میلان : السلام علیکم کہنے والا دہشت گرد نہیں ہوسکتا

Qari-Syed-Sadaqat-Ali-CG-Dr-Manzoor-Ahmed-Chaudhry-and-Dr-Rizwan-Salabat-Attache-Welfare

آج 10 مئی بروز جمعتہ المبارک قونصلیٹ جنرل آف پاکستان میلان میں افطار ڈنر کا پروگرام کا انعقاد ہوا۔ جس میں پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ قاری سید صداقت علی نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز قومی ترانے کی دھن بجا کر کیا گیا جس پر تمام شرکا احتراماً اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گے۔

قومی ترانے کی دھن کے اختتام پر قاری سید صداقت علی نے قرآن کریم کی تلاوت کی۔ قاری سید صداقت علی کی جادوائی آواز نے تمام شرکا کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا ۔ تلاوت کے اختتام پر شرکا نے دل کھول کر داد دی۔

قاری سید صداقت علی کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات ملے ہیں . ستارہ امتیاز، صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت کئی اور اعزازات کے مالک ہیں۔ یہ مصر کے بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری عبدالباسط عبدالصمد کے شاگرد ہیں۔ ان کا مشہور ٹیلی ویژن پروگرام “آؤ قرآن پڑھیں” پاکستان ٹیلی ویژن پر متعدد بار ٹیلی کاسٹ ہو چکا ہے جس میں انھوں نے چھوٹے بچوں کو قرآن مجید پڑھایا ہے۔

قاری صداقت علی نے کہا کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے اور اس امن کی خاطر پاکستان کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور آج تک دے رہا ہے۔ دہشتگردوں کا کوئی مذہب ہے نہ ہی ان کا کوئی فرقہ ہے، وہ صرف اور صرف دہشتگرد ہیں۔ اسلام امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے اور اس کی مثال ہمارے السلام علیکم سے لے لیں جس کا مطلب دوسروں پر سلامتی بھیجنا ہے۔ بھلا جو دوسروں پر سلامتی بھیجے وہ خود کیسے سلامتی کو داؤ پر لگائے گا۔ انھوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انھیں دہشتگردی کو کسی بھی مذہب سے جوڑنے سے باز رہنا چاہئے اور امن کی خاطر پاکستان کے عوام، اور فوج کی قربانیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئیے۔

افطار ڈنر کے اس پروگرام جس کی میزبانی قونصلیٹ جنرل آف پاکستان میلان نے کی، متعدد شرکا نے شرکت کی۔ پروگرام میں پاکستانی نژاد برطانوی شاعرہ مہ جبین غزل انصاری نے اپنا حمدیہ کلام سنا کر خوب داد وصول کی۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ میں پاکستان سے خصوصی طور پر اس پروگرام میں شرکت کے لئے آئی ہوں، اور ایک لمبے سفر کی وجہ سے میں اپنا کلام بھی ٹھیک سے نہیں پیش کر سکی مگر سامعین نے میرے کلام کو بہت پزیرائی دی۔ جس پر میں ان کی مشکور ہوں۔

قونصلر جنرل میلان ڈاکٹر منظور چودھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور پاکستان دنیا کے جس خطے میں بستے ہیں وہ وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ بہت ہی اچھے انداز میں رہن سہن کرتے ہیں۔ انھوں نے پاکستانی کمیونٹی بارے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے میلان پولیس اور دیگر اداروں کے سربراہاں سے متعدد بار ملنے کا اتفاق ہوا ہے اور سب پاکستانیوں کی بے حد تعریف کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں یہاں کی متعدد یونیورسٹیوں کے چانسلرز اور ریکٹرز سے ملا ہوں اور انھیں پاکستانی طالب علموں بارے بتایا ہے کہ انھیں یہاں آکر پڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ پولیٹکنیکل یونیورسٹی آف تورین کے ریکٹر نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں لاہور میں یونیورسٹی کا کیمپس کھولنے بارے سوچ رہے ہیں چونکہ پاکستانی طالب علموں کی ایک بڑی تعداد یہاں پڑھنے آتی ہے۔ اور یہ ایک خوش آئند بات ہے۔

سٹیج سیکرٹری کے فرائض اتاشی ویلفیر ڈاکٹر رضوان صلابت نے بہترین انداز میں ادا کئے اور جہاں جہاں دوران گفتگو ان کو موقع میسر آتا رہا انھوں نے بھی اوورسیز پاکستانیوں کی بے حد تعریف کی اور ان کی پاکستان بارے محبت کو سراہا۔

شام آٹھ بجکر تینتالیس منٹ پر میلان میں افطار کا وقت ہوا، افطار کے ساتھ ہی ڈنر کا انتظام کیا گیا تھا۔ جس میں پاکستانی کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ نماز مغرب قاری سید صداقت علی کی امامت میں قونصلیٹ جنرل میں ادا کی گئی۔

قونصلر جنرل ڈاکٹر منظور احمد چودھری، اتاشی ویلفیر ڈاکٹر منظور صلابت سمیت عملے کے تمام افراد نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے