’’میرے عزیز ہم وطن لٹیرو! آزادی مبارک‘‘

’’میرے عزیز ہم وطن لٹیرو! آزادی مبارک‘‘

میرے عزیز ہم وطن لٹیرو، جاگیردارو، سردارو، قانون کی دھجیاں اڑانے والو، اسمبلیوں میں بیٹھ کا کرپشن کا بازار گرم رکھنے والو، پارلیمنٹ لارجز میں بیٹھ کر ولایتی شراب پینے والے دیسی سیاستدانوں اور سینے پر پاکستانی جھنڈا لگا کر ’’وطن عزیز‘‘ کے آئین کو اپنے موٹے اور کالے بوٹوں کے نیچے روندنے والوں تم سب کو ’’جشن آزادی مبارک‘‘۔ ان کو “آزادی مبارک جو راتو رات بندے اٹھاتے” ہیں اور ان کا پانچ پانچ سال کوئی سراغ نہیں ملتا۔

ملک بھر کے ان قاتلوں، چوروں اور ڈکیتوں کو بھی ’’آزادی مبارک‘‘ جو اپنی ’’حلال‘‘ کی کمائی میں سے علاقے کے تھانیداروں اور ایم پی ایز کو بھی حصہ دیتے ہیں اور آج تک ’’آزادی‘‘ کے مزے لے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ کراچی اور ملک کے ان بھتہ خوروں کو بھی ’’جشن آزادی مبارک‘‘، جن کا ہاتھ آج کل تھوڑا تھوڑا تنگ نظر آ رہا ہے۔ میرے اُن عزیز ہم وطنوں کو بھی دلی طور پر آزادی مبارک، جو سر عام ، جعلی دوائیاں، پانی سے بھرے ٹیکے، کتوں کی چربی کا گھی اور گدھوں کا گوشت کھلے عام فروخت کرتے ہیں۔ ان کو “آزادی مبارک”

کرپٹ سیاستدانوں کے ان رشتے داروں کو “آزادی مبارک” جو اسکولوں اور ہسپتالوں کی اینٹوں سے اپنے ڈیرے بنا رہے ہیں۔ معاشرے کی ان معزز ترین حکومتی شخصیات کو مبارک، جن کو پروٹوکول کی آٹھ آٹھ گاڑیاں ملی ہوئی ہیں اور وہ جہاں سے بھی گزرتی ہیں، وہاں “آزاد عوام” کا قدم رکھنا محال ہو جاتا ہے۔ آزادی مبارک ہو ان سابق وزیراعظم صاحب کو، جو لاہور جاتے ہوئے سکیورٹی کے نام پر ہر ایک دکان بند کروا دیتے ہیں۔ آزادی مبارک ہو ان کے کارواں میں شامل ان امپورٹڈ گاڑیوں کو جو غریب کے بچے کو اپنے ٹائروں تلے کچل کر گزر جاتی ہیں۔ آزادی تو اصل میں ان وی وی آئی پیز کو ملی ہے، جو اپنے راستے میں ایک گاڑی کو چلتے دیکھنا بھی مناسب نہیں سمجھتےاور پورے شہر کی پولیس ان کی آزادی کا تحفظ کر رہی ہوتے ہے۔

میڈیا کے ان غریب اینکروں اور صحافیوں کو “آزادی مبارک” جن کے بینک بیلنس کروڑں میں جا چکے ہیں اور وہ اپنے رشتہ داروں کے نام پر بیرون ملک اکاؤنٹ کھلوا رہے ہیں۔ آزادی صحافت کے ان علمبرداروں کو “آزادی مبارک” جو بغیر کسی ثبوت کے جس کی چاہے پگڑی اچھالتے ہیں۔ ان علمائے اکرام کو “آزادی مبارک” جو جس پر چاہتے ہیں کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں، ان مجاہدوں کو “آزادی مبارک” جو اپنی اسٹریٹیجک کامیابی کے لیے، جس مارکیٹ میں چاہتے ہیں ، بم دھماکا کر کے ستر ستر خاندانوں کا چولہا بجھا دیتے ہیں۔

یہ لوگ شاید کسی اور ملک میں ہوتے تو ’’اللہ کی آزادی جیسی عظیم نعمت‘‘ سے محروم رہتے۔ ان کو آج کے دن شکرانے کے طور پر سر سجدے سے سر نہیں اٹھانا چاہیے۔

میرے ’’آزاد ہونے‘‘ والے ’’عزیز ہم وطنو‘‘ کی لسٹ بہت ہی طویل ہے، میرا وطن ایسے ’’آزاد لوگوں‘‘ سے بھرا پڑا ہے، جن کی حب الوطنی کی وجہ سے ان کی اولادوں کی بھی اندرون اور بیرون ملک تجوریاں امریکی ڈالروں سے بھر چکی ہیں لیکن میں سب کو فرداﹰ فرداﹰ آزادی مبارک کہنے سے قاصر ہوں۔

باقی رہ گئے ملک کے غریب غرباء عوام تو ان کو آج کی چھٹی مبارک، عوام دہی بھلے اور فروٹ چاٹ کھائیں اور نوجوان ون ویلنگ کریں۔

لیکن آزادی حاصل کرنے والے وہ بچے بچیاں، مائیں بہینیں، بوڑھے بزرگ، جو کسی محب وطن سیاستدان، وڈیرے، جاگیردار، سائیں، یا تاجر کے ہاں ملازم ہیں، وہ ’’غدار قسم کے لوگ اور دولت کے پجاری‘‘ آج بھی کسی اونچی لمبی دیواروں والی حویلی میں کپڑے دھونے اور صاحب جی کے جوتے پالش کرنے چلے جائیں گے۔ یہ بدتمیز ریڑھی والا آج بھی فروٹ بیچنے چلا جائے گا اور دولت کے لالچی آج بھی غبارے اور پاکستان کے جھنڈے بیچنے کے لیے سڑکوں کے کناروں پر کھڑے رہیں گے۔
ان ’’نافرمانوں‘‘ کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ آج یوم آزادی ہے۔ جب پوری حکومت چھٹی کرتی ہے، ساستدان اپنے فارم ہاوسز میں ہوتے ہیں، اہم رہنما بیرون ملک تقریروں کے لیے چلے جاتے ہیں تو ان ریڑھی والوں، پرچون والوں، مزدوروں اور نوکروں کو بھلا کیا تکلیف ہے ؟ یہ کیوں آج کے دن “آزادی کی خوشیاں” نہیں مناتے۔ مجھ سے پوچھیے تو اصل میں یہ پاکستان کے ’’غدار‘‘ ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ’’دشمن کے ہاتھوں بک‘‘ چکے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ ان کی ’’جائیدادیں‘‘ ضبط کر لیں، ورنہ یہ ملک کو کھا جائیں گے، ورنہ ان کے “پاناما میں اکاؤنٹ” نکل آئیں گے۔ یہ ملک کے لیے ’’حقیقی‘‘ خطرہ ہیں۔ یہ ’’تمہاری اور میری‘‘ آزادی کے لیے خطرہ ہیں۔

اور آخر میں دعا یہ ہے کہ خدا کرے ہمیں وہ آزادی نصیب ہو، جب “کیڑے مکڑوں” جیسی زندگی بسر کرنے والی عوام کو بھی برابری کے حقوق ملیں۔ ذات پات، رنگ، نسل، امیر اور غریب کے فرق سے بالاتر ہو کر سب پاکستانیوں کو وہ عزت ملے، وہ انصاف ملے، ترقی کے وہ یکساں مواقع ملیں جس کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا۔ سب کو مذہب کی وہ آزادی میسر ہو، جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔
احمد ندیم قاسمی صاحب کے ایک غزل۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

آئی بی سی کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Most Recent Entries

  • consectetur adipiscing elit

    consectetur adipiscing elit

  • Nulla molestie tortor eu velit blandit

    Nulla molestie tortor eu velit blandit

  • Etiam sodales nulla sed enim ornare

    Etiam sodales nulla sed enim ornare

  • sed placerat lacus

    sed placerat lacus

error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ