ابوالکلام آزاد ۔۔۔ حریت کا امام، آزادی کا مجاہد اور فرزند تہذیب

ابوالکلام آزاد علم دوست، حریت پسند اور قوم پرست مسلمان رہنما تھے۔ زندگی کا سفر 1888ء میں شروع ہوا۔ عملی زندگی کا آغاز 1904ء ہی سے ہو گیا تھا۔ 1923ء ، 1930ء اور 1939ء میں آل انڈیا نیشنل کانگرس کے قائم مقام صدر مقرر کیے گئے۔ 1940ء میں کانگرس کے صدر منتخب ہوئے اور مسلسل 1946ء تک ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ رہے۔ صحافت میں ہفتہ وار الہلال (1912ء ) اور ہفتہ وار البلاغ (1915 ) جاری کیے جو اردو صحافت کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خطیب تھے تو بے مثل، رولٹ ایکٹ کے خلاف کراچی کی ایک عدالت میں جو بیان دیا، وہ قول فیصل کے نام سے لوح تاریخ پہ ثبت ہے۔ قلم اٹھایا تو اردو نثر کے شاہکار ’غبار خاطر‘ اور ’تذکرہ ‘ ان کی تراوش فکر کے معمولی نمونے ہیں۔ علم قاموسی اور بیان کی فصاحت ضرب المثل، دینی علوم کی غواصی کی تو تفسیر قران میں ایسے موتی دریافت کیے جن کی آب اہل علم کے لیے کحل جواہر قرار پائی۔ مولانا آزاد بیس برس کی عمر میں آزادی کی تحریک میں شامل ہوئے تھے۔ قید و بند کا جو سلسلہ رانچی (بہار) سے شروع ہوا تھا، قلعہ احمد نگر میں 1945ء میں ختم ہوا۔ کل عمر 68 برس اور سات ماہ۔ اس میں 9 برس اور 8 ماہ انگریز کی قید کاٹی۔ گویا عمر عزیز کا ہر ساتواں روز جیل میں کٹا۔

جسے مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت میں شک ہو وہ ’انڈیا ونز فریڈم‘ پر ایک نظر ڈال لے۔ نہرو ہوں یا پٹیل، گاندھی ہوں یا جناح، مولانا کی رائے نپی تلی لیکن کوئی ایک لفظ شرافت سے گرا ہوا نہیں۔ کوئی ایک جملہ نہیں جو توازن اور حقیقت سے خالی ہو۔ سچ پوچھیے تو مولانا نے اس تصنیف میں جسے آزادی ہند کے بنیادی ماخذ میں سرفہرست شمار کیا جاتا ہے، سب سے کڑا احتساب خود اپنی ذات کا کیا ہے۔ سیاسی مکالمے کی معروف روایت میں مولانا کے نقطہ نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مولانا آزاد عملی سیاست کے جوڑ توڑ سے ماورا نہیں تھے۔ تاہم مولانا کی حریت، بصیرت، دیانت، علمی حیثیت، وضعداری اور خودداری میں کلام نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کے سیاسی کیریئر پر یہ ایک بدنما نشان ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ کی مذہبی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے کانگرس کو ہندو جماعت قرار دینا چاہا تو محی الدین ابوالکلام آزاد کو کانگرس کا ’شو بوائے‘ قرار دیا۔ مولانا کو اس قسم کے حملوں کا جواب دینے کی عادت تھی نہ تاب۔ مولانا نے اپنی تصنیف India Wins Freedom میں حیران کن طور پر قائداعظم محمد علی جناح کو ایک سے زیادہ مقامات پر نہ صرف یہ کہ اچھے لفظوں میں یاد کیا ہے بلکہ متعدد امور میں ان کے نقطہ نظر کی تحسین کی ہے۔ مسلم لیگ کی قیادت نے جس سیاسی ثقافت کو آگے بڑھانا چاہا، اس کے مقتدی اس طرز کلام کو اس نہج پر لے گئے جو شاید قائداعظم محمد علی جناح کو بھی پسند نہ آتی۔

ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ مسلم سیاست کے بڑے بڑے غم خوار کروڑوں مسلمانوں کو ’ہندو اکثریت‘ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر پاکستان چلے آئے۔ اس موقع پر اکتوبر 1947ء میں جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا ،

”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش و نگار تمہیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا، انہیں بھلاﺅ نہیں، انہیں چھوڑو نہیں، ان کے وارث بن کر رہو اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔ آﺅ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اس کے لیے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے“۔

یو پی سے پاکستان جانے والے ایک گروہ سے گفتگوکرتے ہوئے فرمایا، ”آپ مادر وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں آپ نے سوچا اس کا انجام کیا ہو گا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہو جائیں گے اور ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جداگانہ حیثیتوں کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی ، سندھ، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل قومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اس وقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے کسی کی نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کا مذہبی مخالف تو ہوسکتا ہے ، قومی مخالف نہیں۔ آپ اس صورت حال سے نمٹ سکتے ہیں۔ مگر پاکستان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اور وطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ جائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہو جائیں گے“۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں گیسوئے اردو کو سنوارنے والے ادیبوں میں مختار مسعود کا نام بہت اوپر آتا ہے۔ جملے کی تراش خراش،لفظوں کی موزونیت، اعلیٰ انسانی بصیرت اور حرمت تحریر میں مختار مسعود کی تصانیف ’آواز دوست ‘اور ’سفر نصیب ‘ درجہ اول کے نمونوں میں گنی جاتی ہیں۔ افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ سفر نصیب میں جہاں ابوالکلام کا ذکر آیا ، مختار مسعود خود اپنا ہی معیار قائم نہیں رکھ پائے۔ لکھتے ہیں ”علی گڑھ ریلوے سٹیشن پر جب طلبا نے مولانا (آزاد) کے ساتھ گستاخی کی تھی ان دنوں میں بھی طالب علم تھا اور اس گروہ میں شامل تھا جو کمک کے طور پر سٹیشن پر پہنچا تو گاڑی چھوٹ چکی تھی۔ مجھے دیر تک اس موقع کے ہاتھ سے نکل جانے کا افسوس رہا“۔

مختار مسعود جس واقعے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، مرحوم فاروق قریشی کے الفاظ میں ”کچھ گستاخ ہاتھ مولانا کی ریش تک پہنچ گئے“۔ اس واقعے کا اعادہ خوشگوار نہیں لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ لیاقت علی خان قیام پاکستان کے بعد لاہور کے ایک جلسہ عام میں بطور وزیراعظم خطاب کرنے آئے تو مسلم لیگ کے کچھ مقامی فرستادہ جانثاروں نے عین ڈائس کے سامنے لباس زیریں سے بے نیاز ہو کر رقص فرمایا تھا۔

پروفیسر محمد سرور اپنی تصنیف ’تحریک پاکستان کا ایک باب‘ میں لکھتے ہیں کہ فضل الٰہی چودھری ( تب سپیکر مغربی پاکستان اسمبلی، بعد ازاں صدر پاکستان) مولانا ابوالکلام آزاد سے دہلی میں 1956ء میں اپنی ملاقات کے حوالے سے بتاتے تھے کہ مولانا نے دیگر امور کے علاوہ انھیں مدبرانہ نصیحت کی تھی کہ پاکستان میں بار بار انتخابات کرائیے۔ جمہوریت کی کمزوری کا انتخابات کے سوا کوئی علاج نہیں۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ اہل پاکستان کو سمجھائیے کہ عصر حاضر میں سرکاری اہلکاروں کا سیاسی مناصب پر فائز ہونا مباح نہیں سمجھا جاتا۔ واضح رہے کہ اس وقت تک غلام محمد گورنر جنرل، چودھری محمد علی وزیراعظم، جنرل ایوب خان وزیر دفاع اور سکندر مرزا صدر پاکستان کے مناصب پر مختلف اوقات میں فائز رہ چکے تھے۔ مولانا آزاد سیاسی قیادت پر سرکاری اہلکاروں کی بالادستی کے مضمرات سمجھتے تھے۔ آج پاکستان میں کون ہے جو سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکے کہ مولانا آزاد کی یہ نصیحت بدنیتی پر مبنی تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے