مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے آزادکشمیر کی اقتدار نواز سیاسی قیادت تیز دھار تلوار کی زد میں ہے۔ فرائی انڈا پلٹنے کی صلاحیت نہ رکھنے والے سیاستدانوں کے مقدر پلٹنے کا باعث بننے والے بیانیے کی روح کے عین مطابق آج بچے کھچے جموں کشمیر کو پاکستان بنایا جا رہا ہے تو کشمیر بنے گاپاکستان کا نعرہ لگوانے والوں کی نیندیں غائب ہو چکی ہیں۔ خلوت میں کبھی کبھی انگڑائی لینے والے ”ضمیر“جلوت میں بھرپور انداز میں جاگنے کا تاثر دے رہے ہیں۔
وقت پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جسے خواب کی باتیں
مسلم کانفرنس اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی مسلم لیگ ن آزادکشمیر اور دیگرپاکستانی سیاسی جماعتوں کی شاخوں کی شکل میں قائم ہونے والی سیاسی جماعتوں نے نظریہ الحاق پاکستان کی 1947کے بعد آج اپنے اقتدار کیلئے آبیاری کی۔اس نظریے سے انحراف کو کفر قرار دیا‘غداری کہا‘آج جب آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کا پاکستان میں ادغام کیا جا رہا ہے تو اس کی مخالفت ان کی طرف سے کیوں؟
کشمیر کا پاکستان سے الحاق،کشمیر پاکستان کی شہ رگ،کشمیر بنے گا پاکستان ساری زندگی اس بیانیے پر حلف اٹھانے والے کل غلط تھے یا آج؟
کیا یہ طبقہ واقعی پاکستان سے محبت کرتا ہے یا ان کا پاکستان سے محبت کا دعویٰ محض اقتدار کیلئے تھا؟
مرکزی ایوان صحافت کی طرف سے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیرنے جو گفتگو کی وہ ریاست جموں وکشمیر کی بانٹ کی عکاس ہونے کے علاوہ آزادکشمیر کے سیاستدانوں کے مائنڈ سیٹ کی آئینہ دار تھی۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا یہ کہنا کہ” آزادکشمیر کی بقا بھارتی مقبوضہ کشمیر سے جڑی ہوئی ہے“۔تحریک آزادی کشمیر کی آڑ میں آزادکشمیر کے سیاستدانوں کے طرز حکمرانی مفادات کی دوڑ کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو سیدھی بات یہ بنتی ہے کہ منقسم ریاست کے اس پار گرنے والا خون کا ہر قطرہ آزادکشمیر کے سیاستدانوں کے اقتدار کیلئے آکسیجن ہے‘اس کا عملی اظہار وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اپنی تقریر میں کیا۔کشمیر کے نام پر یہ کھیل کب تک …………نئی نسل اب نظریاتی تخریب کاری کا حساب مانگ رہی ہے۔کیا آزادکشمیر کے سیاستدانوں کے پاس ان سوالات کے جواب ہیں؟
1947میں مہاراجہ ہری سنگھ پوری ریاست معاہدہ قائمہ کے ذریعے پاکستان سے الحاق کرتا ہے۔جموں وکشمیر میں مسلم اکثریت تھی دس سال بیس سال بعد مہاراجہ کی شخصی حکمران کے مد مقابل اس خطہ میں جمہوریت ہوتی۔ فرضی کہانیوں کی آڑ میں لاکھوں لوگوں کی ہجرت اور قتل کا سبب بننے والی احمقانہ مہم جوئی کے تمام کردار ہیرو کیوں ٹھہرے؟
تاریخ کا حافظہ اتنا کمزور نہیں جب شیخ عبداللہ نے کشمیر چھوڑ دو تحریک شروع کی تو مسلم کانفرنس مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ کیوں کھڑی تھی؟مسلم کانفرنس کی 19جولائی1947کی مبینہ قرارداد کے عین مطابق جب ہری سنگھ کا پاکستان سے معاہدہ ہوجاتا ہے تواس احمقانہ مہم جوئی کو کیا نام دیا جائے جس سے ریاست تقسیم ہو ئی‘لاکھوں لوگ مارے گئے‘ 28اپریل 1949کو گلگت بلتستان سے دست برداری اختیار کی،پھر اقتدار کیلئے وسائل سے دست برداری …………ریاست کے مجموعی رقبے کا چھ فیصد حصہ جسے آزادکشمیر کہا جاتا ہے 1947کے بعد یہاں جو کچھ ہوا اسے سیاستدانوں کے تاریخی بلنڈر،اقتدار،مراعات،اقرباء پروری کے علاوہ کوئی نام دیا جا سکتا ہے؟
5اگست کو ہندوستان نے اپنے زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو اس کی مخالفت کی گئی۔ریکارڈ گواہ ہے جب ہندوستان نے اپنے زیر قبضہ جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت دی تھی اس وقت بھی مخالفت کی گئی تھی۔خصوصی حیثیت کی بھی مخالفت اور خصوصی حیثیت ختم کرنے کی بھی مخالفت اس قضیہ کے حوالہ سے ہمارے”رہبر“کہاں کھڑے ہیں؟
اقتدار اور مراعات کیلئے خصوصی ہدایات کی نمائندگی رہبر ہی نہیں راہزنی ہوتی ہے………… اس قدر گھناؤنا کردار اس قدر دوہرا معیار،اس قدر سفاکیت کہ ریاست تقسیم کا باعث بنیں تو چیمپیئن‘ لاکھوں لوگوں کو مروا دیں تو ہیرو‘ریاست کے 72ہزار مربع کلو میٹر سے دست برداری اختیار کریں تو قائد‘ اس خطہ کے وسائل سے دست بردار ہوں تو راہنما۔
ہندوستان کی کشمیر کو ہڑپ کرنے کی ایک حکمت عملی ہے،وہ غاصب ہے۔قابض ہے،ظلم و بربریت کی جو انتہا کی گئی وہ ہمارے لئے ناقابل قبول،۔اہل جموں کشمیر نے ہندوستانی قبضے کے خلاف زندگیوں عصمتوں،مال و دولت کی قربانی دی لیکن سوال یہ ہے کہ آزادکشمیر کے سیاستدانوں نے جو کچھ کیا وہ کیا ہے؟
5اگست 2019کے بعد آزادکشمیر کے سیاستدانوں کا کوئی ایک کردارایسا نہیں جو رہبری کے معیار پر پورا اترتا ہو‘کیا کوئی بھی سیاسی جماعت مجوزہ حتمی تقسیم کے خلاف اپنے لوگوں کے پاس گئی؟کیا کوئی بھی سیاستدان حقیقی صورتحال بتانے کیلئے میدان میں اُترا؟
اندر کا سچ بتانے کیلئے سب کی زبانیں کیوں بند ہیں؟اسلئے کہ ان کے اقتدار اور مفادات کو خطرہ ہے اور اب جب بولے تو اس لئے کہ آزادکشمیر کو پاکستان میں ضم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔انہیں پانی میں چھری نظر آئی تو دل کی بات زباں پر لے آئے۔
افسوس!
ریاست تقسیم ہو رہی ہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ آزادکشمیر کی بقا بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ہے‘یعنی وہاں آگ و خون کا کھیل جاری ہے اور یہاں آپ مزے لیتے رہیں۔الحاق کے بعد رائے شماری کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے‘جب مرحوم کے ایچ خورشید رائے شماری کی بات کرتے تھے تو اسی قبیل کے لوگ اسے ایجنٹ قرار دے رہے تھے۔
فاروق حیدرمسلسل کہہ رہے ہیں کہ آزادکشمیر کو حکومت تسلیم کرو۔ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے اس بیانیے کی حمایت کرتے ہیں۔لیکن جب ایوب خان کے دور میں ریاست کو تسلیم کرنے کی بات قریب قریب حتمی ہو چکی تھی تو ایک اعلیٰ مسلم کانفرنسی شخصیت نے سینکڑوں تار بھیج کر اس کی مخالفت کی تھی۔معلوم کریں وہ شخصیت کون تھی؟
خیر ماضی سے نکل کر مستقبل کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے‘اب بھی وقت ہے حکومت پاکستان سے ڈائیلاگ کریں انہیں بتائیں کہ تقسیم کشمیر کا ناقابل قبول حل مسلط کرنے کی اگر کوئی کوشش کی جا رہی ہے تو اس کے خلاف میں اپنے ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کے پاس جائیں گے۔اب رائے شماری اور”تسلیم کرو“ کے نعرے لگانے کا وقت نہیں‘عمل کرنے کا وقت ہے‘وزیراعظم وزارت عظمیٰ کی کرسی چھوڑیں دیگر سیاستدان اپنے سیاسی اہداف اور مفادات سے دستبردار ہو کراپنے لوگوں کے پاس جائیں۔
لوگوں کو ایک مخصوص وقت کیلئے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے ہمیشہ کیلئے نہیں۔ضروری ہے کہ آزادکشمیر کے سیاستدان پہلے اس بیانیے سے آزادی حاصل کر یں پھران کی بات قابل اعتبار ہوگی،ماضی کے کردار کی روشنی میں نئی نسل ان پر اعتبار نہیں کرتی‘وہ اس لئے کہ مسلم کانفرنس کے تمام بڑے نام 1947کے بعد ابتدائی عشروں میں وزارت امور کشمیر سے تنخواہیں لینے والوں میں شامل رہے،پندرہ سو،ایک ہزار،پانچ سو حتیٰ کہ بیس اور تیس روپے ماہانہ لینے والے بھی شامل تھے۔اس کے بعد طریقہ کار تبدیل ہوا کسی نہ کسی شکل میں رہبران قوم و ملت ذاتی اور خاندان کے لئے اکاموڈیشن لیتے رہے پھر ہی رہبران ملک و قوم سیاسی کلبوں کی شکل اختیار کر کے برگد کے درخت بن گئے۔ان کی جڑیں پھیلتی گئیں۔
قبیلہ،قریبی رشتہ دار،مامے،چاچے بھتیجے بھانجے ایک ایسا جال بن دیا گیا جس کے اندر عام آدمی کا داخلہ ممنوع تھا۔آزادکشمیر کے جنگلات ختم کر دئیے گئے۔دریاؤں کے رخ تبدیل ہو گئے،کرپشن غیر اعلانیہ قانون ٹھہرا،سرکاری روزگار چند خاندانوں کا حق بنا،یہ سارا کھیل ایک ایسے بیانیے کی آڑ میں کھیلا گیا جسے حق خود ارادیت کے مفہوم کے متضاد ہونے کے باوجود شاید ہم ایک نظریہ سمجھتے تھے لیکن خود اس کے علمبردار اب اس کے خلاف میدان میں اترے ہوئے ہیں۔
لیکن یہ یاد رکھیں …………جب پھاٹک بند ہوتا ہے تو ریل گاڑی ضرور آتی ہے۔گندم بونے والے جو کی فصل کی خواہش رکھے ہوئے ہیں۔مگر تاریخ یہ بتاتی ہے جو آگ بوتا ہے وہ شعلوں کی فصل کاٹتا ہے۔