About the author

One Comment

  1. 1

    M.Abubakar Siddique

    مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر بعض حضرات نے ایک نیا فتنہ شروع کردیا ہے کہ جانوروں کے خون بہانے کے بجائے صدقہ وخیرات کرکے لوگوں کی مدد کی جائے ۔ اسمیں کوئی شک وشبہ نہیں کہ اسلام نے زکوة کے علاوہ صدقہ وخیرات کے ذریعہ غریبوں کی مدد کی بہت ترغیب دی ہے مگر قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم الشان کارنامہ کی یادگار ہے ۔ نیز حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عید کے دن قربانی کا جانور (خریدنے) کے لئے پیسے خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کے یہاں اور چیزوں میں خرچ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔ (طبرانی، دار قطنی)قربانی کا مقصد محض غریبوں کی مدد کرنا نہیں ہے جو صدقہ وخیرات سے پورا ہوجائے بلکہ قربانی میں مقصود جانورکا خون بہانا ہے ، یہ عبادت اسی خاص طریقہ سے ادا ہوگی، محض صدقہ وخیرات کرنے سے یہ عبادت ادا نہ ہوگی۔ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں غربت دورحاضر کی نسبت بہت زیادہ تھی، اگر جانور ذبح کرنا مستقل عبادت نہ ہوتی تو نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام جانور ذبح کرنے کے بجائے غریبوں کی مدد کرتے مگر تاریخ میں ایسا ایک واقعہ بھی نہیں ملتا ۔ کیا صدقہ و خیرات کے لیے صرف یہی دن ملتا ہے ؟؟؟؟؟ اور سارا سال ایسے لوگوں کو موت آئی ہو ئی ہوتی ہے کہ چپ رہتے ہیں ۔۔۔۔ ان کا مقصد صرف اور صرف شعا ئر اسلام کا مذاق اڑانا ہوتا ہے اور مسلمانوں میں دینی احکام کے متعلق کمزوری پیدا کرنا ہوتےہے ۔۔۔۔ اس لیے ایسوں کو تیسا کریں اور اللہ کی راہ میں قربانی کا جانور ذبح کریں ۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ