آزادکشمیر،13ویں آئینی ترمیم،خوش گمانیاں اورخدشات

آزاد کشمیر کے آئین میں تیرھویں ترمیم مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے انتخابی منشور کے درج وعدے کے اس حصے کے عین مطابق ہے ، جس کے تحت سہہ عملی ختم کرکے آزاد کشمیر کو حکومت پاکستان کی 11مئی 1971 کی پالیسی کے مطابق استوارکرنے کی کوشش کی گئی ہے،جس کے ذریعے آزاد کشمیر کونسل کی درمیانہ داری ختم کرکے حکومت پاکستان کی مختلف وزارتوں کے ساتھ براہ راست تعلق قائم کیا گیا ہے-

جو معاملات اس ترمیم کے تحت حکومت پاکستان کی تحویل میں دیے گئے ہیں ، ان میں سے اکثرجموں‌کشمیرکونسل کی لسٹ میں تھے لیکن کونسل ان کے حوالے سے سارے فیصلے حکومت پاکستان کی منظوری سے ہی انجام دیتی تھی، بہ الفاظ دیگر کونسل حکومت پاکستان ہی کی ایکسٹنشن تھی جو اپنی کارکردگی کے لئے پارلیمنٹ، آزاد کشمیر اسمبلی ، پاکستان و آزاد کشمیر کے اداروں کے پاس جواب دہ نہیں تھی –

جموں‌کشمیر کونسل آزاد کشمیر سے حاصل کیے گئے ٹیکسوں میں سے کم و بیش 30/35 فیصد اپنی تحویل میں رکھ کر باقی حصہ خیرات کے طور آزاد کشمیر کو کان پکڑواکرقسطوں میں واپس کرتی تھی- اب اس ترمیم کے بعد یہ سارے محاصلات آزاد کشمیر کی تحویل میں آگئے ہیں – سیاسی خود مختاری کے بعد سب سے بڑی خود مختاری مالی خود مختاری ہوتی ہے جو اب بدرجہ اتم حاصل ہوگئی ہے .

اب یہ آزاد کشمیر کی حکومت کی صلاحیت کا امتحان ہے کہ وہ کتنی کامیابی کے ساتھ اس آزمائش پر پورا اترتی ہے، ایسا نہ ہو کہ ترقیاتی اسکیموں کے نام پر آزاد کشمیر میں بھی منڈی کھل جائے- حکومت پاکستان کے ساتھ براہ راست تعلق کے بعد ممبران اور ملازمین جموں کشمیر کونسل کے دباؤ میں آکر کونسل کو محدود کردار کے ساتھ ہی سہی ، بحال رکھنے کی کوئی جوازیت نہیں ہے، اگر ان ترامیم کو رائے عامہ کے لئے مشتہر کرکےاور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اسمبلی میں پیش کرکے حکومت پاکستان کی منظوری کے لیے بھیجا گیا ہوتا تو یقینآ صورت حال مختلف ہوتی- آئین سازی صرف حکومتی، جماعتی یا انفرادی عمل نہیں ہوتا، یہ قومی سطح کا عمل ہے اور قومی اتفاق رائے سے ہی ہونا چاہیے کیونکہ ریاست اور ریاستی ادارے اس سے اختیارات اور طاقت حاصل کرتے ہین-

اس ترمیم نے اب قانونی حیثیت حاصل کرلی ہے جس کی رو سے اب یہ “ایکٹ” سے” آئین” بن گیا ہے، یہ خوش آئند بات ہے لیکن ترمیم تو ایکٹ کی طرح ہی پاس ہوئی ہے کیونکہ اس مینں صرف حکومتی جماعت ہی شامل تھی، اس کو انگریزی مین Majoritarian Dictatorship کہتے ہیں – لیکن اب حقیقت یہی ہے کہ یہ آئین ہے –

منشور کے مطابق اس ترمیم کی روح اس وقت تک بے اثر رہے گی جب تک مرکز کے پالیسی ساز اداروں میں آزاد کشمیر کو نمائیندگی نہیں ملتی- تھرڈ شیڈول کے معاملات پر قانون سازی اور اس پر عمل در آمد کا اختیار حکومت پاکستان کو دیا گیا ہے ، جس میں آزاد کشمیر کو کوئی اونر شپ حاصل نہیں ہے جبکہ اس کے قوانین ، پالسیز اور انتظامی امور باقی صوبوں کی طرح آزاد کشمیر پر بلا امتیاز حاوی ہوں گے، یہ مستقبل میں مخاصمت اور تناؤ کا باعث بنیں گے، اس مسئلے کا فوری تدارک ہونا چاہیے-ان امور کو حکومت پاکستان کی تحویل میں دیتے ہوئے یہ تحفظ بھی نہیں رکھا گیا کہ مرکزی قوانین اور انتظامی امور کو نافذ کرنے سے پہلے آزاد کشمیر حکومت کو اعتماد میں لے کر اس کی مرضی یا مشاورت ، اس کی خصوصی حیثیت کے پیش نظران کو Modifications اور Exceptions کے ساتھ نافذ کیا جائے-

ہندوستان نے پوری ریاست کو اپنا حصہ بنانے کے باوجود آئین کی دفعہ 370 کے تحت اس کا خیال رکھا ہے- اس میں آئین سازی میں دور اندیشی کا فقدان جھلکتا ہے-اگر ہماری اعلی عدالتیں اپنا مثبت رول ادا کر سکیں تو ان قوانین کے تحت حکومت پاکستان کے انتظامی اختیارات کو کنٹرول کر سکتی ہیں –

پاکستان کی حکومت اور آزاد کشمیر کی ”نیمے درون نیمے بروں” لیڈرشپ کو اس واہمہ سے نکل آنا چاہیے کہ مرکزی اداروں میں نمائندگی سے کشمیر کا مسئلہ متاثر ہوگا-یہ بین الاقومی ایشو ہے جو پوری ریاست کو ہندوستان کا حصہ بنانے اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کو نہ بنانے کے باوجود متنازع ہی رہے گا اور دنیا ایسا ہی سمجھتی رہے گی- جب تک سیاچن یا کرگل جیسی مہم جوئی سے Statusqua تبدیل نہیں ہوتا یہ علاقے ہندوستان اور پاکستان کے ہی متنازع علاقے ہیں لیکن لوگوں کے حقوق تو متنازع نہیں ہیں – اس میں کہاں کی دانش مندی ہے کہ حکومت پاکستان کو اپنے 50//60 امور پر قانون سازی اور انتظامی اختیارات استعمال کرنے کے اختیارات دیے جائیں لیکن ان میں شراکت داری اور اونرشپ نہ لی جائے؟

ہمیں متنازع ریاست کے جغرافیائی اور زمینی حقائق، اس کے ہر خطے(اکائیوں) کے لوگوں کے خیالات، احساسات اور ترجیحات کا ادراک کرتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھنا پڑے گا- جو لوگ آزادی مانگتے ہیں، وہ اس کے لیے جانیں دے رہے ہیں، ہم ان کی قربانیوں کو ایکسپلائیٹ کرکے اپنے اپنے ایجنڈے کے تحت اقتدار کی دوڑ میں ہیں –

ہم رضا کارانہ طور بلا مخاصمت پاکستانی ہیں ، بحیثیت پاکستانی حقوق و استحقاق سے سیاسی مفروضوں کی بنیاد پر کیوں دستبردار ہوں؟ مرکزی اداروں میں نمائندگی سے بین الاقوامی حقائق اور کمٹمنٹ مین کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ، یہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تابع اور ان کی تکمیل تک ہوں گے . اس کے بعد بھی تعلقات کا تعین ہماری مرضی سے ہوگا ، اس کی ایک جھلک کا مظاہرہ تو کیا جائے تاکہ آزادی کے لیے بر سر پیکار لوگ یہ جانچ سکیں کہ پاکستان آزادی کا Quantum ان کی Aspirations کی تکمیل کرتا ہے یا نہیں؟

کشمیر کی آزادی کی ذمہ داری پاکستان نے اپنے سر لی ہے ، اس کو آزاد نہ کرانے میں آزاد حصوں اور اس کے لوگوں کا تو کوئی قصور نہیں ہے- پاکستان اپنے سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنائے، کشمیر کی آزادی دو قدم دور رہ جائے گی –

آزادکشمیر کے آئین میں‌ جو ترامیم ہوئی ہیں ، مجھے بھی ان کے متعلق کافی تحفظات ہیں جو میں مختلف کالموں میں بیان کرچکا ہوں، لیکن جو ہوئی ہیں ان کو کامیاب بنانے، ان کی خامیوں کو دور کرنے اور مزید کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے- مخالفت برائے مخالفت کوئی دانش مندی نہیں اس وطیرے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے-

ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کی عجیب کیمسٹری ہے- جب 1886 میں ریاست کو مہاراجہ نے وجود میں لایا تو اس کے خلاف 1947 تک تحریک چلائی گئی ، سینکڑوں افراد کو مروایا ، جب ریاست مہاراجہ کی غلامی سے آزاد ہوئی تو اسی (مہاراجہ کی ریاست) کی بحالی کی تحریک چلا رہے ہیں ، لاکھوں کو مروایا اور مروا رہے ہیں-

آزاد کشمیر کی مسلم لیگ نون کی قیادت کو اس اصلاحات کے اس تسلسل کو کامیاب اور یقینی بنانے کے لئے اب اپنے منشور کے دوسرے حصے کی تکمیل کے لئے مستعد ہونے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ خدشہ موجود رہے گا کہ حکومت پاکستان تھرڈ شیڈول کی تکمیل کے لئے پچاس کی دھائی کی طرح کسی جوائنٹ سکریٹری کو نامزد کردے – اس کے لئے بھی میکانزم Azad Jammu and Kashmir and Gilgit – Baltistan , Proposals for enhanced Autonomy and Empoerment مجریہ ARJK 2014 میں باقی تجاویز کی طرح درج ہیں جوکہ ویب سائٹ www. arjk. org پر دیکھا جا سکتا ہے .

ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا اگر ان تجاویز کو قومی سطح پر بحث و تمحیص کے بعد اپنے ہی نام سے حکومت پاکستان کو اپنے آئین میں ترمیم کے لیے بھیجا جائے، اس کے علاوہ پاکستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات اور تھرڈ شیڈول کے ممکنہ مضر خدشات سے بچنے کا اور کوئی راستہ نہیں – یہ تجاویز بھی باقی ترامیم کی طرح اعلیٰ پائے کے ملکی اور بین الاقومی دماغوں کی تخلیق ہیں – اس کا ادراک وقت کی ضرورت ہے-

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے