عورت مارچ یاجنگ عظیم سوئم

گزشتہ کئی برس سےمنعقد ہونے والاعورت مارچ کسی ایک عورت کی کہانی تو کبھی نہیں رہا۔ اس میں ہراس عورت کاذکر ہے ،جو سماج کی چکی میں کسی نہ کسی طور پس رہی ہے یا پھر اس پسنے سے انکار کرکے اپنی جدوجہد سے کامیابی حاصل کی ، ناکامی میں توصلواتیں سنیں گی ہی ، لیکن اس کامیابی پر بھی لوگ خصوصامرد تنقیدسے باز نہیں آتے ، بلواسطہ و بلاواسطہ کہا جاتاہے ناجانے کیسے یہ کامیابی ملی ، کتنے چونچلے کیے، کتنوں کے نخرے اٹھائے، کیا کیا لعن طعن سنی،کیا کیا برداشت کیا، ظلم وستم سہے۔۔کتنی بار کس کس طرح ہراساں کیاگیا،پھربھی ڈھیٹوں کی طرح مرد کی برابری کرنے چلی ہے ۔۔

شاباشی دینے ، حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے کسی نہ کسی طور عورت کا نیچادکھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ،اور جو جدوجہد کررہی ہے ، اس کو کس کس طرح کامیابی سے روکاجارہا ہے ، کس قسم کی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں ، گھروالوں کی طرف سے، باہر والوں کی طرف سے، دوستوں اور دشمنوں کی طرف سے، کھلم کھلا یا ڈھکے چھپے الفاظ اور اشاروں میں ہراساں کیا جارہا ہے ، اور وہ جو جدوجہد میں ناکام رہیں ، ان کوکن مشکلات کا سامنا ہے ، کس جبرواستبداد کا شکارہیں ، اور وہ خواتین جو ہر جدوجہد میں کامیاب رہیں اور اب دوسروں کی مدد کررہی ہیں ، ان کے حق کے لیے ، ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف بول رہی ہیں ، اس کی کامیابی ، ناکامی ، ان سب کی وجوہات، نقصانات اور ہراساں کرنے کے طریقے یہ سب ہی کچھ عورت مارچ میں شمار کیے گئے ،سب کاوشوں ،اذیتوں، باتوں کو بالائے طاق رکھ کر،،، کچھ نعرے، پلے کارڈز جو کہیں نہ کہیں حقیقت ہیں ، کچھ خواتین کےلیے، تلخ یادیں بھی ہیں ، ہراساں کیے جانے کے طریقے ہیں ،

حق سے محروم کیے جانے کی واردات بھی ، ان کو پلے کارڈزکونشانہ بنا کر عورتوں کی اور عورت مارچ کی تضحیک کی گئی اور سوشل میڈیا پر اک طوفان بدتمیزی کھڑا ہوگیا، عورت مارچ صر ف پاکستان یا مسلمان عورت کاعکاس تو نہیں تھا بلکہ اس میں مظلوم ، مجبور، ہندو،یہودی ،مسلمان ،سکھ ، عیسائی ، غرض کہ ہر اک کی نمائندگی تھی ، اس میں ٹرانس جینڈر جن کارجحان خواتین کی طرح ، مخنث جن میں عور ت کی خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں ، نے بھی شرکت کی، اور سماج میں ہونے والی ناانصافیوں پر آوازبلندکی ، مارچ میں صرف نوجوان نسل کے نمائندے موجودنہیں تھے ،بہن بھائی ،باپ بیٹی، میاں بیوی،فیکٹری ورکر ،گھروں میں کام کرنے والیاں ، ہیلتھ ورکرز ، نقاب ، برقع ، دوپٹوں اور پینٹ شرٹس میں ہر طرح کی خواتین ، عورت، بچیاں شامل تھیں،آفس میں کام کرنے والی خواتین نے بھی اپنےساتھ ہونے والی زیادتیوں کو قلم بند کیا۔ان معاملات کی نشاندہی کی ،جن کاآئے روزانہیں سامنا کرکے خاموش رہنا پڑتا ہے ،کھانا، گاڑی ، کپڑے ، تنخواہیں ، اونچی آواز سے لے کر اونچی ہیل تک کا طعنہ سننے کو ملتا ہے اور پھر برابری کا شکوہ بھی موجود۔

عور ت مارچ میں حقیقت کہتے کچھ ایسے پلے کارڈز یقینا تھے کہ جن کو کھلے عام کہا جائے تو بے غیرت کے زمرے میں آتا ہے، کوئی بھی کہنے سے کتراتا ہے ، اور ڈھکے چھپے کرنا ،کہنا تومردوں کاشیوا ہے ،ویمنز ڈے پر8 مارچ کو ہونے والے مارچ نے جہاں سوشل میڈیا پرعورتوں اور مردوں کو عورت کے خلاف بولنے پر مجبور کیا وہیں ٹی وی چینلز مخرب الاخلاق نعروں اور پلے کارڈز کی وجہ سے اسے آن ائیر نہ کرسکے،ان لغو اور بیہودہ پلے کارڈز کو بنیاد بنا کرہر عورت کامذاق بنایاگیا،عورت مارچ کو خاندانی نظام کے خلاف طبل جنگ بنادیاگیا،سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے ہنگامہ برپا کردیا، جس میں بھارتی ریاست کیرالا کےعورت مارچ میں شریک ایک صاحب نکاح کو غیر ضروری اور ناجائز قرار دے رہے تھے،

مختلف ملکوں ، مختلف مذاہب اور معاشروں کے مختلف رسم ورواج ہیں ، ان صاحب کی جتنی سوچ ہے ، جتنی پہنچ ہے ، جو بھی مذہب ہے انہوں نے اس کے مطابق بات کی ، لیکن ایک مسلمان ملک میں اس کو وائرل کرکے عورت ذات کو ہی بدنام کردیاگیا، سونے پہ سہاگا، کچھ پلے کارڈز کو سافٹ وئیر کے ذریعے ایڈٹ کیا گیا اور سب کچھ تہس نہس کردیا گیا، ان ایڈٹڈپکچرزیاپلے کارڈز کی وجہ سے اینکرز، اداکاراور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے تنقید کی ،معاملہ دشمنیوں اور گالم گلوچ تک پہنچ گیا،ڈھائی تین ہفتے گزرنے کے باوجودعورت مار چ کالوہا تاحال گرم ہے ،لگ رہا ہے سوشل میڈیا پر جنگ عظیم سوئم شروع ہوچکی ہے،

عورت مارچ میں میرا لباس میری مرضی کا پلے کارڈ ،میراجسم میری مرضی کےنعرہ سے بدل دیاگیا، اس پر بھی طرح آزمائی کی گئی،ہمارے ملک میں تو شاید ایسا نہیں ، لیکن مغربی ملکوں میں مقیم کچھ عورتوں کوزندگی گزارنے کیلئے قحبہ خانوں میں کام کرنا پڑتا ہے ،کام کس نوعیت کا ہے اس پر اک الگ طرح کی جرح ہوسکتی ہے ، اسلامی دنیا میں تو ایسا ہرگز نہیں پھر اس قسم کے پلے کارڈز کیوں دکھائے گئے، کیا ڈھکے چھپے کچھ ایسا چل رہا ہے؟ جس کی نشاندہی ان خواتین کی۔ہماری عورت کے اصل مسائل کیاہیں؟ ایسا نہیں کہ تیزاب،جنسی زیادتی کا شکار،ریڑھیوں پرپھل بیچنے،کھیتوں میں کام کرنےوالی،گھروں میں کام کرنے والی،فرسودہ رسم ورواج کی شکارخواتین کےمسائل کی طرف توجہ نہ دلائی گئی ہو، بیٹی کے رحمت ہونے پر بھی فوکس تھا اور بیوی کے آدھا ایمان ہونے کا۔۔

سوشل میڈی پر جاری جنگ عظیم سوئم جانے کب تھمے ،لیکن اک بات یاد رکھنے کی ہے کہ مرد و عورت کا الگ الگ اک مقام ہے ، حدودوقیود ہیں ،مخالف جنس کو دوسرے کا عزت واحترام کرنا چاہیے ،حقوق و فرائض ادا کرنے چاہیئں ، ان سے باہر نکل کر کوئی بھی حرکت ہوگی، کسی بھی جنس کی جانب سے تو اسے رپورٹ کیا جائے گا، سدباب کیا جائےگا،

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے