About the author

3 Comments

  1. 1

    محمد عثمان سیف

    حافظ صاحب نے عین وقت پر بھترین اور مفید باتیں لکھی ھیں ۔ اس وقت ملک میں آئی ڈی پیز کا مسئلہ بھی زیر بحث ھے اور 1 دن پھلے فیصلہ کیا گیا ھے کہ افغان مھاجرین کی پاکستان میں قیام کو 2 سال کی مزید توسیع دے دی گئی ھے ۔
    یقینا ھمارے لئے یہ فیصلہ مشکل تھا کیونکہ اس وقت ملک سیکیورٹی اور معاشی حالات میں الجھا ھوا ھے ۔ 2 دن پھلے ھماری سٹاک مارکیٹ کا جو حال ھوا ھے وہ کسی سے چھپا ھوا نھیں ھے مگر ھماری حکومت نے افغان مھاجرین کے ساتھ مواخاۃ کا بھترین فیصلہ کیا ھے ۔

    Reply
  2. 2

    احسن قریشی

    اصل میں مؤاخات ایک سیای فیصلہ ہے ( یہ یاد رکھیں کہ سیاست بہترین تدبیر کو کہتے ہیں) لیکن اس کی بنیاد اگر میں تآلیف قلب سے جوڑوں تو بات شائد سب علماء کو زیادہ قابل قبول لگے۔۔۔۔۔۔۔اس کی ساری بنیاد ایک دفعہ سے زیادہ بھائ حافظ صفوان صاحب سے ڈسکس ہوئ اور اس کا اظہار کچھ جگہوں پر رہا
    یہ بنیادی بات جس کا احقرغور فکر کے بعد قائل ہوا کہ ہر بات کو مذہبی پیمانے پر تولنے کی جگہ اگر خصوصا انتظامی معاملات میں سیایی اصولوں کی بنیاد ہر دیکھا جائے تو باتیں بے حد آسان اور اس زمانے کی حالت اور ان لوگوں کے غریب الوطنی کے بعد بحالی کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔ میں قائل ہوں , اسی بنا پر , یثرب کو ایک ایسے شہر کی طرح دیکھنے کا جس میں مختلف قبائل آپس کے معاہدات کی بنا پر چلتے ہیں ۔ان میں سردار ہیں جن کے پیچھے عوام ہیں مہاجرین نے ابتداءا بھی لوگوں سے معاہدات کئے اور یہ معاہدے مضبوط تھے ۔
    یہ بات کم از کم میں ثابت کرنے سے قاصر ہوں کہ خلیفۃ اول تک کوئ باقائدہ نظام حکومت تھا ۔ ہاں قبائل کی اولا سیاسی اور پھر عمدی کیفیت اسلام کی طرف مائل ہونی کی بنی جیسا کہ ہر غالب آنے والی جماعت کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔
    ایسے میں مؤاخات آنے والوں کی مجبوری تھی نہ کہ رہنے والوں کی ۔
    چانچہ نبیﷺ نے یہ کام کیا اور سب کا بھلا ہوا ۔۔۔۔ بعد ازاں وہ لوگ (فردا) و قبائل (فوجا) بھی اسلام میں آئے جو ابھی تک محروم تھے اور اس کی وجہ ان کے سامنے آنے والے فوائد تھے ۔۔غور طلب بات یہ ہے کہ مدینہ میں سے بہت عرصے تک کسی کو نکالا نہیں گیا مذہب یا قبیلے کی بنیاد پر حتی کہ یہود نے معاہدہ توڑا تو اس کا نتیجہ بھگتا۔
    یہ بھی غور طلب بات ہے کہ وہاں کہ غیر مسلم ذمی کے عہدے پر نہ تھے غالبا کم از کم میں اس بارے میں کچھ نہیں دیکھ سکا
    لہذا کیا اقلیتیں ہمرے ملک میں ذمی ہیں؟
    غالبا نہیں۔

    Reply
  3. 3

    حافظ صفوان محمد

    جرمن ﭼﺎنسلر ﺍﻧﺠﯿﻼ میریکل نے ﺻﺤﺎفیوں سے ﺑﺎﺕ کرتے ہوئے کہا:
    “کل ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﮔﺰﯾﻦ ﺑﭽﮯ ﺟﺐ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ بھاگ کر ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﻨﺎﮦ ﺩﯼ جب کہ مکہ ﺍﻥ کے ﺯﯾﺎﺩہ قریب تھا مگر ﺍﻥ کو وہاں پناہ نہیں ﻣﻠﯽ۔”
    “ﮐﻞ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﮔﺰﯾﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﻧﺎ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺒﺸﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻧﺼﺮﺍﻧﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﺎ ﺗﮭﺎ!!”

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ