اقبال کی حقیقی عظمت کیا ہے

اقبال کی حقیقی عظمت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننا جتنا ضروری ہے اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ اقبال اس لیے عظیم نہیں ہے کہ انھوں نے کسی خاص مذہب سے وابستہ لوگوں کو لیے کسی الگ ملک کا خواب دیکھا۔ دنیا میں کتنے ہی ایسے مشاہیر ہیں جنہوں نے اپنے لوگوں کے لیے الگ وطن کا تصور پیش کیا اور اس کے لیے جدوجہد کی۔

اقبال اس وجہ سے بھی عظیم نہیں ہیں کہ انھوں نے کسی خاص قوم کو تاریخ کے کسی خاص مرحلے پر بیدار کیا۔ بہت سے ایسے رہنما اور قائدین گرزے ہیں جنہوں نے اپنی قوم کو اپنی تحریر و تقریر سے ایک ولولہ تازہ دیا۔ اقبال اس وجہ سے بھی عظیم نہیں ہیں کہ ان کی شاعری فنی اعتبار سے بہت ارفع مقام پر فائز ہے۔

فنی اعتبار سے نہائت عالی مرتبت شعرا تاریخ کے اوراق پر بکھرے پڑے ہیں۔ اقبال اس وجہ سے بھی عظیم نہیں ہیں کہ ان کے ہاں علمیت کا ایک بحر بیکراں ہے۔

دنیاۓ ادب میں علمی تبحر سے مالا مال شعرا کی کوئی کمی نہیں۔ پھر اقبال کی اصل عظمت کیا ہے؟ میرۓ خیال میں اقبال کی اصل اہمیت کے دو پہلو ہیں جن میں سے ایک انسان سے متعلق ہے اور دوسرا فن سے اور یہی دو پہلو ہیں جو اقبال کی عظمت کی مضبوط ترین اور ناقابل شکست بنیادیں ہیں۔ اقبال نے انسان کا ایک نیا اور منفرد تصور پیش کیا۔

اقبال کا یہ تصورِ انسان اس قدر ارفع، عالمگیر، لازمانی اور لامکانی ہے کہ بسااوقات اقبال کے انسانِ کامل اور خدا کے درمیان ایک رقابت باہمی کا تاثر ملتا ہے تاہم اگلے ہی لمحے ایک دل گرفتہ گریہ زاری اور اک اظہار لاچاری انسان اور خدا کے درمیان ایک حدِ فاصل کھینچ دیتا ہے۔ اس حدِ فاصل کے باوجود اقبال کا انسان جس اُفق پر پرواز کرتا نظر آتا ہے وہ نہایت بلند اور نہائت پرشکوہ ہے۔

عظمت اقبال کا دوسرا پہلو فن ہے اور جس حسن اور جس مہارت سے اقبال نے فن کو مقصدیت کے تابع کیا وہ انہی کے شیایان شان ہے۔ فن کی تکنیکی کاملیت میں ذرہ برابر کمی کیے بغیر اس کو مقصدیت کےاس طرح تابع کرنا کہ نہ تو جذباتی تبلیغ کا تاثر ابھرے نہ ہی بوریت کا احساس پیدا ہو اقبال ہی کا خاصہ ہے۔

گویا اس لحاظ سے اقبال ایک منفرد مقام پر فائز ہیں اور ان کے بعد زمانہ قدیم سے چلے آنے والے اعتراض (کہ مقصدیت فن کی موت ہے) کی نہائت مضبوط انداز مین تغلیط ہوگئی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے