عمران خان اقربا پروری اور جنسی ہراسگی میں ملوث ہیں، ریحام خان کا الزام

چیئرمین تحریک انصاف کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان براہ راست اقربا پروری اور جنسی ہراسگی میں ملوث ہیں۔

بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ میں نے کتاب میں یہ بات کی ہے کہ کیسے جنسی دباؤ کو سیاسی مقاصد کیلیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ جنسی ہراسگی کے کئی کیسوں کا براہ راست تحریک انصاف سے تعلق ہے اور عمران خان اقربا پروری اور جنسی ہراسگی میں ملوث ہیں۔

ریحام خان نے کہا کہ پاکستان ایٹمی ملک ہےاور ایسے شخص کے ہاتھوں میں اقتدار دینا انتہائی خطرناک ہے، عمران خان کا اقتدار میں آنا پاکستان کیلئے بڑا رسک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ کو ووٹ نہیں دوں گی اس بات پر انھوں نے قہقہہ لگایا تھا جب کہ میں اب بھی پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ نہیں دوں گی۔

ریحان خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے نظریات اب تک غیر واضح ہیں اور حالیہ یو ٹرن سے بھی یہ واضح ہے عمران خان انتہاپسندوں کے حامی ہیں اور وہ اسلامی ووٹ بینک کو اقتدار میں آنے کیلیے استعمال کر رہے ہیں۔

ریحام خان کی کتاب برطانیہ سے شائع ہوئی توہتک عزت کا دعویٰ کروں گی، جمائما

لندن: عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما کا کہنا ہے کہ اگر ریحام خان کی کتاب برطانیہ سے شائع ہوئی توہتک عزت کا دعویٰ کروں گی۔

چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سابقہ بیوی ریحام خان کی متنازعہ کتاب کے معاملے پر ان کی پہلی اہلیہ جمائما عمران خان کے دفاع کے لیے سامنے آگئیں، جمائما نے ریحام خان کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے اگر ریحام خان کی کتاب برطانیہ سے شائع ہوئی توہتک عزت کا دعویٰ کروں گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے جمائما نے کہا کہ ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہونے کے قابل نہیں اور یقین ہے ایسی کتاب برطانیہ میں شائع نہیں ہوسکتی تاہم کتاب اگر برطانیہ میں شائع ہوئی تو اپنے 16 سال کے بیٹے کے توسط سے ہرجانہ کا دعویٰ دائرکروں گی۔

[pullquote]ریحام خان کی کتاب پرعارضی پابندی عائد[/pullquote]

ملتان: سول عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب کی رونمائی کےخلاف حکم امتناع جاری کردیا ہے۔

تحریک انصاف لائرز ونگ کےصدر غلام مصطفیٰ چوہان کی جانب سے ملتان کی سول کورٹ میں ریحام خان کی کتاب کی رونمائی روکنے کے لئے درخواست دائر کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ریحام خان مسلم لیگ (ن) کہ آلہ کار ہیں، انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت کو بدنام کرنے کی سازش امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے ساتھ مل کر بنائی ہے۔

درخواست گزار نےعدالت سے استدعا کی کہ ریحام خان کی کتاب کے متن کا کچھ حصہ مبینہ طور پر حقائق کے خلاف ہے۔ اس لئے ریحام خان کی کتاب پر پابندی لگائی جائے اور اس کی اشاعت کو روکا جائے۔ عدالت نے ریحام خان کی کتاب کی رونمائی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ریحام خان، حسین حقانی اور پیمرا سے 9 جون تک جواب طلب کر لیا۔

[pullquote]وسیم اکرم، ریحام خان کے پہلے شوہر اور دیگر نے ریحام کو قانونی نوٹس بھجوادیا[/pullquote]

کراچی: ریحام خان کی نئی متنازعہ کتاب پر وسیم اکرم، ریحام کے پہلے شوہر اور دیگر نے ان کے خلاف قانونی نوٹس بھجوائے ہیں۔

عمران خان سے شادی کے بعد منظرِ عام پر آنے والی ریحام خان نے مبینہ طور پر اپنی سوانح عمری میں کئی اہم اور مشہور شخصیات سے اپنی ملاقات اور خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان سے شادی کے بعد ان کے بارے میں قلم اٹھایا ہے، اس کتاب پر بزنس مین ذوالفقار بخاری، ریحام کے پہلے شوہر اعجاز رحمان، کرکٹ لیجنڈ وسیم اکرم اور پی ٹی آئی کی میڈیا کو آرڈی نیٹر انیلا خواجہ نے بھی ان کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔

اس ضمن میں 30 مئی کو برطانوی قانونی فرم سویٹ مین برکے اینڈ سنکر کی جانب سے کئی نوٹس جاری کیے گئے ہیں جو نامعلوم ذرائع سے کتاب حاصل کرنے اور اس کا متن پڑھنے کے بعد فریقین کی جانب سے دائر کیے گیے ہیں۔
تمام درخواست گزاروں نے اپنے اپنے نوٹس میں کتاب کے متن کو ’ گمراہ کن، لغو، جھوٹ، تباہ کن، توہین آمیز اور غلط قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اداکار حمزہ علی عباسی، مراد سعید، اسد عمر، خیبرپختونخوا کے سابق وزیرِ اعلٰی پرویز خٹک، سینیٹر محسن عزیز، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے رکن عمر فاروق، سماجی شخصیت یوسف صلاح الدین، اور ذاکر خان بھی اس کتاب کے حوالے سے الگ الگ نوٹس دائر کررہے ہیں۔

اس کتاب میں ذوالفقار بخاری پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک نوجوان لڑکی کے اسقاطِ حمل میں مدد کی تھی جومبینہ طور پر عمران خان کی وجہ سے حاملہ ہوئی تھی، کتاب میں ایک جگہ ریحام خان نے اپنے پہلے شوہر اعجاز رحمان کے ظلم و تشدد کا ذکر بھی کیا ہے۔ اعجاز رحمان نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ مبینہ طور پر ظلم و جبر کے بیان اور ان کے بیان کردہ اوقات میں واضح تضاد ہے تاہم ریحام نے کہا کہ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ہی اعجاز رحمان نے ان سے ناروا سلوک شروع کردیا تھا۔

وسیم اکرم کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں وسیم اکرم نے اپنے اوراپنی مرحومہ بیوی پر کتاب کے اس مبینہ سنگین الزام کو انتہائی گمراہ کن اور لغو قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وسیم اکرم اپنی بیوی کو دوسرے مردوں کے سامنے لے جاتے رہے تھے۔ مسودے میں ریحام خان نے انیلہ خواجہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ عمران خان پر بہت اثرورسوخ رکھتی ہیں اور ریحام نے انہیں ’حرم کی سربراہ‘ کہا ہے۔

ان تمام نوٹسوں میں ریحام خان کو 14 دنوں میں جواب دینے کا کہا گیا بصورتِ دیگر ان کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ نوٹس میں ریحام سے کہا گیا ہے کہ کتاب میں شامل مسودہ شائع کرنے سے گریز کیا جائے اور دیگر ہتک آمیز مواد کو بھی کتاب سے ہٹایا جائے، اس کے علاوہ ریحام خان سے تحریری طور پر اعتراف کرنے کا کہا ہے کہ کتاب میں ساری باتیں جھوٹ، لغو اور گمراہی پر مشتمل ہیں۔

نوٹس میں اس کے علاوہ تمام فریقین نے کہا ہے کہ ریحام مزید توہین آمیز مواد تیار کرنے سے گریز کریں گی، الزامات کے ذرائع بتائیں گی اور اگرکسی ویب سائٹ پر اس کا مسودہ پوسٹ کیا گیا ہے تو اس کے لنکس بھی فراہم کریں۔

اس کے علاوہ تمام فریقین نے اپنے نوٹس میں ریحام پر بھاری جرمانے کا تقاضہ بھی کیا ہے اگر ریحام 14 جون تک ان تمام باتوں پر عمل نہیں کرتیں تو قانونی فرم اپنی درخواست عدالت میں داخل کرے گی جس میں کتاب کی اشاعت رکوانے کی درخواست کی جائے گی۔

دوسری جانب ریحام خان کے وکیل یاسر ہمدانی نے کہا ہے کہ انہیں اب تک کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے