ڈاکٹر صفدر محمود کی ’’بصیرت‘‘

ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم کی تازہ تصنیف کتاب ”بصیرت‘‘ میرے سامنے رکھی ہے۔ یہ، میرے لیے، ایک ان دیکھی، دنیا کی کہانی ہے۔ ڈاکٹر صاحب تاریخ کے آدمی تھے۔ تاریخ واقعات کی دنیا ہے۔ علمِ تاریخ، عالمِ اسباب میں پیش آنے والے واقعات بیان کرتا اور منطق کے اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے، ان سے […]

بے بسی سے بے حسی تک

سب بے بس ہیں۔ سب سے بڑھ کر صحافت۔ تین سال اس طرح بیتے کہ کوئی تجزیہ درست ثابت ہوا نہ کوئی پیش گوئی پوری ہوئی۔ چڑیا کی خبر سچ ثابت ہوئی نہ کسی مخبر کی۔ تاریخیں دی جاتی رہیں کہ فلاں دن حکومت کا آخری دن ہے۔ کبھی بتایا گیا کہ یہ کمپنی نہیں […]

پاکستانیت

نیا پاکستان کیا بنتا ‘ پرانا پاکستان‘سرعت کے ساتھ ایک سے دو پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔معاشی اور تمدنی فاصلے خیال‘ ہوتاہے کہ اب ناقابلِ عبور ہو چکے۔آج ایک طرف تجوریاں بھری ہیں اور دوسری طرف جیبیں خالی۔ایک مملو پاکستان ہے اورایک محروم پاکستان۔ اس تقسیم نے آج جنم نہیں لیا۔یہ برسوں سے ہے۔ہم […]

مزاحمتی ادب اور مزاحمتی صحافت

عوام اور ادب کا تعلق ختم ہو چکا۔عوامی جذبات کی ترجمانی اورجبر کے خلاف مزاحمت ادب کے وظائف میں شامل ہیں۔آج کا ادیب اور شاعر مگر یہ مزاحمت اور ترجمانی کرتا دکھائی نہیں دیتا،الا ماشاء اللہ۔ ہر تعلق کی طرح،ادب اور عوام کا تعلق بھی دوطرفہ ہے۔ایک طرف ادب عوام کا تر جمان نہیں رہا […]

مسئلہ کشمیر حتمی حل کی طرف؟

آثار یہی ہیں کہ مسئلہ کشمیر ‘حل‘ ہونے جا رہا ہے۔ اربابِ حل و عقد کی زبان سے نکلے الفاظ کی تشہیر کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ پسِ دیوار ہونے والی سرگوشیاں، اب قابلِ سماعت آوازوں میں بدل چکیں۔ میڈیا ناطق ہے۔ اگر کچھ بین السطور تھا، تو اسے سوشل میڈیا پر کھول دیا […]