اعزاز سید کا براہمداغ بگٹی کا انٹرویو دی نیوز نے اپنی ویب سائٹ سے کیوں ہٹایا ؟

جنگ گروپ کے معروف صحافی اعزاز سید نے گذشتہ روز بلوچ قوم پرست رہ نما براہمداغ بگٹی کا انٹرویو کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ نواز شریف کو سپورٹ کرتے ہیں . براہمداغ بگٹی نے کہا کہ اگر نواز شریف کو انتخابات میں روکنے کی کوشش کی گئی تو یہ نہایت برا اور تباہ کن عمل ہو سکتا ہے .

براہمداغ بگٹی نے کہا تھا کہ نواز شریف سیاسی شخص ہیں اور وہ بلوچستان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں . یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پنجاب کے اندر سے کوئی ایسا سیاسی رہ نما پیدا ہوا ہے جو اسٹیبلشمینٹ کو چیلنج کر رہا ہے . ہم نواز شریف کی اس بات کی عزت کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں مسئلہ سویلین بالادستی اور آئین کی بالادستی کا ہے مگر نہ تو آئین کی بالادستی قبول کی جا رہی ہے اور نا ہی سویلین بالادستی قبول کی جا رہی ہے .

اعزاز سید

اعزاز سید کی یہ سٹوری جنگ گروپ کے انگریزی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی لیکن اشاعت کے بیس منٹ بعد ہی ویب سائٹ سے ہٹا دی گئی . اس بارے میں اخبار کا موقف معلوم نہ ہو سکا .

یاد رہے کہ پاکستان میں میڈیا آج کل شدید پابندیوں کا شکار ہے . اخبارات اور ٹی وی چینلز پر ناپسندیدہ خبریں اور تجزئیے چلنے دیے جاتے ہیں اور نا ہی ان کی اجازت ہے .

[pullquote]نواز شریف کی تقاریر میں نے سنسر کیں[/pullquote]

سیکریٹری اطلاعات و نشریات احمد نواز سکھیرا نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی ہدایت کے برخلاف انھوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقاریر کو قومی ٹی وی پر سنسر کیا ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔

اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات احمد نواز سکھیرا نے بتایا کہ سیاسی مداخلت میں کام کرنے کے خلاف مزاحمت کرتا ہوں، جب عدالت نے حکم دیا کہ اداروں کے منافی بات نہ نشر ہو تو سرکاری ٹی وی پر ہم نے بہت رسک لے کر اس فیصلے پر عملدرآمد کیا ۔ قائمہ کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس میں وہ تمام کلپس دکھا سکتا ہوں جن کو ہم نے ایڈیٹ کرکے سابق وزیر اعظم کی تقاریر سے کاٹا ۔ انھوں نے کہا کہ کوئی تو تھا جو تقاریر سے اداروں کے خلاف کلپس نکال رہا تھا؟ پی ٹی وی نے اداروں کے خلاف تقاریر سنسر کرکے دکھائیں ۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ وزیر اطلاعات کی ہدایت کے خلاف پی ٹی وی پر تقاریر سنسر ہوئیں ۔ اور ان تقاریر کو سنسر کرنے کا ان کی زات پر، کرنٹ افئیرز پروگرامز اور نیوز پروگرامز کے ڈائریکٹرز پر بہت اثر پڑا ۔ احمد نواز نے دعوی کیا کہ اب یکم جون کے بعد سرکاری ٹی وی کا اسٹائل تبدیل کریں گے ۔
احمد نواز سکھیرا نے بتایا کہ جب پاناما پیپرز کا فیصلہ آیا تو چار دن تک ملک میں کوئی حکومت نہیں تھی ۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ سرکاری ٹی وی ریاست کا ٹی وی بن کر کام کرے گا، اس دوران پی ٹی وی نیوز نے عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر کو بھی دکھایا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے