About the author

سبوخ سید

سبوخ سید

سبوخ سید معروف صحافی ہیں ، ان کی آئی بی سی اردو پر شائع شدہ تمام تحاریر پڑھنے کے لئےنیچے دئیے گئے لنک پہ کلک کریں: سبوخ سید کی تمام تحاریر

16 Comments

  1. 1

    Seth D

    a soul searching article.
    while we take pride in conquering more minds, we hate to admit or are ignorant that we are loosing alot more that what we are gaining.
    all this is just one generation away from total disaster.
    with teh tech n media revolution. people have started to ask questions.. we indeed need moderate n enlightned people else, we might regret later on

    Reply
  2. 2

    حافظ صفوان محمد

    میں نے ڈاڑھی بھی اس لیے نہیں بڑھائی کہ متشدد نہ لگوں اور نہ میں نے عربی لباس اختیار کیا ہے. میں نے چار مہینے بھی اس لیے نہیں لگائے تھے کہ اس کے لیے پاکستان اور ہندوستان آنا پڑتا ہے۔

    Reply
  3. 3

    ناصر محمود

    حنیف کا درد وہ لوگ بہتر سمجھ سکتے ھیں جو خود اقلیت کے طور پر (مثلا غیر ملک میں ) تعصب کا شکار رہے ھوں

    Reply
    1. 3.1

      حافظ صفوان محمد

      بے شک۔ اقلیت میں ہونا وہ وہ کچھ سکھاتا ہے جسے ہم پاکستانی لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ بہت اہم نکتہ ارشاد فرمایا جناب۔ جزاک اللہ۔

      Reply
  4. 4

    محمد عثمان سیف

    حافظ صاحب کمال کر دیا آپ نے ۔ اللہ آپ کی علم و عمر میں برکت دے اور مزید ترقیات سے نوازے ، آمین ۔۔۔

    Reply
    1. 4.1

      حافظ صفوان محمد

      جزاک اللہ عثمان بھائی۔ اللہ ہمارے اندر نبوی اخلاق کو زندہ کرے۔ آمین

      Reply
  5. 5

    Taseen Afaq

    خﻠﯿﻞ ﺟﺒﺮﺍﻥ نے بڑی پیاری بات کہی تھی کہ “ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﮯ ، ﺟﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﮐﭽﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺯﺍﺩ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔”
    لو یو حافظ صاحب

    Reply
    1. 5.1

      حافظ صفوان محمد

      جی بھائی تسعین، ایک آدمی صحیح مسلمان ہے اور ہر کچھ بعد کوئی گروہ اسے بار بار کلمہ پڑھنے اور ایمان کا اظہار کرنے کے لیے کہتا ہے تو آپ سوچیے کہ اس کین کیا کیفیت ہوگی؟ اللہ معاف کرے۔

      Reply
  6. 6

    Hassan Shah

    بہت اعلی بہت بخوب حافظ صاحب !
    یہی وہ رویے ہیں جنہیں آج ہمیں اپنانے کی ضرورت ہے ، اور یہی اسوۂ رسول ‎ﷺ‎‬ بھی ہے کہ گم کردہ راہوں کو بائیکاٹ اور نفرتوں کی نہیں ، بلکہ محبتوں ، آفتوں اور ہمدردی سے ہی راہِ راست کی دعوت دینی چاہیئے۔
    سدا سلامت رہیں ۔

    Reply
    1. 6.1

      حافظ صفوان محمد

      آپ دعا کر دیا کریں۔ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو جو آسان ہدف ہوں، پہلے ان پر کام کریں۔

      Reply
  7. 7

    محمد فیصل ندیم مدنی

    اسلام علیکم یا اھل الالسلام
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام محبت ، اخوت اور روادری کا عالمی مذہب ہے اس جیسا مذہب کوئی اور دوسرا ہو ہی نہیں سکتا ۔ لیکن
    آپ اس بات کا نظر انداز ہرگز مت کریں کہ اسلام کا ایک باقاعدہ قانون اور ضابطہ ہے جو جنگ کے میدان سے فرائض کی ادائیگی تک اور سنت رسول ﷺ سے لے کر عام زندگی گزارنے تک سب پہ لاگو ہیں ۔ اس واقعے نے جہاں بہت ساری غلطیوں کی نشاندہی کی ہے وہاں ایک سادہ لوح مسلمان کے ذہن میں اشکال بھی پیدا ہونا ضروری امر ہے کہ کسی بھی فرد کے ساتھ سماجی رابطہ توڑنا ناجائز اور غلط ہے ۔
    تو محترم سب سے پہلے کفر کی اقسام کا مطالعہ کر لیا جائے جو تمام مسالک کے مابین متفق علیہ ہو جیسے کا فر کی تعریف پھر مرتد کی تعریف اور اسی طرح زندیق کی تعریف
    محترم کافر اپنے آپ کو عیسائی ، یہودی ، سکھ کہتا ہے اور مسلمانوں کو مسلمان کہتاہے ان کے بارے حکم یہ ہے کہ یہ اگر حربی کافر یعنی جنگجو نہ ہوں تو ان سے لین دین جائز ہے یہاں تک کہ ان کی اہل کتاب مزاہب کی پاک دامن عورتوں سے نکاح بھی جائز ہے ۔ مرتد وہ ہے جو اسلام کو ترک کر دے اس کے ساتھ حکومت کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ تین دن کی مہلت دے اگر وہ اسلام قبول کر لے تو ٹھیک وگرنہ اس پر اسلامی حدود نافذ کرے ۔تیسرا زندیق یہ کفر کی ایک ایسی قسم ہے جس کےساتھ کسی بھی قسم کا معاملہ جائز نہیں ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو اسلام کے لبادے میں چھپا کر عوام کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس کی وجہ سے سادہ لوح لوگوں کا اسلام کے نام پر قادینت قبول کرلینا بھی قابل تشویش عمل ہو گا ۔ اس پر بہت سارے واقعات شاہد ہیں کہ 127چک سرگودھا میں باپ نے اس لئے اپنے قادیانی دوست سے تعلق رکھے کہ وہ اسلام قبول کر لے گا لیکن اس کی موت آگئی اور اس کے بعد اس کے تین بیٹوں نے قادیانیت قبول کر لی (نعوذبااللہ) اس طرح بہت سارے واقعات ہیں جن کی ایک طویل فہرست بنائی جاسکتی ہے ۔
    محترم قادیانیوں سے بائیکاٹ یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔
    باقی رہا سوال کے اس کے پاکستان رہنے سے اس کی اور اس کی بہنوں کی شادی نہیں ہو سکتی ہے تو اس کے لئےایک باقاعدہ سسٹم متعارف کروایا جائے جو اسلام قبول کرنے والوں کے تحفظ اور ایک کی ضروریات اس کے اسٹیٹس کے مطابق پوری کرے ۔
    الحمداللہ ایک ادارہ بیداری امت ٹرسٹ اس عنوان پہ مکمل جدوجہد میں مصروف عمل ہے باقی اللہ ہمت و طاقت اور اسباب مہیا کرے تاکہ یہ سسٹم جلد سے جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے اور حنیف صاحب کی طرح شکوہ کرنے کا کسی کو موقع ہی نہ ملے
    جزاک اللہ الخیراً

    Reply
    1. 7.1

      حافظ صفوان محمد

      اللہ سے دعا ہے کہ آپ کا ذکر کردہ ادارہ جلد اپنے مقاصد کو لے کر عام لوگوں میں پہنچے اور گھروں میں بیٹھے بال سفید کرتی بیٹیوں کا مسئلہ حل کرے۔ آمین۔

      Reply
  8. 8

    Nosheen Fatima Abdulhaqq

    زمانے کے خداؤں سے مجھے اب سخت نفرت ہے ۔
    افسوس کہ ہم خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں , اسلام کے محافظ بھی سمجھتے ہیں اور خود ہی اسلام کو بدنام کرنے پہ تلے ہوئے ہیں ۔
    آج اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم کسی کے سامنے کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہے ۔
    لوگ ہم میں اسلام دیکھتے ہیں , اور ہم اسلام کا صحیح رخ دنیا کو دکھانے میں بری طرح ناکام واقع ہوئے ہیں ۔ آج حالت یہ کہ کسی کو بندہ کوئی نصیحت کرنے کی کوشش بھی کرے تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ پہلے اپنے اعمال تو درست کرو ۔ انسانیت کے درس کے بغیر مذہب بےمعنی ہے اور اسلام تو ہے ہی انسانیت کا دوسرا نام ۔ مسلمان ہونے کے لیے انسان ہونا ضروری ہے ۔
    بہت عمدہ واقعہ شئیر کیا آپ نے سر ! اللہ تعالی جزائے خیر دے ۔
    اللہ امت کو ہدایت دے ۔ آمین !

    Reply
    1. 8.1

      حافظ صفوان محمد

      سلامت رہو۔

      Reply
  9. 9

    حافظ اکرام عربی

    حافظ صاحب ہمیشہ آپ کی تحریر پڑھ کر سکون ملتا ہے کہ آپ نبوی طریقہ سے اصلاح کا کام کرتے آئے ہیں سچی بات ہے کہ آج لوگوں کو اسلام کے زریں اصولوں سے دور کرنے والا ہمارا اپنا رویہ ہے اللہ کریم آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔اور تمام مبلغین کو ایسا ہی درد دل عطا فرمائے۔اللھم زد فزد آمین

    Reply
    1. 9.1

      حافظ صفوان محمد

      جزاک اللہ حضرت۔ آپ کی تشجیع ہمیشہ ہمت بندھاتی ہے۔

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ