غیر فعال اکاؤنٹس کس تاریخ کو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا؟

گوگل نے مئی 2023 میں اعلان کیا تھا کہ گزشتہ 2 سال سے غیر فعال اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

اب کمپنی کی جانب سے صارفین کو ای میلز بھیج کر خبردار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

ان ای میلز میں کہا گیا ہے کہ اگر صارفین غیر فعال گوگل اکاؤنٹس پر لاگ ان نہیں ہوں گے تو انہیں یکم دسمبر 2023 کو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

 

 

کمپنی کی جانب سے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے سے قبل کئی بار ای میلز بھیجی جائیں گی / فائل فوٹو

جی میل، ڈاکس، ڈرائیو، میٹ، کیلنڈر، یوٹیوب اور فوٹوز کے لیے غیر فعال گوگل اکاؤنٹس پر اس پالیسی کا اطلاق ہوگا۔

ای میل میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر تک صارف کے غیر فعال جی میل اکاؤنٹ سمیت ریکوری ای میل اکاؤنٹس پر متعدد ای میلز بھیجی جائیں گی اور پھر اکاؤنٹ یا مواد ڈیلیٹ کیا جائے گا۔

اگر صارف کی جانب سے دسمبر تک کچھ نہ کیا گیا تو پھر اس کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا اور پھر اس تک رسائی ممکن نہیں ہوگی۔

اس پالیسی کا اطلاق مستقبل میں بھی ہوگا یعنی اگر صارف کوئی اکاؤنٹ 2 سال تک استعمال نہیں کرے گا تو کمپنی کی جانب سے اسے ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

بچنے کے لیے کیا کریں؟

اس کا آسان ترین راستہ یہی ہے کہ اپنے گوگل اکاؤنٹ پر ہر 2 سال میں کم از کم ایک بار ضرور لاگ ان ہو جائیں تاکہ کمپنی اسے فعال تصور کرے۔

درحقیقت ضروری نہیں کہ جی میل پر لاگ ان ہو، بس اس اکاؤنٹ کو یوٹیوب پر استعمال کریں، گوگل ڈرائیو اوپن کرلیں، گوگل سرچ کریں یا تھرڈ پارٹی ایپ کو اس اکاؤنٹ سے لنک کردیں تو بھی اسے ڈیلیٹ ہونے سے بچانا ممکن ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ مئی میں گوگل نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا تھا کہ غیر فعال اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

گوگل کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کی سکیورٹی کمزور ہوتی ہے اور ایک بار وہ ہیک ہو جائیں تو انہیں غیر قانونی مقاصد یا اسپام مواد پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق سب سے پہلے ایسے گوگل اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کیا جائے گا جن کو بنانے کے بعد کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔

اس پالیسی کا اطلاق ذاتی گوگل اکاؤنٹس پر ہوگا جبکہ اداروں سے منسلک اکاؤنٹس متاثر نہیں ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے