ہزارہ یونیورسٹی انتہا پسندوں کے نرغے میں

مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام ہزارہ یونیورسٹی کے وسیع گراونڈ میں منعقد کئے جانے والے جشن بہاراں میلے کو اس وجہ سے منسوخ کر دیا گیا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے احتجاج کی دھمکی دے رکھی تھی۔ پہلے روز تو یہ تقریب جاری رہی مگر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد ادریس نے دوسرے روز اجازت دینے سے معذرت کر لی۔

وائس چانسلر کے انکار پر ضلعی انتظامیہ نے جشن بہاراں کا یہ پروگرام منسوخ کر دیا ،یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلہ پر مانسہرہ کے عوامی و سماجی حلقوں اور زیر تعلیم طلبا و طالبات نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہا پسند گروہوں کی کامیابی قرار دیاہے۔

طلبا و طالبات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی ڈاکٹرمحمد ادریس پر اسلامی جمیعت طلبہ کی سرپرستی کرنے اور اسی طلبہ گروہ کو یونیورسٹی کے اندر اپنے سیاسی مقاصد کے لئیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے، یاد رہے کہ جشن بہاراں میلے صوبائی حکومت کے احکامات پر پورے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلعی انتظامیہ کی نگرانی اور مالی معاونت سے منعقد ہو رہے ہیں۔

ان تقریبات میں ضلعی انتظامیہ، ٹی ایم ایز، سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ،ہلال احمر سوسائیٹی،سول ڈیفینس رضا کاروں اور مختلف سکولز کی طرف سے سٹالز لگائے جاتے ہیں، اس پروگرام میں بوائز اور گرلز سکولز کے بچوں اور بچیوں کی طرف سے اپنے اپنے سائنسی پراجیکٹس نمائش کے لئیے پیش کئیے گئے تھے،

اس تقریب میں ضلع ناظم مانسہرہ سردار سید غلام، ڈپٹی کمشنر مانسہرہ اعجاز الحق،وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زیب اللہ خان، اے سیز، تینوں تحصیلوں کے ٹی ایم اوز، محکمہ تعلیم اورلائن ڈیپارٹمنٹ کے افسران ،ضلع کی سیاسی و سماجی شخصیات شریک تھیں،

تقریب کی میزبانی محکمہ تعلیم کے افسران کر رہے تھے۔اس تقریب میں علاقائی ہزارہ رقص،گھڑ سواری،بانسری، لوک موسیقی، گتکا، گھمر اور مقامی قدیم ثقافت سے جڑے مظاہر پیش کیے گئے جن میں مختلف زبانوں اور قومیتوں کی نمائندگی کی عکاسی کی گئی تھی،

تقریب کا افتتاح ضلع ناظم مانسہرہ نے ڈی سی، وی سی اور ڈی پی او کے ہمراہ کیا تھا۔ پہلے روز بڑے پر امن ماحول میں یہ پروگرام جاری رہا اور دوسرے روز وائس چانسلر نے اسلامی جمیعت طلبہ کے دباو اور ملی بھگت سے اس پروگرام کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔انتظامیہ کے اس فیصلے پر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ اور سماجی حلقے کافی مشتعل ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے یونیورسٹی کے اس فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

طلبہ نے وائس چانسلر پر اسلامی جمیعت طلبہ کی سرپرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایسے گروہوں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر یونیورسٹی میں اعلی تعلیم اور ریسرچ کے لئیے. آنے والے ہزاروں طلبہ و طالبات کو بلیک میل ہونے سے بچانے کے لئیے اقدامات اٹھانے اور انتہا پسند گروہوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت قانونی کاروائی کی اپیل کر رکھی تھی،

طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وائس چانسلر نے اسلامی جمیعت طلبہ کے ہاتھ پر یونیورسٹی کو گروی رکھ دیا ہے۔وائس چانسلر یونیورسٹی کے ایس او پیز کو فالو کرنے کے بجائے منصورہ سے ہدایت لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو ریسرچ کے سلسلے میں کافی مشکلات در پیش ہیں۔تحقیق و ریسرچ کے لئے سیکولر ماحول فراہم کرنے کے بجائے ہزارہ یونیورسٹی مسلسل ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے ماحول گھٹن زدہ اور ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے
فیس بک آئی ڈی پر میلہ منسوخی کے فیصلہ کے حوالے سے تنقیدی پوسٹ لگانے پر ہزارہ یونیورسٹی نے اپنی ایک سابق طالبہ جذبیہ شیریں پر ہزارہ یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے شاہی فرمان جاری کیا ہے کہ مذکورہ طالبہ یونیورسٹی میں داخلہ سے قبل ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سے اجازت لینے کی پابند ہے، اجازت کے بغیر یونیورسٹی میں داخلہ ممنوع ہو گا۔انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں اس پابندی کی وضاحت تو نہیں کی گئی مگر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طالبہ پر صرف اس لیے پابندی عائد کر دی ہے کہ اس نے جشن بہاراں میلہ منسوخ کرنے کے فیصلہ پر تنقید کی تھی،

طالبہ نے اپنی فیس بک آئی ڈی پر اس پابندی کا ذمہ دار اسلامی جمیت طلبہ کو ٹھہراتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے وائس چانسلر کے زریعے یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے کو عملی طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔یہ لوگ اتنے ڈرپوک ہیں کہ ایک طالبہ کی تنقیدی پوسٹ سے خوفزدہ ہیں۔

یاد رہے کہ جذبیہ شریں نام کی یہ وہی طالبہ ہے جو ہزارہ یونیورسٹی کی ہر تقریب میں پیش پیش رہتی تھی۔ اسے مختلف ملکی و بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کانفرنسوں میں مدعو کیا گیا ہے اور وہ یونیورسٹی کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔اس طالبہ کا شمار یونیورسٹی کے ہونہار طلبہ میں ہوتا ہے۔اس سلسلے میں مانسہرہ کے سماجی حلقوں نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر ہر پاکستانی شہری کو شہریوں کے ٹیکس سے چلنے والے جملہ اداروں پر تنقید کا آئینی حق حاصل ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام جشن بہاراں میلہ کو ایک گروہ کی طرف سے دھونس دھمکی اور بلیک میلنگ کے زور پر دوسرے روز منسوخ کیا گیا جس سے اس میلہ کے انتظامات پر اٹھنے والے اخراجات،سٹال ہولڈرز اور دیگر صورتوں میں قومی خزانے کا بھاری نقصان ہوا جو کہ ایک الگ بحث ہے،اس عوامی میلہ کو دھونس دھمکیوں کے زور پر روکنے والوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات کے تحت فوجداری مقدمات درج کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے ایک ایسی ہونہار طالبہ کے یونیورسٹی میں داخلہ پر اس وجہ سے پابندی عائد کر دی گئی کہ اس سے انتہا پسندوں کے رویہ کی مذمت کی تھی اور اپنی فیس بک آئی ڈی پر کوئی ایک آدھ تنقیدی پوسٹ لکھ دی تھی۔

ہم انسانی حقوق کے کارکن ہونے کے ناتے یہ سمجھتے ہیں کہ ہزارہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا یہ فیصلہ آئین پاکستان کی شق 15 جو ہر پاکستان شہری کو نقل و حرکت کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتی ہے، کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس کو اس حوالے سے نوٹس لیکر معاملے کی انکوائری کرنی چاہیے۔ہمارا ملک مذید اس طرح کے” ضیائی” مسخرے پن کا متحمل نہیں ہو سکتا _

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے