کیا پیارہے چھلاوہ؟

چھلاوہ اس عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی وہ پاکستانی فلم چھلاوہ ہدایت کار اور پروڈویوسر وجاہت رؤف کی تیسری فلم ہے۔ اس سے قبل وہ 2015 میں کراچی سے لاہور اور 2016 میں ‘لاہور سے آگے’ بنا چکے ہیں۔ چھلاوہ گوکہ ان کی پچھلی دونوں فلموں سے مختلف ہے لیکن انداز وہی ہلکی پھلکی کامیڈی کے ساتھ رومانس کا ہے۔ وجاہت کی فلموں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی فلم میں زیادہ تر تفریح کو ہی مد نظر رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی اب تک کی تینوں فلموں کی ہیروئن ایک سپر اسٹار جبکہ ہیرو ایک ابھرتے ہوئے فنکار ہیں۔ یہاں یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ وجاہت رؤف کی ہر نئی فلم ان کی پچھلی فلم سے کہانی اور ہدایتکاری، دونوں اعتبارسے بہتر ہوتی ہے۔

چھلاوہ ایک روایتی فلمی کہانی ہے جو ایک سخت گیر باپ چوہدری رفاقت (محمود اسلم) اس کی بیٹیوں زویا (مہوش حیات) اور حیا (زارا نور عباس) اور ایک بیٹے ہارون ( عاشر وجاہت) کے گرد گھومتی ہے۔ دیگر کردار ان کی زندگیوں میں آنے والے لوگ ہیں، جن میں سب سے اہم زویا کی محبت سمیر (اطفر رحمان) ہے۔ زویا اور سمیر شادی کرنا چاہتے ہیں مگر چوہدری رفاقت اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھائی چوہدری نزاکت کے بیٹے جلال چوہدری (محسن اعجاز) سے کروانا چاہتا ہے۔ زویا جو کہ ایک خود مختار لڑکی ہے، اپنے باپ کے اس فیصلے کو ماننے سے انکاری ہے۔ زویا سے شادی کو یقینی بنانے کے لیے سمیر اپنے دوست لقمان (اسد صدیقی) کی مدد لیتا ہے اور دونوں ایک نقلی پیراور ڈاکٹر کے روپ میں چوہدری رفاقت کے گھرمیں داخل ہوجاتے ہیں اور وہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہے۔ اسی دوران حیا جو کہ ایک خوش باش لڑکی ہے اور جس کا خواب بالی وڈ کے ہیرو جیسے شخص کو اپنا جیون ساتھی بنانا ہے، لقمان کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ ان محبتوں کا انجام کیا اور کیسے ہوتا ہے فلم کا نقطہ عروج اور انجام ہی بتاتے ہیں۔

اداکاری کی بات کریں تو سب نے اپنی جگہ اچھا کام کیا ہے۔ مہوش حیات ہمیشہ کی طرح اپنا کام محنت سے کرتی نظر آئیں۔ مہوش کی خاص بات یہ ہے کہ وہ فلم میں اپنی فطری اداکارانہ صلاحیتوں کو بھی استعمال کرتی ہیں۔ مہوش حیات کی یہ چھٹی فیچر فلم ہے اور ان کا ریکارڈ باکس آفس پر اب تک انڈسٹری کی دیگر تمام خوتین اداکاراؤں سے بہتر رہا ہے۔ زارا نور عباس فلم کے شروع میں اپنی خالہ بشریٰ انصاری کی اداکاری سے متاثر نظر آئیں مگر بعد میں انہوں نے اپنا ایک انداز اپنانے کی کوشش کی۔ بہرحال ان کی اداکاری بے ساختہ تھی اور وہ فلم اندسٹری میں ایک اچھا اضافہ ہیں۔ اظفر رحمن نے واقعی حیران کیا ہے اور ڈراموں سے بہت مختلف کام کیا ہے۔ ان کی اداکاری دیکھ کر لگ رہا تھا کہ بڑی سکرین کا جادو ان کی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کردیتا ہے۔ اسد صدیقی کہیں کہیں وجاہت رؤف کی پچھلی دو فلموں کے رائٹر اور اداکار یاسر حسین کا نعم البدل لگے مگر جتنا انکا رول تھا وہ انہوں نے بہترطریقے سے ادا کیا۔ محمود اسلم ایک منجھے ہوئے اداکارہیں اورکسی بھی کردار میں جان ڈالنا ان کو آتا ہے۔ البتہ عاشر وجاہت نے ایک نوعمر لڑکے کا کردار بہ خوبی نبھایا اور ہر نئی فلم میں ان کے کام میں بہتری آرہی ہے۔ اس کم عمری میں بھی وہ اپنے کردارکو مکمل طور پر سمجھ کر نپی تلی اداکاری کررہے ہیں۔

شیراز اپل کی ترتیب کردہ موسیقی میں کل چار گانے فلم میں‌ شامل ہیں، جن میں ٹائٹل سونگ چھلاوہ اور چڑیا ڈانس نمبر ہیں جن کو معروف کوریوگرافر وہاب شاہ نے کوریوگراف کیا ہے۔

ایک کامیڈی فلم ہونے کے ناطے چھلاوہ کی سیچوئیشنز تو مناسب ہیں مگر مکالمے کئی جگہ کمزور ہیں. فلم میں سٹائلنگ پر کافی توجہ دی گئی ہے مگر کہیں کہیں پنجاب کے کلچر کو اجاگر کرنے کی خاطر میک اپ کو بہت زیادہ شوخ کردیا کیا ہے جو اکثر فلم کی ضرورت نہیں ہے، کپڑوں اور زیورات سے بھی کام چلایا جاسکتا تھا۔ فلم کی کہانی گوکہ سادہ ہے بلکہ کہیں کہیں ناظرین اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے مگر دلچسپی کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ہاں مگر ایک بڑا سوال یہ رہ جاتا ہے کہ فلم کا نام چھلاوہ کیوں ہے۔

بہرحال چھلاوہ کے بارے میں ناقدین اور ناظرین کی ملی جلی رائے آنے باوجود مہوش حیات کا سلوراسکرین کا جادو کام کررہا ہے اور فلم دنیا بھرمیں اب تک تقریبا ساڑھے سترہ کروڑ کا بزنس کرچکی ہے۔ اور ابھی بھی اس کی نمائش سینماؤں میں جاری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے