تئیسویں پارے کے مضامین

نماز تراویح میں تلاوت ہونے والے پارے کا تفسیری خلاصہ
تئیسویں پارے کے مضامین

سورہ یٰس ٓ
پہلی آیت میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی ‘ نہایت حکیمانہ انداز میں یہ فرمایا :”میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں ‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے ‘ کیا میں معبودِ برحق کو چھوڑ کر اِ ن(بتوں)کو معبود قرار دوں کہ اگر رحمان مجھے نقصان پہنچانا چاہے ‘ تو ان کی شفاعت میرے کسی کام نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے نجات دے سکیں‘‘۔
آیت 38سے اللہ تعالیٰ کی قدرت وجلالت کو بیان کیا کہ سورج ‘ چانداور سیارے قادرِ مطلق کے نظم کے تابع چل رہے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ ان میں کوئی فساد یا ٹکراؤ ہوجائے ۔ آیت 65سے بتایا کہ قیامت کے دن مجرموں کے مونہوں پر مہریں لگادی جائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں (اور دیگر اعضا) سلطانی گواہ بن کر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم سے کیا کیا جرائم کرائے جاتے رہے۔ آیت 78سے منکرینِ آخرت کے اس عقلی سوال کا ذکر فرمایا کہ جب انسان مر جائے گا اور ہڈیاں تک بوسیدہ ہوجائیں گی ‘ تو دوبارہ کون زندہ کرے گا؟اور پھر جواب دیا کہ دوبارہ بھی وہی خالق تبارک وتعالیٰ زندہ کرے گا ‘ جس نے بغیر کسی نام ونشان کے پہلے پیدا کیا تھا ؛ حالانکہ اب کوئی ذرۂ خاک یا راکھ موجود ہے۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتاہے تو فرماتاہے ”کُن‘‘ (ہوجا) ‘ تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے‘ ”کُن‘‘ کہنا بھی ضروری نہیں‘ صرف اﷲتعالیٰ کا ارادہ کافی ہے۔

سورۃ الصّٰفٰت
پہلے شیطان کا داخلہ عالَمِ بالا کی طرف ہوتا تھا ‘ مگر آیت 10میں بتایا کہ اب اس کا داخلہ عالَمِ بالا میں بند ہے اور اگر وہ ادھر کا رخ کرے تو اس پر آگ کے کوڑے برسائے جاتے ہیں۔
آیت 40سے اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کو آخرت میں عطا کی جانے والی نعمتوں کا ذکر ہے کہ انہیں عمدہ میوے ملیں گے ‘ وہ جنت میں اعزاز واکرام کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل مسندوں پہ بیٹھے ہوئے ہوں گے‘ سفید اور لذیذ شرابِ طہور کے جام گردش میں ہوں گے کہ جن سے نہ دردِ سر ہوگا اور نہ ہوش اڑیں گے‘ پیکرِ شرم وحیا حوریں ہوں گی اور وہ بلند مقام سے جہنمیوں کا مشاہدہ کررہے ہوں گے۔ آیت 62سے جہنمیوں کی کیفیت کو بیان کیا کہ شیطان کے سروں کی طرح دوزخ کی جڑ سے پیدا ہونے والا ”زقوم‘‘ (تھوہر) کا درخت ان کی غذا ہوگا‘ پھر انہیں جہنم کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ آیت 83سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ایک بار پھر مذکور ہوا کہ آپ قوم کے ساتھ میلے میں نہ گئے اور ان کے بڑے بت کو پاش پاش کردیااور پھر انہوں نے آگ کا ایک الاؤ تیار کرکے ابراہیم علیہ السلام کواس میں ڈال دیا ‘ اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد اسماعیل علیہ السلام کی ولادت کی بشارت ‘ اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے کی عمر کو پہنچنے کے بعد خواب میں ان کے ذبح کا حکم دئیے جانے اور پھر باپ بیٹے دونوں کے حکمِ ربانی کے سامنے سرِ تسلیم خم کئے جانے کا ذکر ہے۔ آیت105میں فرمایا کہ ابراہیم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا اور اسماعیل علیہ السلام کے فدیے کے طور پر غیب سے نمودار ہونے والے ایک مینڈھے کے ذبح کئے جانے کا ذکر ہے ‘ جسے قرآن نے ”ذبحِ عظیم‘‘ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد یونس علیہ السلام کے قوم سے بھاگ کر کشتی میں سوار ہونے ‘ پھر قرعہ اندازی کے ذریعے ڈولتی ہوئی کشتی سے دریامیں ڈالے جانے اورپھر مچھلی کے انہیں نگل جانے کا ذکر ہے اور اللہ کی شانِ اعجاز کہ انہیں مچھلی کے پیٹ میں سلامت رکھا اور ان تمام مراحل میں وہ اپنی خطائے اجتہادی پر اپنے آپ کو ملامت کرتے رہے۔ پھر انہوں نے توبہ کے ارادے سے یہ تسبیح پڑھی :”لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین‘‘۔اللہ عزوجل نے فرمایا: اگر وہ تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے انہیں ساحل پر اگل دیا ۔ وہ بیمار تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لئے لوکی کی ایک بیل کو اگا کر ان پر سایہ فگن کردیا۔ قرآن نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔

سورہ صٓ
آیت 10سے ان مشرکین کو‘ جنہیں اپنی طاقت پر ناز تھا اور جو خدائی کے دعوے کرتے تھے ‘ فرمایاکہ اگر آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کی بادشاہت ان کی ہے تو پھر انہیں چاہئے کہ آسمانوں کی طرف چڑھیںاور ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے‘ تو پھر انہیں اپنے عجز کا اعتراف کرلینا چاہیے۔ اس سورت میں قوم ِ نوح ‘ عاد وفرعون ‘ ثمود ‘ قومِ لوط اور اصحاب الایکہ کا ایک بار پھر ذکر ہے کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا ‘ ان پر اللہ کا عذاب سچا ثابت ہوا ۔ آیت17سے داؤد علیہ السلام اور ان کے معجزات کا ذکر ہے کہ پرندے زبور کی تلاوت کرتے وقت جمع ہوتے تھے اور اللہ نے انہیں سلطنت‘ حکمت اور قولِ فیصل عطا کیااور ان کے پاس دائر ایک مقدمے کا ذکر آیا ۔ ایک شخص نے کہا کہ میرے بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے اور وہ مجھ پر دباؤڈال رہا کہ میں وہ ایک بھی اسی کو دے دوں۔ داؤد علیہ السلام نے کہا کہ ایک دنبی کا مطالبہ کرکے اس نے ظلم کیاہے اور اکثر شرکا ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں‘ سوائے ان کے جوا یمان لائے اور اعمالِ صالحہ کئے۔ قرآن سلیمان علیہ السلام کا ذکر فرماتاہے کہ وہ اللہ کے بہت اچھے بندے اور اس کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔ آیت 41سے حضرت ایوب علیہ السلام اور ان کے مصائب کا ذکر ہے ۔ اللہ نے انہیں حکم دیا : اپنا پاؤں زمین پر مارو ‘ان کے پاؤں کی ضرب سے غسل اور پینے کے لئے ٹھنڈا پانی نکل آیا اور مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ ان کیلئے وسیلۂ شفا ء بھی بنا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے طور پر اہل ومال کی جونعمتیں ان سے سلب فرمائی تھیں وہ ان کو دگنی مقدار میں دوبارہ عطا فرما دیں ۔ انہوں نے کسی وجہ سے اپنی بیوی کو سوکوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی‘ اللہ تعالیٰ نے اس قسم سے بری ہونے کیلئے ان کو یہ تدبیر بتائی کہ سو تنکوں کا ایک جھاڑو بنا کر ایک ضرب لگائیں تو یہ قسم پوری ہوجائے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایوب علیہ السلام صابر تھے ‘ اللہ کے پیارے بندے تھے اور اس کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔ آیت 49سے اہلِ تقویٰ کے لئے جنت کی نعمتوں اور جہنمیوں کیلئے عذاب کی مختلف صورتوں کا ذکر ہے۔ آیت 71سے آدم علیہ السلام کی تخلیق ‘ تمام فرشتوں کے انہیں سجدہ کرنے اور تکبر کی بنا پر شیطان کی طرف سے سجدے سے انکار کاذکر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان سے جواب طلب فرمایاکہ آدم کو میں نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا ‘ تو تمہارے اس کو سجدہ کرنے سے کون سی چیز مانع ہوئی۔ شیطان نے کہا کہ میں آدم سے افضل ہوں ‘ میرا مادۂ تخلیق (آگ) آدم علیہ السلام کے مادۂ تخلیق (مٹی)سے افضل ہے ۔ اللہ نے فرمایا تو مردود ہے ‘ جنت سے نکل جا اور قیامت تک تجھ پر میری لعنت ہے‘ اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خطا (اجتہادی) کو تسلیم کرنا اور اس پر اللہ سے معافی مانگنا آدم علیہ السلام کی سنت ہے اور اپنی معصیت پر ڈٹ جانا اور اس کو درست ثابت کرنے کے لئے دلیل کا سہارا لینا یہ ابلیس کا شعار ہے ۔ پھر بتایا کہ شیطان کو قیامت تک کے لئے مہلت دے دی گئی اور اُس نے عہد کیاکہ میں اللہ کے مخلص بندوں کے سواتمام اولادِ آدم کو گمراہ کروںگا۔

سورۃ الزمر
اس سورت کی ابتدا میں حکم فرمایا کہ دین کو اللہ کیلئے خالص کرو ‘ مشرک یہ کہتے کہ ہم اپنے معبودوں کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ جھوٹے کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ آیت 05سے ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ذکر ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ‘ گردشِ لیل ونہار کا نظام بنایااور سورج اور چاندکے لئے اپنا اپنا مدار اور منزلیں مقرر کیں۔ تمام انسانوں کوایک جان آدم علیہ السلام سے پیدا کیا اور انہی سے ان کا جوڑا پیدا کیااور وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں تہ در تہ ظلمتوں میں جنین کی پرورش کرتاہے ‘ پھر انسان کی فطری خود غرضی کو بیان کیا کہ نعمت ملے تو رب کو بھول جاتاہے اور اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتاہے۔ فرمایا کہ عالِم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے‘ جو اپنی راتوں کو سجدہ اور قیام میں گزارے ‘ آخرت کے عذاب سے ڈرتا رہے اور اللہ کی رحمت پر یقین رکھے‘ (ان کا مرتبہ بلند ہے)۔ تعلیم ِ امت کیلئے رسول اللہﷺ کو فرمایا : آپ کہئے کہ مجھے خالص اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ‘ مجھے سب سے پہلا مسلمان بننے کا حکم دیا گیا ہے اور میں اپنے دین وعبادت کو اللہ کیلئے خالص کرتا ہوں ۔ آیت 21 میں پھر اللہ کی قدرت وجلالت کا بیان ہوا کہ اس نے آسمان سے بارش برسائی ‘ زمین میں چشمے جاری کئے‘ رنگ برنگی فصل اگائی ‘ پھر جب فصل پک کر زرد ہوجاتی ہے تو وہ اس کو چورہ چورہ کردیتاہے ‘ اس میں عقل والوں کیلئے نصیحت ہے۔آیت 22میں فرمایا: اللہ جس کے سینے کو اسلام کے لئے کھول دیتاہے تو وہ اپنے رب کی طرف سے نورِ ہدایت پر قائم رہتا ہے ۔ آیت 23میں قرآن مجید کی اثرآفرینی کو بیان کیا کہ یہ ملتے جلتے مضامین پر مشتمل بہترین کلام ہے‘ جسے بار بار دہرایا جاتاہے‘ (جن کے دلوں میں خشیتِ الٰہی ہے ‘ اسے سن کر) ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کے جسم اور دل اللہ کی یاد کیلئے نرم ہوجاتے ہیں ۔ آیت نمبر 27سے فرمایا کہ ہم نے نصیحت کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں ‘ یہ قرآن عربی ہے اور اس میں کوئی کجی نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے