About the author

سبوخ سید

سبوخ سید

سبوخ سید معروف صحافی ہیں ، ان کی آئی بی سی اردو پر شائع شدہ تمام تحاریر پڑھنے کے لئےنیچے دئیے گئے لنک پہ کلک کریں: سبوخ سید کی تمام تحاریر

16 Comments

  1. 1

    Furqan

    جی اگر آصف علیزرداری اورمیاں صاحبکی طرف سے دعوت نامہ موصول ہو تو مولانا صاحب کو ضرور جانا چاہے-

    Reply
    1. 1.1

      حافظ صفوان محمد

      جی ایسا ہی کرنا چاہیے

      Reply
  2. 2

    احمد عباسی

    امید ہے کہ مولانا نے عمران کو جھوٹ اور بہتان بازی سے پرہیز کا کہا ہوگا۔

    Reply
    1. 2.1

      حافظ صفوان محمد

      ویسے تصویر میں تو عمران بڑے ادب سے بیٹھا ہوا ہے۔

      Reply
  3. 3

    محمد عثمان سیف

    بھت خوب حافظ صاحب ۔
    اللہ پاک ان ملاقاتوں کا ثمر بھت جلد عیاں کر دیں تاکہ یہ قوم پھر سے ایک مھذب قوم بن جائے ۔
    امید ھے مولانا نے ذاتی تعلقات کو استعمال کرتے ھوئے مفید مشورے بھی دئیے ھوں گے ۔

    Reply
    1. 3.1

      حافظ صفوان محمد

      جزاک اللہ مولانا۔ آپ حضرات کی توجہات نصیب رہیں تو امت کی نیا پار لگے۔

      Reply
  4. 4

    احسن قریشی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ایک ایسے فرد کی حیثیت سے عرض ہے جس کے خاندان کا تبلیغ سے تعلق 1942 سے ہے جب کہ میرے نانا عبدالمجید مرحوم نے وقت لگایا اور بعد ازاں 1947 کے لگ بھگ میرے والد ڈاکٹر مظہر محمود قریشی اس کام سے آشنا ہوئے۔
    تبلیغ میں ہر ایک سے ملنا ایک ہدف ہے اور شہرت سے بچنا ایک معیار۔۔۔اور دونون لازم ملزوم ہیں۔ اس لازم و ملزوم اصول کے بے حد فوائد ہیں۔
    تبلیغی بڑے ملتے تھے اور ہر ایک سے ملتے تھے ۔
    مطمع نظر تھا کہ اس کام کے اہل تلاش کئے جایئں۔
    ان سے ملتے تھے جو واقعی بڑے تھے جن میں علماء ،سیایسی رہنماء ، اور مشہور افراد جن کا تعلق کھیل اداکاری وغیرہ سے ہو لیکن کبھی کسی نے سنا یا کسی کے کان کو بھنک بھی پڑی سوائے ان چند ایک کیسسز کے جب کہ مشہور اشخاص خود ہی شہرت کے مقامات میں دکھائ دینے لگے۔ اس طرز عمل کو تبلیغی بڑوں نے کبھی پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔
    ماضی میں ایک وقت آیا کہ جب اسلامائزیشن کے سلسلے میں صدر مملکت جنرل ضیاء صاحب نے اس مجمع کی کثرت سے فائدہ اٹھانے کی خاطر یا کسی بھی ہدف کی خاطر جو ان کے ذہن میں تھا آنا جانا شروع کیا ۔
    بظاہر یہ ایک اہم پیشرفت تھی اور اس پر تبلیغی مجمع پھولا نہ سماتا لیکن قربان جائے تبلیغی بڑوں کے اخلاص پر کہ انھوں نے ملنا ملانا نہیں روکا ہر ایک کو خوش آمدید کہا لیکن ساتھ ساتھ تبلیغ کے مبارک کام کو سیاست اور اہل سیاست کی آلودگیوں سے پاک رکھا ۔کبھی کسی کی حمایت یا مخالفت میں کوئ بات نہیں کہی گئ ۔ اور نہ ہی کبھی اپنی جماعت کی شہرت بڑھانے کو اس کام کو میڈیا کے خونی ہاتھوں میں جانے دیا۔
    یہ وہ حکمت عملی تھی جس نے تبلیغ کے کام کو کبھی اغوا نہیں ہونے دیا ۔ آج تک، تھانوی صاحب ہوں یا حسین احمد مدنی ، مفتی محمود ہوں، مولانا فضل الرحمن ہوں یا قاضی حسین احمد مرحوم، بے نظیر بھٹو مرحومہ ہوں یا نواز شریف اور شیخ رشید ہوں یا جنرل جاوید ناصر یا کوئ اور لیڈر ، کسی بھی قسم کی سیاسی جماعت ہو ، مذہبی جماعت یا مسلکی فریق، سب کے ساتھ ایسا نباہ کیا کہ ہر کوئ تبلیغ کو اپنا جانتا ہے ۔اس ضمن میں ایک سیاسی لیڈر کا انتخاب تبلیغ سے منسلک ہر شخص کی انفرادی بات رہ گئ نہ کہ تبلیغی جماعت کا اجتماعی فعل اور ان کی منشاء۔
    آج جب میں افق پر نمودار ہوتے اس نئے منظر کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ بعینہ وہی کچھ ہوتا نظر آتا ہے جو پہلے ہوا۔ میں کہ سکتا ہوں کہ استاد محترم مولانا طارق جمیل مد ظلہ کی اس ملاقات کے دو پہلو ہیں۔ اول پہلو مولانا کا مطمع نظر ہے اور دوسرا پہلو نیازی صاحب کا ہدف
    1۔ ملاقات بغرض تبیلغ تو یہ بعینہ ہدف تبلیغ کا ایک حصہ ہے۔
    2۔ دوسرا رخ وہ ہے جو ایک سیاسی لیڈر کی مجبوری ہے۔ ایک ایسے لیڈر کی مجبوری جسے اس حلقے کی خصوصا اور دینی حلقے کی عموما حمایت درکار ہے ۔
    چنانچہ تمام پی ٹی آئ اور تبلیغ، ہر دو سے معذرت کے ساتھ، یہ تبلیغ کے مبارک کام کو اغوا کرنے کی کوشش ہے ، ویسے ہی جیسے پہلے بھی کی گئ۔
    یہ تصویر کا وہ رخ ہے جس کی جانب توجہ کرنا بے حد ضروری ہے۔۔ خصوصا جس انداز سے میڈیا اور پھر سوشل میڈیا میں اس خبر اور اس سے منسلک تصاویر کی تشہیر ہوئ یہ تبلیغی کام کی روح کے برعکس ہے۔
    ہمارے تبلیغی بڑے سب سے ملتے تھے خصوصا ایسے ایسے سربراہ مملکت جیسے جنرل ضیاء وغیرہ ۔۔۔۔۔کیا کبھی کسی کے کان بھنک بھی پڑی۔۔۔
    کیا اب پی پی پی اور باقی کے لوگ اس قابل نہیں رہے یا ہم ان کو خارج کر چکے۔
    یہ کیا ہوا کہ آپ گئے اور آپ کے جانے سے ایک لیڈر کی لیڈری کی توثیق ہو گئ اور گویا باقی سب خارج ہو گئے۔ آپ ملتے اور کسی کے کان میں بھنک نہ پڑتی۔ تصاویر سے روکتے۔ یہ سب آپ کے بس میں تھا اور ہے۔
    پچھلے زمانے کے علماء بچتے تھے کہ کسی ایک لیڈر کے ساتھ جھکاؤ کی کوئ شکل عوام کو نظر نہ آئے ۔ اس کا فائدہ تھا۔ لیکن جناب اب دنیا ہے گلیمر کی اور اس سے ہی اثر لیا جاتا ہے کیا اس سے پہلے بھی کبھی 1926 سے لے کر آج تک ایسا کوئ وقوعہ ہے جو کوئ تبلیغی بھائ مثال کے طور پر بیان کرے سوائے چند اشخاص کے ، جو کہ میری رائے میں موجودہ زمانے کی ہوا ہے؟
    میرا کہنا یہ ہے کہ جب آپ اپناجھکاؤ ایک طرف دکھایئں گے تو توثیق تو ہو گی کہ فلاں سیاسی لیڈر ہی درست ہے اور اس کی وجہ آپ کے اور ان کے، ہر دو کے محبین کا اجتماع ہو گا ایک بات پر۔ اور اس طرز عمل سے دوسرے لوگ اپنے تیئں اجنبی محسوس کریں گے۔
    نشر مکرر کے طور اپنی بات کو سمیٹتا ہوئے لکھتا ہوں کہ:
    1۔ یہ جو کچھ بھی آج کا منظر ہے تبلیغی ترتیب کے برعکس ہے اور نقصان دہ ہے۔
    2۔ تبیلغ کبھی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک نہیں ہوئ۔اس کی بڑی وجہ شہرت سے بچنا ہے ۔ اور سب کو اپنا بنانا ہے نا کہ اجنبی۔
    3۔یہی وجہ ہے کہ باوجود ماضی میں مختلف لیڈران کی کوششوں کے باوجود کبھی بھی تبلیغ نے کسی لیڈر کی حمایت کا اعلان الفاظ یا تصاویر کے ذریعے نہیں کیا ۔۔۔۔۔اور یہی وجہ ہے تبلیغ کے غیر متنازع چلتے رہنے کی
    4۔ اور یہی وجہ ہے آج تک اس کام میں ہر قسم کے سیاسی مخالفیں کے اکٹھے ہو جانے کی۔
    اس کا عظیم الشان اور عملی ثبوت کسی بھی اجتماع میں خواص کے حلقے میں اور علماء کے حلقے میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
    آخر میں درخواست ہے کہ اس تمام گفتگو میں میری طرف سے کمی کوتاہی کو معاف کیا جائے اور اس بات کو سمجھا جائے جو بیان کرنے کی سوز دل سے کوشش کی۔

    Reply
    1. 4.1

      حافظ صفوان محمد

      جزاک اللہ مفتی صاحب۔ آپ نے بہت درد کے ساتھ تبلیغ کے کام اور صرف کام کے بارے میں بڑوں کا نقطہ نظر پیش فرمایا۔ اس میں سیکھنے کی کئی باتیں ہیں۔ اللہ کام اور کام والوں کی حفاظت فرمائے۔

      Reply
  5. 5

    احمد بشیر طاہر

    بہت خوب۔ مثبت اور تعمیری پیرایہ
    احسنت حافظ صاحب

    بندے کا دل اللہ کے دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ اللہ جب چاہیں جس کا چاہیں دل پھیر دیتے ہیں۔ اللہ مولانا کی مخلص سعی کو قبول فرمائے۔

    Reply
    1. 5.1

      حافظ صفوان محمد

      جزاک اللہ سر۔ مولانا طارق جمیل صاحب نہایت فہیم اور زیرک آدمی ہیں۔ اللہ ان سے اور کام لے لے۔

      Reply
  6. 6

    مجتبی شہزاد

    بھت عمدہ حافظ صاحب. اس وقت عالم اسلام کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص مولانا طارق جمیل صاحب جیسے صاحب فراست اور درد دل رکھنے والے داعیوں کی ضرورت ہے جو ہر قسم کے مسلکی تعصبات اور سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر اس دین کی روشنی سے لوگوں کو روشناس کرائے جس کی پہلی کرن حرا پہاڑ کی چوٹی سے طلوع ہوئ تھی.

    Reply
    1. 6.1

      حافظ صفوان محمد

      داعی کے عمل کو فقہ کی ترازو سے نہین تولنا چاہیے۔ مولانا کی خدمات بہت وسیع ہیں۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔

      Reply
  7. 7

    آفتاب احمد

    آفتاب احمد
    مولاناطارق جمیل کی دین اسلام اوراس کے تبلیغ کے لئے دردمندی ،اخلاص اورجذبےمیں کوئی شک نہیں تاہم ان کاطریقہ کارتبلیغی بزرگوں سے مختلف ضرورہے جیساکہ کہا گیاہے کہ بزرگ شہرت یاخواص سے تعلق کوپسندیدگی کی نظرسےنہیں دیکھتے مولاناطارق جمیل کی کئی ٹی وی چینلزپربیانات کوکس نظرسے دیکھاجارہاہے کیونکہ ایسابھی تبلیغ کی تاریخ میں نہیں ہواکہ ٹی وی ،ویڈیوبازی اوراس سے متعلقہ امورکواس حوالےسےاستعمال نہیں کیاجاتایہانتک کہ تبلیغی اجتماع میں باجماعت نمازکےلئےتولاوڈسپیکرکااستعمال تک نہیں کیاجاتاجس سے کئی مرتبہ باجماعت نمازبروقت تکبیرات کی آوازنہ پہنچنےکی وجہ سے خراب بھی ہوچکی ہے۔

    Reply
    1. 7.1

      حافظ صفوان محمد

      بہت شکریہ سر۔ آپ نے دردِ دل سے بات کی۔
      لیکن شاید آپ کو رائے ونڈ اجتماع میں گئے بہت وقت ہوگیا ہے۔ 1997 کے اجتماع سے نماز لاؤڈ سپیکر پر ہوتی ہے۔

      Reply
  8. 8

    Dr Irfan Shahzad

    good step and well appreciated

    Reply
    1. 8.1

      حافظ صفوان محمد

      Thank you for feedback sir.

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ