تنازعات کے حوالے سے مشہور سوات موٹروے 81 کلومیٹر لمبی اور 280فٹ چوڑی ہے، موٹروے 6عدد انٹرچینج اور دوعدد 1300 لمبائی والے ٹنل پر مشتمل ہیں۔81 کلومیٹرلمبائی میں 4 کلومیٹر کا علاقہ الہ ڈھنڈ ڈھیری کے لوگوں کا بھی ہے.جس کا معاوضہ دو سال سے واجب الادا ہے۔
آئی بھی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے آلہ ڈھنڈ کے ایک رہائشی طاہر خان ملی خیل کا کہنا تھا کہ دو سال قبل جب حکومت نے ایک سکوائر فٹ کی قیمت 368 روپے مقرر کی تھی اس وقت مارکیٹ ریٹ 500 روپے تھی۔اس کے بعد وزیر اعلی کے مشیر اور تحصیل بٹ خیلہ سے ممبر صوبائی اسمبلی شکیل احمد نے قیمتیں کم کرتے ہوئے 150 روپے فی سکوائر فٹ کردی۔ قیمتوں میں کمی کے باوجود دو سال گزر گئے لیکن انہیں ایک پیسہ نہیں ملا ۔

ملاکنڈ PK8 کیلئے جماعت اسلامی کے نامزد امیدور امجد علی شاہ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ مہذب معاشروں میں زمینوں کی رقم پہلے ادا کردی جاتی ہیں اور بعد میں اس پر کام شروع کیا جاتا ہے لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ یہ سب سابقہ ایم پی اے شکیل خان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے.آلہ ڈھنڈ ڈھیری کے عوام نے ایکسپرس وے کیلئے زمینیں دی ،معاوضہ ان کا حق ہے۔چکدرہ انٹر چینج کے حوالے سے امجد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایشیا کا سب سے بڑا انٹر چینج آلہ ڈھنڈ کے زمینوں پر بنانے کی کیا ضروت ہے؟حال یہ ہے کہ حکومت کے پاس مناسب معاوضہ بھی نہیں ۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر اور سابقہ صوبائی وزیرخزانہ ہمایون خان معاوضے کی عدم ادائیگی کے بارے میں کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے سستے موٹروے بنانے کے دعوے کئے اور زور زبردستی کر کے عوام سے زمینیں قبضہ کرلی ہیں ۔ عوام کو معاوضہ دیے بغیر کام بھی شروع کردیا۔ عوام کبھی کبھار جذبات میں آکر ناسمجھ لوگوں کو منتخب کر دیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے 2008 سے 2013 تک تاریخی کام کئے لیکن عوام کو معاوضہ دے کر ان سے زمینیں لیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے آج تک کوئی شکایت نہیں کی۔ سابق صوبائی وزیرخزانہ کہتے ہیں اسمبلی پہنچ کر سب سے پہلا کام ایکسپریس وے کا معاوضہ ہوگا۔

اس حوالے سے سابقہ ایم پی اے شکیل خان نے آئی بی سی اردوکو بتایا کہ 2 ارب روپے 2 سال سے ڈی سی کے اکاونٹ میں پڑے ہیں. لیکن سی پیک کی وجہ سے اس انٹر چینج کی توسیع کردی گئی جس پر اضافی 80 کروڑ روپے خرچ آرہا ہے. انٹر چینج کے 80 کروڑ روپے ہمارے دور حکومت میں ریلیز نہ ہوسکے . ممکن ہے نگران حکومت یہ کام کرلے گی۔