اگر کوئی ہے تو چلا جائے!

گزشتہ روز میرے زندہ دل دوست صدیق بٹ نے مجھے اپنا ایک دلچسپ مضمون سنایا، جو جنات کے بارے میں تھا۔ بٹ صاحب کی طرح ہر ان دیکھی چیز میں میری دلچسپی اوائل عمری ہی سے ہے۔ میں جنوں بھوتوں کی باتیں سنا کرتا تھا اور میری بڑی خواہش تھی کہ کبھی کسی جن سے میری ملاقات ہو لیکن لگتا ہے کہ کسی جن کے دل میں مجھ سے ملاقات کی کبھی خواہش ہی پیدا نہیں ہوئی۔ ایک گرائونڈ میں بچے کھیل رہے تھے، ایک جن کا بچہ کھیل میں ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ بچوں نے ایک اجنبی بچے کو اپنے درمیان دیکھا تو اس سے پوچھا ’’تم کون ہو؟‘‘ اس نے کہا ’’میں جن کا بچہ ہوں‘‘ یہ سن کر ایک بچہ بولا ’’اچھا اچھا وہ تم ہو جس کے بارے میں مسجد سے اعلان ہو رہا تھا کہ جن کا بچہ ہے، آکر لے جائیں‘‘۔ اللہ جانے یہ سن کر اس جن کے بچے پر کیا گزری ہو گی!

میں نے اپنے ایک دوست سے یہ مسئلہ بیان کیا تو اس نے پوچھا ’’تم جنات پر ایمان رکھتے ہو؟‘‘ میں نے کہا ایمان تو اللہ، رسولؐ پر ضروری ہے، البتہ ابھی ہزاروں لاکھوں معمے ہیں، اسرار ہیں، جن سے پردہ اٹھنا باقی ہے، جنات بھی ان میں سے ایک ہیں۔ بدقسمتی سے میں اُنہیں آج تک نہیں دیکھ سکا۔ مولانا خادم رضوی خوش قسمت ہیں کہ جنات ان کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔ اُنہوں نے ایک بار اپنے خطاب میں فرمایا کہ ایک رات انہیں اپنے کمرے میں کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا، دیکھا تو تین چار عجیب و غریب شکلوں والی مخلوق ان کے اردگرد کھڑی تھی۔ علامہ صاحب نے ان سے پوچھا کہ ’’ تم کون ہو؟‘‘ اُنہوں نے عرض کی ’’ہم جن ہیں اور آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے ہیں‘‘۔ اس پر علامہ صاحب غصے میں آگئے اور انہیں ڈانٹتے ہوئے کہا یہ کوئی وقت ہے زیارت کے لئے آنے کا، میں ابھی تقریر کرکے آیا ہوں اور تھکا ہوا ہوں، بھاگ جائو یہاں سے، چنانچہ اُنہوں نے گڑگڑا کر معافی مانگی اور ان کی نظروں سے آناً فاناً اوجھل ہو گئے، مگر میں تو ایک گنہگار آدمی ہوں، میرے مقدر میں یہ خوش نصیبی کہاں کہ خود جن میری زیارت کے لئے آئیں۔

ایک دفعہ ایک پرانا چراغ رگڑنے پر ایک جن دھویں کے بادلوں میں سے قہقہے لگاتا ہوا برآمد ہوا۔ میں خوفزدہ ہو گیا، مگر اس نے کہا ’’میرے آقا، کیا حکم ہے؟ تب میرے حواس بحال ہوئے میں نے کہا ’’لاہور سے نیویارک تک پل بنا دو‘‘۔ یہ سن کر وہ بولا ’’میرے آقا میں گریڈ 22کا نہیں، اسکیل 5کا جن ہوں، مجھے کوئی آسان کام بتائیں‘‘۔ میں نے کہا ’’ٹھیک ہے، تم پل چھوڑو، صرف میرے اس سوال کا جواب دے دو کہ عورت ذات کیا چیز ہے؟‘‘ اس نےیہ سن کر ایک لمحے کے لئے کچھ سوچا اور پھر کہا ’’میرے آقا، پل یکطرفہ بنانا ہے یا دو طرفہ؟‘‘ تب مجھے سمجھ آگئی کہ یہ کوئی مسخرہ تھا اور مجھے ہنسانے کے لئے جنوں جیسی شکل بنا کر آیا تھا!

ایک دفعہ جرمنی کے ایک ہوٹل میں، میں اورعزیر احمد ٹھہرے، ہوٹل بہت اعلیٰ تھا، اس میں کوئی کمی نہ تھی، مگر رات بارہ بجے جب ہم ہوٹل میں پہنچے تو پتہ چلا کہ اندر جانے کے لئے ہمیں اپنے کمرے کی چابی سے باہر کا دروازہ کھولنا ہو گا، چونکہ ناصر شیخ نے ہماری بکنگ پہلے سے کرا رکھی تھی، چنانچہ ناصر نے دروازہ کھولا، مگر اندر ہو کا عالم تھا، ریسیپشن پر بھی کوئی نہیں تھا۔ ہم لفٹ میں بیٹھے اور اپنے فلور پر جا کر کمرے کا دروازہ کھولا، کمرہ بھی اچھا تھا، دو سنگل بیڈ تھے اور ایک صوفہ وہاں دھرا تھا، مگر مجھ پر جانے کیوں خوف سا طاری ہو گیا۔ ناصر ہمیں وہاں چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا۔ اب کچھ اور زیادہ تنہائی کا خوف محسوس ہوا۔ میں نےعزیر سے کہا ’’میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس ہوٹل میں جنات کا ڈیرہ ہے‘‘۔

یہ سن کرعزیر کا رنگ پیلا پڑ گیا اور میں نے اس کے ہونٹ ہلتے دیکھے، وہ آیات کی تلاوت کر رہا تھا۔عزیر سفر کے دوران اگر گاڑی روک کر کسی درخت یا جھاڑیوں کے درمیان بیٹھ کر ’’آب رسانی‘‘ کرتا ہے تو اس سے پہلے کچھ پڑھتا ہے اور پھر باآواز بلند کہتا ہے’’ اگر یہاں کوئی ہے تو وہ چلا جائے‘‘ چنانچہ ہوٹل کے کمرے میں میری طرف سے جنات کی ’’بشارت‘‘ سن کر اس کی نیند اڑ گئی تھی اور میں چاہتا بھی یہی تھا کہ جب میں سو جائوں تو اس وقت کمرے میں کوئی جاگ ضرور رہا ہو، سو میں تھوڑی دیر بعد گہری نیند سو گیا اورعزیر صبح تک جاگتا رہا۔ ناشتے کی میز پر مجھے کہنے لگا ’’سر میں نے زندگی میں اتنا درود نہیں پڑھا، جتنا کل ایک رات کے دوران پڑھا‘‘۔

اچھا یہ جو میں نے تھوڑی دیر پہلے کہا تھا کہ میں نے زندگی میں کبھی کوئی جن نہیں دیکھا تو وہ پوری حقیقت نہیں تھی، جن کی خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ ناممکن کو ممکن اور ممکن کو ناممکن بنا سکتے ہے تو یہ مخلوق تو ہمارے ہر ادارے میں موجود ہے اور ہم برسہا برس سے ان کی کرشمہ سازیاں دیکھ رہے ہیں۔ مجرم کو بےگناہ اور بےگناہ کو مجرم قرار دینا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، دائیں ہاتھ سے تو اللہ جانے وہ کیا کیا کرشمے دکھاتے ہوں گے۔ آپ کسی بھی آفس میں چلے جائیں، وہاں آپ کو ایک نہ ایک جن بیٹھا ضرور ملے گا۔ وہ آپ کی فائل پر ایک ’’گھگھی‘‘ ڈال کر آپ کی ساری زندگی اجیرن بھی بنا سکتا ہے اور بادشاہی بھی عطا کر سکتا ہے۔

چنانچہ سچی بات یہ ہے کہ زندگی میں میرا پالا کسی جن سے تو نہیں پڑا، اس کے باوجود میں رات کو سوتے وقت اور صبح گھر سے نکلتے وقت ایک دفعہ ’’اگر کوئی ہے، تو چلا جائے‘‘ کے کلمات ضرور ورد کرتا ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے