اقوامِ متحدہ نے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دے دیا

اقوامِ متحدہ نے پاکستانی شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

اِس سے پہلے امریکہ نے مسعود اظہر کا نام عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں ڈلوانے کے لیے قرارداد کا مسودہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ممبران میں تقسیم کیا تھا۔

پلوامہ میں چودہ فروری کو انڈین سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد فرانس اور برطانیہ نے بھی ایسی ہی قرارداد پیش کی تھی جسے چین نے تکنیکی بنیادوں پر روک دیا تھا۔

لیکن منگل کو چین سے متعلق یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اقوامِ متحدہ کی سینکشنز کمیٹی 1267 میں مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دینے کے بارے میں پیش رفت ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ انڈیا 2016 سے مسعود اظہر کو اس فہرست میں شامل کرنے کا خواہاں ہے تاہم اقوام متحدہ میں چین کی جانب سے اس کی مخالفت رہی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے امریکہ کی طرف سے قرارداد پیش کرنے کی کوششوں کےبارے میں کہا تھا کہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے اور یہ ایک غلط روایت کو جنم دے گا۔

چینی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ قرار داد یو این سکیورٹی کونسل کے قوائد کی خلاف ورزی ہے۔

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل مسعود اظہر کو القاعدہ اور طالبان جیسے دہشتگردوں کی فہرست میں ڈال بھی دے تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے؟

’اقوام متحدہ کی قرارداد 1267 کے تحت القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے افراد کےنام ایک فہرست میں شامل کیے جاتے ہیں۔ اس فہرست میں کسی شخص کا نام ڈالنے کا ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت کوئی ملک کسی شخص پر دہشتگردی میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر اس کا نام اس فہرست میں ڈالنے کی درخواست کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے اسے شواہد پیش کرنے ہوتے ہیں اور ایک کمیٹی شہادتوں کا جائزہ لے کر متفہ فیصلے کے ذریعے کسی شخص کا نام اس میں ڈال سکتی ہے۔

’اگر یہ کام سیکورٹی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کیا جاتا ہے تو یہ ضوابط کی خلاف ورزی ہوگی۔

اگر کسی ملک کے شہری کا نام اس فہرست میں ڈال دیا جائے تو اس ملک کو اپنے شہری کے بارے تین اہم اقدامات کرنے ہوتے ہیں:

اس شخص کی نقل و حمل خصوصاً غیر ملکی دوروں پر پابندیاں عائد کرنا ہو گی
اس کے اثاثوں کو منجمد کرنا ہو گا
اور اس شخص پر اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کرنا ہوگی۔
کسی کو رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟

’رویہ تبدیل کرنے میں کسی حد تک مدد ملتی ہے۔ اقوام متحدہ نےایسے طریقے وضح کر رکھے ہیں کہ اگر کسی شخص کا نام اس فہرست میں آ جائے لیکن وہ الزامات تسلیم کرنے سے انکاری ہو تو وہ ایک محتسب کے سامنے درخواست کر سکتا ہے کہ اس کا نام غلط فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔اس کے لیے اسے شواہد پیش کرنا ہوں گے۔ اس طریقہ کار کی وجہ کئی تنظیموں نے اپنےآپ کو القاعدہ اور طالبان سے دور کیا ہے۔

’اقوام متحدہ نے اپنے ممبرممالک پر یہ بھی لازم کیا ہے کہ وہ موثر بیانیہ کےذریعے شدت پسندی سے چھٹکارا پانے کے اقدامات کریں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے اقدامات کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ پاکستانی علما کی طرف ‘پیغام پاکستان’ کےنام سے ایک جامع دستاویز جاری کی گئی ہے جس پر بڑے بڑے علما کے دستخط ہیں۔ اس دستاویز میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی دوسرے ملک میں جہاد یا خلافت کے نام پر کوئی ایسی کارروائی کریں جو دہشتگردی کے زمرے میں آتی ہو۔

شیو شنکر مینن نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا:

’انڈیا کی طرف سے ایک شخص کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں ڈالنے پر اصرار میری سمجھ سےبالاتر ہے۔ فرض کریں اگر ایسا ہو بھی گیا تو کیا اس سے جیش محمد کے رویے میں تبدیل آ سکے گی؟

’ممبئی حملوں کے بعد حافظ محمد سعید کو اسی فہرست میں شامل کیا گیا تھا لیکن حافظ سعید کو تنظیم کا نام تو شاید تبدیل کرنا پڑا ہو لیکن وہ اب بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو دس سال پہلے کر رہے تھے۔

جیش محمد کے مسعود اظہر کا نام گلوبل لسٹ میں ڈالنا ایک بے معنی سی چیز ہے اور انڈیا اس کی بھاری قیمت دے رہا ہے۔

مجھے نہیں سمجھ آتا کہ انڈیا اپنے قومی وقار کو مسعود اظہر کے ایک فہرست میں شامل کرانے سے کیوں جوڑ رہا ہے۔

’مسعود اظہر کے فہرست میں شامل ہونا نریندر مودی کی شہرت کے لیے اچھا ہو گا۔

مسعود اظہر کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں ڈالنے سے کوئی مسئلہ حل و نہیں ہو گا لیکن ہندوستان سوچتا ہے کہ اگر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی مدد سے ایسا ہوگیا تو یہ شروعات ہو گی اور پھر انڈیا آگے بڑھ کر پاکستان پر مزید معاشی دباو ڈال سکے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے