12دسمبر 2019آزاد جموں وکشمیر بار کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں آزادکشمیر کا آخری وزیر اعظم ہوں۔کچھ لوگوں سے کیا مراد؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگر وزیر اعظم فاروق حیدر خان کے اشاروں اور الفاظ کی روشنی میں دیکھا جائے تو مستقبل کا منظر نامہ واضح ہو جاتا ہے۔راوی کے بقول وزیر اعظم نے اپنے کندھے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا اور پھر کہا نام لینا ضروری نہیں آپ سمجھ گئے ہوں گے؟
آسان الفاط میں وزیر اعظم کے جملوں کی تفہیم کچھ یوں بنتی ہے کہ آزادکشمیر کے موجودہ انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ انتظامی رشتے کی جگہ آئینی رشتہ قائم کیا جائے گا۔اگر اس کی مزید تشریح کی جائے تو پیش منظر کا منظر نامہ اس طرح ہوگا۔2لاکھ 22ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل ریاست جموں وکشمیر میں سے 1لاکھ 1ہزار مربع کلو میٹر بھارت کے پاس رہے گااور بقیہ 72971مربع کلو میٹر گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ اور 13927مربع کلو میٹر پر محیط آزادکشمیر کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کر کے پاکستان کی جغرافیائی حدود میں شامل کیا جائے گا،یوں مسئلہ کشمیر ہندوستان پاکستان کے ساتھ ساتھ منقسم کشمیر کے ہر دو اطراف الحاق نواز جماعتوں کی خواہشات کے عین مطابق مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کیا غیر مقبول حل ریاست جموں وکشمیر کے لوگ تسلیم کر لیں گے؟
میرے خیال میں اہل جموں کشمیر کے پاس اس کے علاوہ فی الوقت کوئی آپشن نہیں۔اس سارے قضئے کو جاننے کیلئے اگر ماضی کے اوراق کھنگالے جائیں تو صورتحال وہ نہیں جس کے حصار میں ہم قید ہیں۔اقوام متحدہ کی قراردادوں میں اہل جموں وکشمیر کا حق خود ارادیت بھارت اور پاکستان کے ساتھ الحاق سے مشروط ہے،اگر جموں کشمیر کے لوگوں کی اکثریت رائے شماری کے ذریعے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے تو جموں کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گااور اگر بھارت کے حق میں فیصلہ دیں تو جموں کشمیر بھارت کا حصہ بنے گا۔رائے شماری میں فی الوقت تیسرا بکس موجود ہی نہیں،جس میں جموں کشمیر کے لوگ مکمل آزادی اور خود مختاری کے ووٹ ڈال سکیں.
البتہ مکمل آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کا بنیاد ی انسانی حق ہے،مختلف تھنک ٹینک‘این جی اوز کی طرف سے جو سروے کیے گئے ان کے نتائج کی روشنی میں جموں کشمیر کے عوام کی اکثریت کی خواہش مکمل آزادی اور خود مختاری ہے لیکن اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مبینہ خاموش اکثریت میں سے ایک فیصد لوگ بھی گزشتہ دو تین دہائیوں میں گھروں سے باہر نہیں نکلے۔
الحاق پاکستان اور الحاق ہندوستان کا نظریہ بھی دوہرے معیار کا شکار ہے۔مسلم کانفرنس الحاق پاکستان کی بانی جماعت شمار ہوتی ہے گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی کے شروع میں اس جماعت کے اہم ترین سیاستدان سردار عبدالقیوم نے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ دیا،تعلیمی اداروں میں ہر صبح کلاسز شروع کرنے سے قبل یہ نعرہ لازمی قرار دیا گیا۔مرکزی شاہرات،پلوں اور سرکاری عمارتوں کے باہر کشمیر بنے گا پاکستان کے بڑے بڑے سائن بورڈ آویزاں کیے گئے۔
1974میں آزادکشمیر میں عبوری آئین دیا گیا جس کے تحت آزادکشمیر کے صدر،وزیر اعظم، وزراء کیلئے پاکستان سے الحاق کا حلف لازمی قرار دیا گیا۔غالباً 1976 میں قانون سازی کی گئی کہ الیکشن لڑنے سے قبل ہر شہری کیلئے لازم ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق کی شق تسلیم کرے۔
پاکستان کے زیرانتظام ریاست جموں کشمیر کے اس حصے جسے آزادکشمیر کہا جاتا ہے میں 24اکتوبر 1947کو ایک حکومت قائم کی گئی جس نے 28اپریل 1949کو معاہدہ کراچی کے ذریعے 72ہزار مربع کلو میٹر پر محیط گلگت بلتستان سے دستبرداری اختیار کی،24اکتوبر 1947کو جو آزاد حکومت قائم ہوئی اس کے پاس کس قدر اختیارات ہیں اور 1947سے قبل اس خطہ میں جو حکومت قائم تھی وہ کس قدر اختیارات رکھتی تھی یہ الگ بحث ہے بہرحال اس وقت آزادکشمیر میں مسلم کانفرنس،پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیراور پاکستان مسلم لیگ نواز آزادکشمیر الحاق پاکستان کی حامی سیاسی جماعتیں ہیں۔
آج جب کشمیر کو پاکستان بنایا جا رہا ہے،گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی بات کی جا رہی ہے تو آزادی اور خود مختاری کی باتیں کرنے والوں کی ان کے نظریے کی روشنی میں اس کی مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن الحاق کی بات کرنے والوں کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ان کے نظریے کشمیر بنے گاپاکستان اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کو عملی شکل مل رہی ہے،ان کے نظریے کے مطابق پوری روٹی نہ سہی جو آدھی روٹی پاکستان کو مل رہی ہے اس پر تحفظات کو کیا کہا جائے؟؟؟اور کیاالحاق کے دعویدار پوری روٹی ملنے پر ساری پاکستان کی جھولی میں ڈال دیں گے؟
پاکستانی حکمران اس پر یقین کرنے کیلئے کس طرح تیار ہو سکتے ہیں جب ان کے اپنے قول و فعل میں تضاد ہے‘خارجی زبان میں اہل جموں کشمیر کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت کی بات کی جاتی ہے اور داخلی حکمت عملی کشمیر کا پاکستان میں ادغام ہے سو دونوں فریقین پرکشش مگرتضاد سے بھرے بیانیے سے ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
5اگست کے بعد کی نئی صورتحال نے آرپار کی الحاق نواز سوچ کے حامل سیاستدانوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے،الحاق کے نام پر لطف راحت کا سامان چھننے کا خدشہ پیدا ہوا تو رائے شماری کا نعرہ بلند ہونا شروع ہو گیا وہ جو اس پار ہندوستان کے اندر خصوصی حیثیت کے ساتھ خوشی سے رہنے کی بات کرتے تھے،ہندوستان کے سیکولر ازم اور جمہوری قدروں کی بات کرتے تھے اب قید و بند میں اپنے سیاسی بزرگوں پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور جو آزادکشمیرمیں ملت اسلامیہ کی بات کرتے تھے، کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہتے تھے نئے آئینی رشتے کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی آوازیں ان کی نیندیں اچاٹ کیے ہوئے ہیں…
کشمیر کی بانٹ کا فیصلہ اچانک نہیں ہوا اس وقت جو ناقابل قبول حل مسلط کیا جا رہا ہے اس کا پہلا سپیل شملہ معاہدے کے بعد کا دور ہے اور دوسرا پرویز مشرف کے دور سے شروع ہوا جس کی مختلف جہتیں اب سامنے آرہی ہیں۔
آزادکشمیر کے سابق صدر جنرل انور سے 12دسمبر 2019 کو راقم نے چند صحافی دوستوں کے ہمراہ تفصیلی گفتگو کی۔محتاط لفظوں میں جنرل انور نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسئلہ کشمیر کے غیر مقبول حل کیلئے پرویز مشرف نے ان پر دباؤ ڈالا مگر انہوں نے پرویز مشرف کی بات تسلیم نہیں کی جس پر پرویز مشرف ان سے ناراض ہو گئے تھے۔ یوں آج ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے اس میں آزادی پسندوں کے علاوہ کسی کیلئے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے …
آزادکشمیر میں مسلم کانفرنس،پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر،پاکستان مسلم لیگ نواز آزادکشمیر،جموں وکشمیر پیپلز پارٹی،حال ہی میں قائم ہونے والی پاکستان تحریک انصاف،جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی خواہش تھی کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے. وہ بن رہا ہے۔اس پار نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی الحاق ہندوستان کی بات کرتے تھے وہ بھی ہو گیا ، اس سارے عرصہ میں جو مکمل آزادی کی بات کرتے تھے، منتشر ہجوم ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔سو وہ طبقہ آج بھی اس منشتر ہجوم کو قوم بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
سال 2019ء میں جو پیش رفت ہوئی ، اس کے نتیجے میں 1846کے معاہدہ امرتسر سے وجود میں آنے والی1947کے حادثے میں عارضی طور پر تقسیم ریاست جموں وکشمیر آج 173سال بعد مستقل تقسیم کی جانب بڑھ رہی ہے۔ حق خود ارادیت،خصوصی حیثیت،الحاق،اٹوٹ انگ کے نام پر ہر دو اطراف کے سیاستدان1947کے بعد آج تک ایک ایک سرگرمی کی کسی نہ کسی شکل میں قیمت وصول کرنے والے اس لیے پریشان ہیں کہ ان کے کاروبار کا مندا شروع ہو گیا ہے۔اس سارے قضیے میں یہ واحد عمل ہے جو کشمیری سیاستدانوں کی خواہشات کے مطابق نہیں۔
سچ یہ ہے کہ جموں کشمیر کے سیاستدانوں نے مسئلہ کشمیر کو دو ممالک کے درمیان زمین جھگڑا ثابت کرنے کیلئے معقول مال کے عوض جو خدمات فراہم کیں، اس کے نتائج ثمر آور ثابت ہوئے۔ جب دو برابر کی طاقتوں کے درمیان زمین کا جھگڑا ہوتا ہے تو اس کا حل یہی نکلتا ہے جو جس کے پاس ہے وہ اسی کا،جب اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار چکے ہوں تو پھر لنگڑا کر چلنے کے علاوہ چارہ ہی کیا، البتہ قومی آزادی کی بات کرنے والوں کی تمام تر خامیوں کے باوجود وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رہی بات محترم راجہ فاروق حیدر خان کی جس میں انہوں نے فرمایا کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں آزادکشمیر کا آخری وزیر اعظم ہوں،انہیں یاد ہوگا کہ 1947کے بعد اس ریاست کا پہلا مسلمان وزیراعظم شیخ عبداللہ بنا اور اگر آخری راجہ فاروق حیدر ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں شیخ عبداللہ سے لے کر فاروق حیدر تک جن سیاستدانوں نے الحاق کیلئے جدوجہد کی، انہیں اپنی جدوجہد کا پھل مل گیا،اور جہاں تک بات ہے وزارت عظمیٰ کی تو حضرت یہ وزارت عظمیٰ جو آپ کے پاس ہے واقعی وزارت عظمیٰ ہے؟ اس بارے میں آپ سے زیادہ کون جانتا ہے؟
چھوڑیں ان قصوں کو،آپ کا نظریہ تھا کشمیر بنے گا پاکستان، آج اس کی تکمیل ہو رہی ہے،سو جانے دیں آپ کے خوابوں کی پوری نہ سہی آدھی تعبیر ہونے جا رہی ہے، ایسے میں چیخوں کی آواز مناسب نہیں لگتی۔