کام اہم ہے) لڑکپن میں ہی پڑھ لیا۔ اس وقت کچھ سمجھ آیا اور کچھ اوپر سے گزر گیا۔ پھر شاید کافی عرصہ بعد ’اداس نسلیں‘ دوبارہ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو صحیح معنوں میں ان کی عظمت کا ادراک ہوا۔ اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے۔ آپ نے ان کے ساتھ جن ذاتی تعلقات اور وابستگیوں کا ذکر کیا وہ اب آپ کی نسبت سے ہماری بھی یادوں کا حصہ ہیں۔ اتنی اچھی یاداشتوں میں ہمیں بھی شریک کرنے کا بہت بہت شکریہ۔

    Reply
    1. 9.1

      حافظ صفوان محمد

      سر آپ آج جو کچھ علمی کام کر رہے ہیں، اس کی بنیاد میں وہ سب مطالعہ موجود ہے جو آپ نے کیا۔ اور اس میں عبد اللہ حسین کا بھی حصہ ہے۔ سلامت رہیے۔

      Reply
  10. 10

    محمد حسین

    برادر بزرگوار حافظ صفوان صاحب کے قلم سے ایک باکمال انسان کے بارے کمال کی تحریر پڑھ محظوظ بھی ہوا اور ایسے انسان ہم میں سے چلے جانے پر بہت مغموم بھی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے اور ان کے علمی و ادبی پسماندگان کو صبر کے ساتھ ان کے عظیم کاموں سے ہم نووارد متلاشیوں کو متعارف کرانے کی ہمت و توفیق عنایت فرمائے۔

    Reply
    1. 10.1

      حافظ صفوان محمد

      آپ کی کسرِ نفسی ہے بھائی حسین صاحب۔ ہم تو آپ کے خوشہ چین ہیں۔ سلامت رہیے۔

      Reply
  11. 11

    Nadeem Akhtar

    حافظ صاحب، مصروفیت کی وجہ سے آپکی یہ تحریر باوجود اسکے کہ پہلے دن سے ایک ٹیب میں کھول رکھی تھی آج پڑھ سکا ہوں۔ بلاشبہ آپنے اپنی ملاقاتوں پر ایک بہترین تحریر لکھی ہے، یقیناً عبداللہ حسین صاحب خوش ہونگے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے اور آپ کا زورِ قلم زیادہ کرے، آمین۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ