2016ء پاکستانی فلمی دنیا اور ادب کے حوالے سے کیسا رہا؟

رواں برس ’ایکٹر ان لا‘ وہ واحد پاکستانی فلم تھی، جس نے باکس آفس پر ریکارڈ بزنس کیا۔ دوسری جانب جنید جمشید کی ہلاکت، معروف قوال امجد صابری کا قتل اور اداکارہ شمیم آرا کی وفات ایسی خبریں کسی صدمے سے کم نہ تھیں۔ رواں برس پاکستان میں ادب، شوبز اور ثقافتی سرگرمیوں کی صورتحال کیسی رہی، اس سوال کے جواب میں مختلف لوگوں کی آراء مختلف ہوسکتی ہیں لیکن اس بات پر تقریباﹰ تمام تجزیہ کار متفق ہیں کہ پاکستان میں اس سال بھی ادبی اور ثقافتی محاذ پر بیانیے کی تبدیلی کے لیے اجتماعی طور پر وہ موثر کوششیں نہیں ہو سکیں، جن کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔

اگر فلموں کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سال 2016ء میں پاکستان میں کوئی چار درجن کے قریب فلمیں بنیں۔ ان میں اردو، پنجابی، پشتو اور علاقائی فلموں سمیت چھوٹی بڑی سب فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں میں ’ایکٹر ان لا‘ وہ واحد فلم تھی، جس نے باکس آفس پر ریکارڈ بزنس کیا۔ اس فلم کو کافی مقبولیت ملی۔ اس فلم کو پروڈکشن کوالٹی ، کہانی، ایڈیٹنگ اور دیگر کئی حوالوں سے بہت سراہا گیا۔ دیگر قابل ذکر فلموں میں لاہور سے آگے، ہو من جہاں، زندگی کتنی حسین ہے، جانان، دوبارہ پھر سے اور تین بہادر وغیرہ شامل ہیں۔ مالک نامی فلم سیاست دانوں کے خلاف بعض مکالموں کی وجہ سے متنازعہ بنی رہی اور یہ معاملہ عدالتوں میں زیر بحث رہا۔ پنجابی زبان میں ڈشکرا، حیدر گجر، شمو ٹانگے والی اور چن چوہدری جیسی فلمیں روایتی کہانیاں لیے ہوئے تھیں۔ البتہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتو فلموں نے پچھلے سال کی نسبت زیادہ بزنس کیا۔

پاکستان کے سینما گھر 2016ء میں شائقین کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہے۔ پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش کئی ماہ تک بند رہی۔ پاکستان فنکاروں کو بھارت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر پاکستان میں ریڈیو اور ٹی وی پر بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی دیکھنے میں آئی۔ ترکی اور ایران کی فلموں کی پاکستانی سینماوں میں نمائش کے لیے کوششوں میں تیزی دیکھی گئی۔ اسی سال اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے زیر اہتمام پاکستانی فلمی میلے کا انعقاد بھی کیا گیا۔

سال 2016ء میں پاکستانی گلوگار اور نعت خواں جنید جمشید کی طیارہ حادثے میں ہلاکت، معروف قوال امجد صابری کا قتل اور اداکارہ شمیم آرا کی طویل علالت کے بعد وفات جیسی خبریں بھی پاکستانی شائقین کے لیے بہت دکھ اور صدمے کا باعث بنیں۔

پاکستان کی فلم انڈسٹری پر نظر رکھنے والے ایک ماہر پیر زادہ سلمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ چند ایک اچھی فلموں کے بننے کے باوجود سال 2016ء میں پاکستانی فلم انڈسٹری کی مجموعی صورتحال بہت اچھی نہیں رہی۔ ان کے بقول پاکستانی سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش دوبارہ شروع ہونے سے سینما انڈسٹری کو پہنچنے والے نقصان کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہو سکے گا۔

پاکستان کے معروف فلم ساز اور فلموں کے نمائش کار ندیم مانڈوی والا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ادب، فلم اور ثقافت کے معاملات کو سیاست سے دور رکھا جانا چاہیے۔ 2016ء میں پاک بھارت کشیدگی کے پاکستانی فلمی صنعت پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے۔ پہلے بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف رد عمل دیکھنے میں آیا اور پھر بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش رک گئی۔ اس سے پاکستانی سینما انڈسٹری کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے