About the author

سبوخ سید

سبوخ سید

سبوخ سید معروف صحافی ہیں ، ان کی آئی بی سی اردو پر شائع شدہ تمام تحاریر پڑھنے کے لئےنیچے دئیے گئے لنک پہ کلک کریں: سبوخ سید کی تمام تحاریر

2 Comments

  1. 1

    حافظ صفوان محمد

    عمل اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس نے کتنے ہی انقلابات کی راہیں لامحدود کر دیں۔ کیا شاندار قولِ زریں ہے۔ واہ واہ۔ بہت اچھی تحریر۔

    Reply
  2. 2

    احسن قریشی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
    مانا کہ تقدیر کی برائ نکال کر سہل پسندی ہمارا عمومی دستور بن چکا لیکن یہ بات بھی تومعلوم ہو کہ تقدیر اور تدبیر ہے کیا اور ان کا آپس میں کوئ ربط ہے بھی یا نہیں
    آسان زبان میں تقدیر اللہ کے علم ازلی کا نام ہے جو کبھی بڑھ نہیں سکتا اور کم نہیں ہو سکتا۔۔چونکہ اللہ ہمیشہ سے ہے تو اس کی تمام صفات بشمول علم کے وہ بھی ہمیشہ کی ہیں اور کامل ترین ہیں۔ اس کا علم محیط ہے اس کایئنات کے ذرے ذرے کو جس میں ہم آپ بھی شامل ہیں۔ اس کے علم میں بڑھوتری ناممکن کہ علم اس کا بڑھتا ہے جس کا علم پہلے کبھی کم ہو۔ اسی طرح کمی بھی ناممکن ہے کہ گویا اللہ بھول گیا تھا یا اسے نسیان ہو گیا تھا جیسا کہ انسان کا علم کم ہو جاتا ہے۔ ہمارے تمام افعال اعمال نام رزق وغیرہ کو وہ ہمیشہ سے جانتا ہے۔
    ہم سے اس نے وعدہ لیا جس کو وعدہ الست کہتے ہیں اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا رب میں ہی نہیں؟ جواب سب نے دیا وہ یہ تھا کہہ ” کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں”۔ اس کے بعد امتحان شروع ہوا کہ کون اس کو عالم امتحان میں بھی مانے گا اور کون نہیں مانے گا۔
    ایک اہم نکتہ یہ ہے کوئ انسان مجبور نہیں بنایا گیا لیکن سب کے بارے اللہ کو یہ بھی پتا ہے کہ کون اصل سوال کا جواب صحیح صحیح تیار کرے گا اور کون روگردانی کرے گا۔اس نے اپنے علم کو انسان پر ” مجبور محض “کی طرح لاگو نہیں کیا بلکہ بااختیار بنا کر زمین میں اتارا۔ اگر اختیار کلی نہ ہو تو جزاء و سزا چاہے دنیاوی ہو یا اخروی سب بیکار کی فضول بات ثابت ہوتی ہے اور عقیدہ وحدت الوجود والوں کی بات جیسا کہ وہ آج کل کہتے ہیں کہ اللہ سزا دے گا تو اپنے آپ کو دیگا ہم تو اس کا جزو ہیں، ثابت ہوتی ہے۔
    رہی بات اس کی کہ کیا ہم اپنے اعمال کے ذمے دار ہیں یا نہیں تو یہی درست ہے کہ آپ اپنے کئے کے سو فیصد ذمہ دار ہیں
    یہ بات اللہ نے کہیں نہیں کی خود لوگوں نے گھڑی کہ انسان مجبور ہے
    اس کی ایک عمدہ تفصیل یہ ہے کہ پاگل کو سزا نہیں ، اس لئے کہ اس کا کوئ فعل اس کے اسکے اختیار کے تابع نہیں ۔ اسی طرح بچہ صاحب اختیار نہیں ۔ اور اسی طرح سویا ہوا یا بے ہوش صاحب بھی اختیار نہیں ۔ گویا یہ لوگ اسی بنا پر مرفوع القلم کہلاتے ہیں۔ ( تھانوی صاحب نے خصوصا اختیاری عمل اور غیر اختیاری عمل پر بحث کی ہے اللہ ان کو ہمیشہ خوشی دے) ایک اور مثال :
    ایک استاد اور شاگرد کا معاملہ یوں اختتام پذیر ہو کہ استاد کہے کہ مجھے پتا تھا تو یہی کرے گا۔۔۔۔بتایئے کہ کیا اس استاد کیے اس قول کی وجہ سے شاگرد کو یہ سننے کا موقع آیا؟
    اسی مثال کو ایک والد اور اس کے بیٹے پر رکھ کر دیکھ لیں۔
    اب بات ہو جائے تدبیر کی تو عرض ہے کہ تدبیر انسان کے لئے اللہ ہی نے بنائ اور اس کو استعمال کرنا اس عالم اسباب کا جزو لازمی ہے ۔ دلچسپ اور سمجھنے کی بات یہ ہے یہ تدبیر بھی اللہ کے احاطہ علم سے باہر کی چیز نہیں ۔ تدبیر تو انسان کے عمل کی چیز ہے جس کی طرف عقل رہنمائ کرتی ہے اورمزید یہ کہ تدبیر مخلوق ہے نہ کہ اللہ کے علم کی طرح خالق کی صفت ۔۔۔آپ تدبیر جتنی مرضی اختیار کریں اللہ کو کوئ اعتراض نہیں کہ اربوں کھربوں کی تعداد میں آپشنز موجود ہیں لیکن یہ بھی اللہ کا علم ازلی ہے کہ کون سا انسان کیا تدبیر اختیار کرے گا اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا ۔
    آخر میں کہوں گا اس بات کو سمیٹتے ہوئے کہ تقدیر اور تدبیر آپس کے مقابلے کی چیز ہے ہی نہیں بلکہ ایک چیز کا تعلق انسان کے اندازے اور دوسری چیز کا تعلق اللہ کی ذات و صفات میں سے ایک صفت “العلیم ” سے ہے۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب و علمہ اتم و اکمل

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ