مدرسہ ڈسکورسسز کے مخالفین

مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے تنقیدات میں یہ پہلو کافی غالب نظر آرہا ہے کہ ان فضلاء نے اسلام کے سیاسی نظام اور افکار کے حوالے سے کچھ نہیں پڑھا ہوتا اس لئے ان کو گمراہ کرنا بہت آسان ہے یا سیکولرازم اور ایسے فلسفوں سے یہ بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں دوسرے لفظوں میں فضلاء مدارس کو کم از کم درجے میں جاہل شمار کیا جاتا ہے جن کو دور جدید اور اس کے فلسفوں کی بالکل کوئی سمجھ نہیں. اس میں خود پسندی و خود نمائی کے جذبات کے ساتھ بات نہ بن سکنے کی صورت میں غصہ , حقارت اور جذباتیت کھلے لفظوں دکھائی دیتی ہے .

میں اپنی بات اگر کروں جو مدرسہ ڈسکورس کے اوسط لوگوں میں سے ہوں , مجھ سے زیادہ مطالعہ والے بیسیوں احباب ہیں . مختلف موضوعات پر روایتی و غیر روایتی علماء و مفکرین کی کتابیں مستقل زیر مطالعہ رہتیں . پچھلے ایک سال میں جن کتابوں کا مطالعہ کیا . جہاد مزاحمت اور بغاوت ڈاکٹر مشتاق جہاد کے حوالے سے مولانا عمار خان ناصر , مولانا فضل محمد صاحب , اسی موضوع پر وہبہ الزحیلی کی ایک کتاب , پڑھی , . تفسیر میں سارے قرآن کریم کو ایک مرتبہ دوبارہ غورو فکر کا موضوع بنایا اور اول تا آخر تفسیر عثمانی اور بعض مختتصر تفاسیر کی روشنی میں دیکھا , علوم القرآن پر صرف ایک سال میں تین سے چار کتابیں پڑھیں جن میں ہمارے استاد ڈاکٹر عبدالقیوم صاحب کی تدوین قرآن کے حوالے سے کتاب اور بعض دیگر کتابیں شامل ہیں .علامہ شبلی کی الغزالی اور علم الکلام پڑھی اس موضوع پر دیگر بھی کچھ لوگوں کو پڑھا . مولانا مودودی کی تین سے چار کتابیں صرف اس ایک سال میں پڑھیں مولانا تقی عثمانی کی ایک دو کتابوں کو پڑھا , ابھی محمد اسد کی شاہراہ مکہ دوبارہ پڑھ رہا ہوں اسلام دو راہ پر اس سے قبل پڑھ چکا ہوں . اس کے علاوہ اصول الفقہ پر نئی سامنے آنے والی کچھ کتابوں کو پڑھا اس کے علاوہ بہت کچھ وہ جو ابھی ذہن کے دریچوں میں نہیں یے. ماضی میں سید ابو الحسن ندوی کی کافی ساری کتابیں پڑھیں . مضامین اور فیس بک کی تحریرات اس کے علاوہ ہیں .

اگر تنقید یہ مفروضہ طے کرکے ہے کہ ان لوگوں نے نہ کچھ پڑھ رکھا ہے اور نہ ان کو کچھ پتہ ہے تو اس سے باہر آجائیے . مدرسہ ڈسکورس خالصتا پڑھنے والے لوگوں کا گروپ یے سبھی ایک سے بڑھ کر ایک مطالعہ کرنے والی اور پڑھنے لکھنے والی شخصیات ہیں اور ایسے لوگوں کو ہی اس میں لیا جاتا ہے .

باقی پھر بھی اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دور میں اسلامی فکر کی جو کڑیاں آپ کو معلوم وہ کسی کو معلوم نہ ہیں تو پھر یہ وحی ہی ہوسکتی جو صرف آپ پر اترتی ہے .

مدرسہ ڈسکورس کی وسعت ظرفی تو یہ کہ اس میں تمام قسم کی فکریں سامنے لائی جاتیں اور ہم بھی جدیدیت کی طرف مائل یا مخالف ہر ایک کو کھلے دل سے پڑھتے ہیں . بات کونٹینٹس کی بجائے بس طعنے مینوں میں ہی کرنی کہ ان لوگوں کو کچھ پتہ نہیں , یا مالی مفادات کے چکر میں ادھر راغب ہیں تو حمایت یا مخالفت کا مورچہ کھولنے والے لوگ ہم نہیں . ہاں ہم آپ کو بھی پڑھیں گے پڑھنے کے بعد اگر آپ کی بات ہمیں کمزور لگے تو ہمیں جاہل کہنے کی بجائے اتنا حق ضرور دیں کہ ہم اس کو نہ مانیں اور جس چیز پر شرح صدر ہو اس کو مانیں . باقی اہل مدارس کو آپ جاہل کہیں وہ آپ کو سمجھتے رہیں بات مکالمے اور دلیل سے ختم ہوگی جہالت کے لیبل لگانے سے نہیں .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے