About the author

سبوخ سید

سبوخ سید

سبوخ سید معروف صحافی ہیں ، ان کی آئی بی سی اردو پر شائع شدہ تمام تحاریر پڑھنے کے لئےنیچے دئیے گئے لنک پہ کلک کریں: سبوخ سید کی تمام تحاریر

One Comment

  1. 1

    Fazal Hadi Hassan

    رجم کے معاملہ پر جمہور علماء کا اتفاق اور اجماع ہے ۔ رسول اللہ ﷺ ، صحابہ
    کرام رضوان اللہ اجمعین اور اس کے بعد امت کا اس پر اجماع ہے یہاں تک جب معتزلہ
    اور خوارج ظاہر ہوئے۔

    اس بارے میں لوگ جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو رجم کی سزا سنائی تھی وہ
    ان آیت سے پہلی تھی، ان کی خدمت میں صرف یہ دو روایت پیش کرتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ
    کے بعد صحابہ کرام نے بھی رجم کی سزا سنائی ہے ان میں روایت حضرت عمرؓ کی ہے جبکہ
    دوسری حضرت علی ؓ کی۔

    حدیث کے مقام اور حجیت پر بات کرنے والے اگر ان کتب کو حدیث کی وجہ سے بالواسطہ رد
    اور انکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کم ازکم تاریخ کی کتاب کے طورپر بھی دیکھنے
    اور یقین کرنے کی زہمت اٹھائے۔

    عن ابن عباس ـ رضي الله عنهما ـ قال: قال عمر: إن الله قد بعث محمداً صلى
    الله عليه وسلم بالحق وأنزل عليه الكتاب فكان مما أنزل عليه آية الرجم قرأناها
    ووعيناها وعقلناها، فرجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده، فأخشى إن طال
    بالناس زمان أن يقول قائل: ما نجد الرجم في كتاب الله فيضلوا بترك فريضة أنزلها
    الله، وإن الرجم في كتاب الله حق على من زنى إذا أحصن من الرجال والنساء إذا قامت
    البينة أو كان الحبل أو الاعتراف، وقد قرأتها: الشيخ ‏والشيخة إذا زنيا فارجموهما
    البتة، ‏نكالاً من الله، والله عزيز حكيم. متفق ‏عليه

    حضرت ابن عباس رضی اللہ
    عنھما روایت کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ـ’’بے
    شک ، اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور اُن پر اپنی
    کتاب نازل کی۔ اُس میں آیت رجم بھی تھی ۔ چنانچہ ہم نے اُسے پڑھا اور سمجھا اور
    یاد کیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی بنا پررجم کیا اور اُن کے
    بعد ہم نے بھی رجم کیا ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگوں پر کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا
    کہ کہنے والے کہیں گے کہ ہم تو رجم کی آیت اللہ کی کتاب میں کہیں نہیں پاتے اور
    اِس طرح اللہ کے نازل کردہ ایک فرض کو چھوڑ کر گم راہ ہوں گے ۔ یاد رکھو، رجم اللہ
    کی کتاب میں ہر اُس مرد و عورت پر واجب ہے جو شادی کے بعد زنا کرے بشرطیکہ اس پر
    گواہی قائم ہو یا (عورت کا) حمل ظاہر ہو یا (جرم کا) اعتراف موجود ہو اور میں نے
    خود اس آیت کی تلاوت کی ہے’ الشيخ
    ‏والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة، ‏نكالاً من الله، والله عزيز حكيم ‘ ۔‘‘بخاری ومسلم

    عن ابن عباس قال: قال عمر:”لقد خشیت أن یطول بالناس زمان حتی یقول
    قائل: لا نجد الرجم في کتاب اﷲ فیضلوا بترك الفریضة أنزلھا اﷲ، ألا وإن الرجم حق
    علی من زنیٰ وقد أحصن إذا قامت البینة أو کان الحمل أو الاعتراف… ألا وقد رجم
    رسول اﷲ ! ورجمنا بعدہ (بخاری 6829)

    ”حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ”مجھے یہ اندیشہ
    ہے کہ طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بعض لوگ یہ کہیں گے کہ”ہمیں تو اللہ کی کتاب میں
    رجم کا حکم نہیں ملتا۔” یوں وہ اللہ کے ایک نازل کردہ فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں
    گے۔ خبردار! رجم کی سزا واجب ہے اُس شخص پر جو شادی شدہ ہونے کے بعد مرتکب ِزنا ہو
    …آگاہ رہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد ِرجم نافذ فرمائی اور ان کے
    بعد ہم نے بھی حد ِرجم کو جاری کیا۔”

    موطا کی روایت میں یہ الفاظ ہے حدثني مالك عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أنه سمعه يقول لما صدر عمر بن الخطاب من منى أناخ بالأبطح ثم كوم كومة بطحاء ثم طرح عليها رداءه
    واستلقى ثم مد يديه إلى السماء فقال اللهم كبرت سني وضعفت قوتي وانتشرت رعيتي
    فاقبضني إليك غير مضيع ولا مفرط ثم قدمالمدينة فخطب
    الناس فقال أيها الناس قد سنت لكم السنن وفرضت لكم الفرائض وتركتم على الواضحة إلا
    أن تضلوا بالناس يمينا وشمالا وضرب
    بإحدى يديه على الأخرى ثم قال إياكم أن تهلكوا عن آية الرجم أن يقول قائل لا نجد حدين في كتاب الله فقد رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا والذي نفسي بيده لولا أن يقول الناس زاد عمر بن الخطاب في كتاب الله تعالى لكتبتها الشيخ
    والشيخة فارجموهما ألبتة فإنا قد قرأناهاقال مالك قال يحيى بن سعيد قال سعيد بن المسيب فما انسلخ ذو الحجة حتى قتل عمر رحمه
    الله قال يحيى سمعت مالك يقول قوله الشيخ والشيخة يعني الثيب والثيبة فارجموهما
    ألبتة

    ’’عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں
    کو خطبہ دینے ہوئے فرمایا : تم آیت رجم کا انکار کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے
    سے بچو۔ ایسا نہ ہو کہ کہنے والے کہیں کہ ہم تو اللہ کی کتاب میں دو سزاؤں
    (تازیانہ اور رجم) کاذکر کہیں نہیں پاتے ۔ بے شک ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی
    رجم کیا او ر ہم نے بھی ۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، مجھے اگر
    یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا تو میں
    یہ آیت : ’’بوڑھے زانی اور بوڑھی زانیہ کو لازماً رجم کردو‘‘، قرآن مجید میں لکھ
    دیتا، اِس لیے کہ ہم نے یہ آیت خود تلاوت کی ہے ۔‘‘

    سلمة بن کھیل
    قال سمعت الشعبي یحدث عن علي حین رجم المرأة یوم الجمعة وقال: قد رجمتھا بسنة رسول
    اﷲﷺ (صحیح البخاری 6812)

    ”سلمہ بن کہیلؓ سے
    روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے شعبی سے حضرت علیؓ کے بارے میں یہ بات سُنی کہ جب
    اُنہوں نے جمعہ کے روز ایک زانیہ عورت کو رجم کی سزا دی تو فرمایا: ”میں نے اس
    عورت کو سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق رجم کیا ۔”

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *