گلگت بلتستان اسمبلی میں بعض ممبران کا غیر سنجیدہ رویہ

Gilgit logo

عبدالجبار ناصر

عبدالجبارناصر

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی خطے کا سب سے بڑا عوامی نمائندہ فورم ہے جہاں پر عوامی مسائل اور اس کے حل کیلئے منتخب نمائندے مل بیٹھ کر حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔دنیا بھرکے پارلیمانی نظام میں انہی فورمز کی آواز کو عوامی آواز قرار دیا جاتا ہے اور سڑکوں کی بجائے ایوانوں میں مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھانا مہذب دنیا کا مسلمہ اصول ہے ۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے17ستمبر اجلاس کے حوالے سے جو کچھ میڈیا میں آیا ہے اس میں بیشتر باتیں افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہیں۔

ضلع غذر اور ضلع داریل تانگیر سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نواز خان ناجی ،فدا محمد خان ، راجہ جہانزیب ،حاجی محمد وکیل اور حیدر خان نے نئے اضلاع کے قیام کے حوالے سے مطالبہ ایوان میں کرکے ایک اچھی اور پارلیمانی مثبت روایت کو پروان چڑھایا، لیکن بعض ارکان نے جس ردعمل کا اظہارکیاوہ نہ صرف جمہوری روایات کے خلاف بلکہ افسوسناک بھی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر جعفر اللہ خان کا یہ کہناکہ” چار اضلاع قرار دادوں سے نہیں وزیر اعظم کے حکم پر بنے ہیں ” اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس بات سے خود ایوان کی توہین ہوئی،کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسمبلی بے بس ہے ۔حالانکہ ایوان قرارداد متفقہ یا کثرت رائے سے منظور کرتا توبہتر نتائج امکان ہے ۔جمہوری قوتیں قومی مفادات اور مسائل کا حل شخصیات کی بجائے پارلیمانی اداروں کے ذریعے تلاش کرتی ہیں ، یہی روایت مہذب قوموںکی ہے ۔

جہاں تک نئے اضلاع کی بات ہے موجودہ اضلاع کے اعداد وشمار ،رقبے اور پسماندگی کو مدنظر رکھا جائے توضلع غذر میں ”یاسین ، گوپس ” اور ضلع چلاس میں ”دریل، تانگیر” پر مشتمل دو ااضلاع کا قیام نہایت ضروری ہے۔ اگر اسمبلی متفقہ یا کثرت رائے اسے اس کے حق میں قرارداد منظور کرتی ہے تو کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کی حمایت کی ضرورت ہے ۔راجہ جہانزیب کی یہ بات درست ہے کہ ”اگر مسائل ایوانوں میں حل نہ ہوں تو پھر ان کا علاج سڑکوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے”۔مجلس وحدت کے حاجی رضوان علی کی یہ تجویز بھی درست ہے کہ” غذر اور چلاس کے ارکان پر مشتمل وفد تشکیل دیکر وزیر اعظم سے ملاقات کرکے اور اس مسئلے کا حل تلاش کیاجائے”۔اس ملاقات میں دونوں اضلاع کے قیام کے حوالے سے ایوان کی متفقہ قراردادبھی شامل ہوتو سونے پر سہاگہ ہے۔ معروف قوم پرست رہنماء نواز خان ناجی کا ضلع ”یاسین گوپس”کے لئے ضلع دیامر اور ضلع غذر کا تقابلی جائزہ پیش کرنا اپنے کیس کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ،کیونکہ اعدادوشمار اس سے کافی مختلف ہیں جو موصوف نے بیان کئے ہیں ۔ صوبائی وزیر بلدیات رانا فرمان علی کا یہ موقف درست ہے کہ” اسمبلی کی نشستوں کے حوالے سے استور کے ساتھ گزشتہ تین دہائیوں سے ناانصافی ہورہی ہے”کیونکہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ آبادی کیلئے اسمبلی میں صرف دو نشستیں مختص ہیں جبکہ دیگر اضلاع کی پوزیشن اس سے مختلف ہے تاہم ضلع غذر اورداریل تانگیر کے مطالبے کے جواب میں وزیر موصوف کے استور میں مزید دو سے تین اضلاع کے قیام کے مطالبے کو مذاق ہی قرار دیا جاسکتاہے،جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات حاجی ابراھیم ثنائی کی جانب سے ”روندو اور ڈغونی ”کو ضلع بنانے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے ۔ صوبائی وزیر جنگلات حاجی محمد وکیل اور حیدر خان کا داریل تانگیر کو ضلع بنانے کا مطالبہ درست ہے لیکن انہیں چاہیے کہ وہ ہوم ورک کریں اور دیگر ارکان کو اس پر قائل کریں یہی کوشش ضلع غذر کے ارکان کی بھی ہونی چاہیے ۔

مجموعی طور پر ایوان میں نئے اضلاع کے حوالے سے بحث کا جائزہ لیاجائے تو ایسالگتا ہے کہ خود حکمران جماعت تقسیم ہے اس کے بعض ارکان اضلاع کے قیام کے خلاف اور نئے اضلاع کے قیام کے حامی اورمخالف ہوم ورک کرکے حقائق پیش کرنے کے بجائے ایوان میں زبانی جمع خرچ کرتے رہے ہیں شاید اس کا مقصد عوامی سطح پر اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہے۔ کتنا اچھا ہوکہ مکمل اعداد وشمار اور تیاری کے ساتھ ایوان میں بحث ہو ، اس ضمن میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحث کو جغرافیائی اور علاقائی تعصب کی نظر نہ ہونے دیں ۔ آبادی رقبے اور پسماندگی کی بنیاد پر نئے اضلاع کے قیام کیلئے ہر ممکن کوشش کریں۔

ارکان نے مختلف اضلاع میں اسمبلی کی نشستوں کے حوالے سے شکایت بھی کی ہیں جوبالکل درست ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون سازی کرکے ایوان کے ارکان کی تعداد میں اضافہ کیاجائے اور پھر آبادی ، رقبہ، پسماندگی ، غربت ، شہری اور دیہی فارمولے پر نشستیں تقسیم کی جائیں تاکہ کسی ضلع کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔

اسمبلی میں قوم پرست رہنما نواز خان ناجی کے جذباتی ہونے پر اسپیکر فدا محمد ناشاد بھی جذباتی ہوئے اور انہوں نے نواز خان ناجی کو ایوان سے نکالنے کی دھمکی دی ، فدا محمد ناشاد جیسے تجربہ کار اور دانشور کو اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ٹھنڈے دل سے ارکان کی تلخ وشیرین باتیں سن کر قوائد کی بنیاد پر فیصلہ کرناہے اوراسپیکر کایہی کام ہے ۔

ایوان میں گلگت بلتستان کے سابق چیف ایگزیکٹو میر غضنفر علی خان کی گفتگو افسوسناک ہے ان کا کہناہے کہ” صوبائی حکومت میں دیگر مکاتب فکر کو نمائندگی دی گئی لیکن اسماعیلی برادری کو نظر انداز کیا گیا ”دراصل موصوف اپنے کو گورنر نہ بنائے جانے کا غصہ مذہبی تعصب کو ہوا دے کر نکالنے یا (ن) لیگ کی قیادت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اگر انہیں دیگر تمام مذاہب ومسالک کی اتنی ہی فکر تھی تو 2011سے 2013تک انہوں نے آواز کیوں نہیں اٹھائی جب گورنر، اسپیکر اور صوبائی وزیر اطلاعات جیسے اہم عہدے اسماعیلی برادری کے پاس تھے۔ لیگی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) اسماعیلی برادری میں سے ایک وزیر لینا چاہتی تھی لیکن میر غضنفر علی خان رکاوٹ بنیں،جو گورنر سے کم کسی عہدے کیلئے تیار نہیں،اسی وجہ سے اپنی اہلیہ رانی عتیقہ غضنفر کو کابینہ میں شامل ہونے سے بھی روک لیا جن کا نام ابتدائی فہرست میں شامل تھا۔دوسری جانب موصوف ضلع ہنزہ کے قیام کو اپنا کریڈٹ قراردیتے ہیںاور اپنی جماعت اور صوبائی قیادت کو اس کریڈٹ میں شامل کرنے کو جرم عظیم سمجھتے ہیں،جبکہ وزیر اعظم سے تعلق بنا پر اب بھی اپنے آپ کو خطے کا مالک ومختار سمجھتے ہیں ، موصوف حقائق کا اداراک کرنا ہوگا۔

اسمبلی کے اجلاس میں سب سے مثبت تقریر مجلس وحدت مسلمین کے حاجی رضوان علی کی تھی جنہوں نے اس ایشو پر آواز اٹھائی جس کا تعلق لوگوں کی موت وحیات سے ہے حاجی رضوان علی نے کہاکہ ”گلگت بلتستان میں باہر سے لائی جانے والی ہر چیز دو نمبر ہے ،یہاں تک کہ میڈیکل اسٹورز میں انسانی جانیں بچانے والی ادویات تک دو نمبر سپلائی کی جاتی ہے جو انسان تو کجا جانوروں کے قابل بھی نہیں ہیں”۔ ان کا یہ نقطہ درست ہے کیونکہ ادویات کی چیکنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ۔مختلف اداروں کی سروے رپورٹس کے مطابق بھی گلگت بلتستان میںسردرد کی گولی سے لیکر کینسر کی دوائی تک سب جعلی سپلائی کی جارہی ہے اور مقامی ڈرگ انسپکٹرز یا محکمہ صحت کو اس کی فکر ہی نہیں۔ گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں مریضوں ایک بڑی تعداد جہاں تشخیصی مشینری نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہے ،وہیں ان سے زیادہ بروقت اصلی دوا نہ ملنے کی وجہ سے جان بحق ہوتے ہیں ۔ اس کا اعتراف مسلم لیگ(ن) کے اقبال حسن نے اسمبلی میں بھی کیا اور کہا کہ ” گلگت بلتستان میں صرف ادویات ہی نہیں کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر جانوروں کے استعمال کے بوسے تک دو نمبر دستیاب ہوتاہے ”۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کواس اہم قومی اور انسانی بقاء کے مسئلے پر فوری توجہ دیکر محکمہ صحت کو متحرک کرکے جعلی ادویات کی سپلائی میں ملوث عناصرکے خلاف نہ صرف کاروائی کرنی ہوگی بلکہ انہیں عبرت کا نشانہ بنانا ہوگا۔ ایوان میں حاجی رضوان علی نے جس طرح کی گفتگو کی ہے اس سے یہ واضح اندازہ ہوتاہے کہ ان کے پاس حقائق اور شواہد موجود ہیں اس لیے ایسے فعال ارکان کی مدد بھی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ اب وقت آگیاہے مجرموں کی گرفت کی جائے یہی حکومت کی کارکردگی ہے اور اسی پر حکومت کی ناکامی اور کامیابی کا انحصار ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے