یونانی بحران آخر ہے کیا ؟

معماري-يونان

تحریر :ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم
ذیشان ہاشم

۔ ۔ ۔

جب یورپی یونین کا قیام عمل میں لایا گیا تو شہرہ آفاق ماہر معیشت ملٹن فریڈمین کا مؤقف تھا کہ یہ یونین کے رکن ممالک کے لئے خوش آئند اقدام ہے ، اس طرح تجارت کی آزاد مارکیٹ تمام رکن ممالک کی مقابلہ کی مارکیٹ میں امتیازی خصوصیات کو زیادہ بڑھاوا دے گی ، چنانچہ تمام ممالک کی پیداواری قوت میں اضافہ سے یورپ مزید خوشحال ہو گا ۔۔۔… اور جب یورو زون کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس عظیم فلسفی معیشت دان کا جواب تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یورپ کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی کرنسی ، ایکسچینج ریٹ ، اور مانیٹری پالیسی ایک ہی ہو مگر فسکل پالیسی (مالیاتی پالیسی ) سب کی جدا جدا ہو، اس صورت میں مانیٹری پالیسی (زری پالیسی)، مسابقت پذیر شرح مبادلہ اور مالیاتی پالیسی میں تصادم ہو گا، ترقی پذیر ممالک مقابلہ کے میدان میں اپنی امتیازی خصوصیات کھو دیں گیں ، اور خدشہ ہے کہ یورو زون کا انجام ایک پیچیدہ بحران ہو گا ۔۔۔۔۔۔ یورو زون کے 2012ء کے بحران سے پہلے ملٹن فریڈمین کی یہ باتیں ایک قنوطی معیشت دان کی ہانکی ہوئی بڑ معلوم ہوتی تھیں …
یورو زون کے بحران کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم فری مارکیٹ معیشت میں جان کینز کے خیالات کو سمجھیں جنہوں نے یوروزوں سمیت جنگ عظیم کے بعد ، تمام ممالک کی اقتصادی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا ۔۔۔یاد رہے کہ کینز کی مجوزہ معاشی تعلیمات سے پہلے حکومت کا باقاعدہ آمدن پر ٹیکس وصولی کا کوئی نظام نہ تھا اور نہ ہی حکومتیں سالانہ بجٹ اور اقتصادی منصوبہ بندی کرتی تھیں بلکہ سمجھا یہ جاتا تھا کہ حکومت کا کام محض معاشی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنا ہے نہ کہ بطور ایک اکنامک ایجنٹ کا کردار حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے ۔۔۔اسی طرح معیشت میں میکرو اکنامکس (کلیاتی معاشیات) کو باقاعدہ وجود بھی کینز سے ملا ہے ، وہ بلاشبہ گزشتہ صدی کا بہت بڑا معیشت دان تھا اگرچہ میں ذاتی طور پر اس کے خیالات کا حامی نہیں .
کینز کا کہنا یہ ہے کہ ایک کامیاب معاشی عمل اس وقت ہوتا ہے جب مجموعی طلب اور مجموعی رسد میں توازن قائم ہو جائے …کینز کے خیال میں بحران اس وقت آتا ہے جب مجموعی رسد مجموعی طلب سے بڑھ جاتی ہے ، یوں ان میں توازن کے قیام کی دو صورتیں ہیں ؛ مارکیٹ کا خودکار نظام اور توازن کو قائم کرنے کے لئے حکومتی مداخلت ۔۔۔ کینز مزید کہتا ہے کہ توازن قائم کرنے میں مارکیٹ کا نظام سست رفتار ہوتا ہے جس کے دوران معاشرہ مصائب کا سامنا کرتا ہے جبکہ سرکاری مداخلت اس رفتار کو تیز کر کے فوری توازن قائم کر سکتی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ حکومتیں بجٹ کے بہت زیادہ اخراجات (بجٹ خسارہ ) سے ضرورت سے زائد رسد کو خود خرید کے ان میں توازن قائم کر دیں ۔۔۔ جب معیشت بحران سے نکل جائے گی اور مارکیٹ خودکار نظام سے حرکت کر رہی ہو گی تو حکومتیں اپنے اخراجات میں کمی لا کر اپنے خسارہ کو پورا کر سکیں گی ، یوں حکومتی اخراجات بھی توازن میں رہیں گے اور میکرو معیشت کا عمل بھی کامیابی سے چلتا رہے گا ۔۔۔ اس طرح مارکیٹ کے نظام میں سرکاری مداخلت کو باقاعدہ جواز ملا ، اور مغربی معاشروں میں دو مکاتب فکر کے درمیان مکالمہ و مباحثہ کا آغاز ہوا ، ایک طرف کینز کی تعلیمات جسے مغرب میں لیفٹ کہا جاتا ہے ، اور دوسری طرف فری مارکیٹ اکنامکس جو کینز کے خیالات کو ناپسند کرتی ہے اور مارکیٹ کے عمل کو سرکاری مداخلت سے آزاد دیکھنا چاہتی ہے ۔۔۔. جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا بشمول مغرب و پاکستان میں کینزین معیشت کی پیروی کی جاتی ہے ۔۔۔ جبکہ امریکا میں اس ضمن میں توازن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے …یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان میں جو اکنامکس درس گاہوں میں پڑھائی جاتی ہے وہ بھی "کینزین اکنامکس ” ہے ۔۔۔.
یورپی یونین کے باقاعدہ قیام کے وقت یورپ میں تین طرح کے ممالک تھے، ترقی یافتہ ممالک جیسے جرمنی فرانس اٹلی برطانیہ وغیرہ …کچھ ممالک "متوسط آمدنی کی سطح کے ترقی یافتہ تھے جیسے سویڈن ، سوئزر لینڈ ، اسپین وغیرہ ۔۔۔جبکہ کچھ ممالک ترقی پذیر اور غریب تھے جیسے مشرقی یورپ کے سوویت یونین سے علیحدہ ہونے والے ممالک ۔۔۔. اسی طرح جب یورو زون قائم کیا گیا (جس میں پورے یورپی یونین کے تقریبا نصف ممالک نے رکنیت حاصل کی ہوئی ہے ) تو اس میں بھی اسی قسم کی درجہ بندیاں موجود تھیں ، ایک کرنسی اور سینٹرل بنک کی ایک ہی مانیٹری پالیسی ، مگر مختلف ممالک کی مختلف فسکل پالیسیوں نے غیر فطری اتحاد قائم کر دیا .
یونان جیسے ممالک کو یورو زون میں شمولیت کے بعد ایک عجیب چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ، وہ یہ کہ وہاں کی عوام نے اسی درجہ کی سوشل پالیسیز (پنشنز ، تنخواہیں ، میڈیکل سہولیات ، بے روزگاری الاونس ، مفت تعلیم وغیرہ وغیرہ ) کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا جس درجہ کی ترقی یافتہ ممالک (جیسے جرمنی فرانس) میں پائی جاتی تھیں، ان ترقی یافتہ ممالک میں مارکیٹ بھی ترقی یافتہ تھی جس سے حکومتوں کو ٹیکس کے مد میں اتنا زیادہ ریوینو اکٹھا ہو جاتا تھا کہ وہ اپنی عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کر سکیں جبکہ یہ صورتحال غریب اور کم ترقی یافتہ ممالک میں نہیں تھی کیونکہ وہاں گورنمنٹ کا ریوینو بھی کم تھا اور عوام کی ضروریات و خواہشات بھی ترقی یافتہ ممالک کے درجہ کے برابر تھی ۔۔۔
اس صورتحال میں "کینزین اکنامکس” نے ان کی (اچھی یا بری ) مدد کی … حکومتوں کو جواز مہیا کیا گیا کہ آپ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں ، اس صورت میں آپ مجموعی طور پر مارکیٹ کے لئے زیادہ سے زیادہ طلب پیدا کر رہے ہوں گے ، اس زیادہ سے زیادہ طلب سے مارکیٹ میں زیادہ رسد کی حوصلہ افزائی ہو گی اور یوں مارکیٹ زیادہ سے زیادہ طلب کو پورا کرنے کے لئے زیادہ پیداوار دینے لگے گی ، جس کے نتیجے میں مجموعی طلب اور مجموعی رسد کا زیادہ بہتر توازن قائم ہو جائے گا اور پھر آپ بھی جرمنی فرانس کی طرح امیر کبیر ہو جائیں گے ۔۔۔. اس نظریہ نے یقیناًفری مارکیٹ اکنامکس کے تمام تصورات کو پس پشت ڈال دیا .
اب سوال یہ تھا کہ گورنمنٹ طلب کیسے پیدا کرے گی ، جبکہ اس کے پاس آمدن ہی قلیل ہے … جواب تھا قرض لئے جائیں ، لوگوں کو سوشل سروسز کی مد میں یہ پیسے دیئے جائیں ، وہ بطور صارف ان پیسوں کو خرچ کریں گے اور یوں زیادہ طلب زیادہ رسد کو کھینچ لے گی ، اور زیادہ سپلائی زیادہ پیداوار کے ذریعہ سے ہو گی ، اور ہمیشہ زیادہ پیداوار ہی سے ممالک امیر ہوتے ہیں ۔۔۔. یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ گورنمنٹ قرض وصولی کے عمل میں عموما "رسک فری ” سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ ان کے ڈیفالٹ کا خطرہ انتہائی کم ہوتا ہے ، اور قرض کی واپسی عموما یقینی ہوتی ہے ۔۔۔ اسی ڈیفالٹ فری سٹیٹس کی وجہ سے یورپ کی ترقی پذیر معیشتوں نے قرض لیا اور اپنے عوام پر خرچ کرنا شروع کر دیا ۔۔۔.قرض نسبتا کم شرح سود کا تھا اس لئے حکومتیں بھی خوش تھیں اور پورے مغرب کی مارکیٹ بھی موج کر رہی تھی ۔۔۔. مگر اس وقت بھی فری مارکیٹ اکنامکس کے ماہرین پورے یورپ و امریکا کو خبردار کرتے رہے کہ یہ مصنوئی ڈیمانڈ کا یہ عمل کسی بحران کی صورت میں یورپ کی چند معیشتوں کو دیوالیہ کروا سکتا ہے ، مگر مغرب میں بھی کلاسیکل مکتب فکر کے معاشی ماہرین کو قنوطی اور دیوانہ سمجھا جاتا رہا .
اور پھر امریکا میں 2008ء کا معاشی بحران برپا ہوا ، اس سے دو برے نتائج نکلے …
(الف) قرض دینے والی فنانشل مارکیٹ میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا ، اور قرض دینے والے نجی ملکیت کے ادارے ڈر گئے ، انہوں نے یا تو قرض دینا کم کر دیا یا پھر قرض پر زیادہ شرح سود مقرر کر دیا .
(ب ) معاشی عمل کمزور پڑ گیا ، جس سے حکومتوں کی آمدن (ریونیو) پر منفی اثر پڑا ، جس کے لئے مزید قرض لیا گیا تاکہ لوگوں کو سوشل سروسز مسلسل مہیا کی جاتی رہیں …
کم سرکاری آمدن ، اور زیادہ قرض نے جلد ہی 2012ء میں پہلے آئر لینڈ ، پھر اٹلی ، سپین، یونان ، قبرض وغیرہ کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئی کر دی ، فنانشل مارکیٹ مزید ڈر گئی ، اور بحران یورپ کے درودیوار میں گھس آیا .
اس صورت میں آئی ایم ایف اور یورپین سینٹرل بنک مدد کو آئے ، مانیٹری پالیسی بحران کے حساب سے ترتیب دی گئی ، دیوالیہ ہونے کے خطرہ سے دوچار ممالک کی مدد کی گئی ، اور ان ممالک پر اخراجات کم کرنے کی شرائط لاگو کی گئیں ، ان ممالک پر دیوالیہ ہونے کا خطرہ تو ٹل گیا مگر صرف ایک ملک یونان باقی رہ گیا جس کا قرض ان کی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) کے تقریبا ایک سو ستر فیصد کے برابر پہنچ چکا تھا … گزشتہ گورنمنٹ اخراجات پر کٹوتی کی پالیسی کو سست رفتاری و بے دلی سے جاری رکھے ہوئے تھی (مگر اصلاحات کے عمل کو انہوں نے بھی چھیڑنا گوارا نہ کیا ) کہ وہاں کی جمہوریت نے بائیں بازو کی ایک پارٹی کو منتخب کیا ، جس کا وعدہ تھا کہ یونان کو نہ صرف بحران سے نکالا جائے گا ، بلکہ لوگوں کو حاصل سوشل سروسز میں بھی کمی نہ لائی جائے گی ۔۔۔ موجودہ حکومت بحران سے ملک کو نکال پانے میں نہ صرف ناکام ہوئی ہے بلکہ دیوالیہ ہونے کا خطرہ سر پر تلوار کی طرح مزید شدت سے لٹک رہا ہے ، موجودہ حکومت کا تقاضا ہے کہ اسے قرضوں کے اس سمندر سے نکلنے کے لئے مزید قرض دیئے جائیں ، اور قرض دینے والے ادارے (آئی ایم ایف اور یورپین سینٹرل بنک ) اس پر بجٹ کٹوتی کی شرائط بھی نافظ نہیں کر سکتے ۔۔۔ اب یورو زون کو درج ذیل چیلنجز کا سامنا ہے .
(الف ) ایسی مانیٹری پالیسی بنائی جائے جو ان ممالک کو سپورٹ کرے جو دیوالیہ پن کے خطرہ سے تو نکل چکے ہیں ، مگر موجودہ پالیسی ان کی معیشت میں پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ۔۔۔اب اگر مانیٹری پالیسی ان کے حساب سے ترتیب دی جاتی ہے تو یونان کو مسائل کا سامنا ہو گا ، اور اگر یونان کے حساب سے مانیٹری پالیسی ترتیب دی جاتی ہے تو باقی ممالک اس وقت تک نقصان میں رہیں گے جب تک یونان بحران سے نکل نہیں جاتا ۔
(ب ) مانیٹری پالیسی اور فسکل پالیسی میں ربط نہ ہونے کی وجہ سے ممبر ممالک مارکیٹ کے عمل کو مزید گمراہ کر رہے ہیں ۔
(ج ) اگر یونان دیوالیہ ہو جاتا ہے تو یورپین سینٹرل بنک اور یورو ایریا کا اعتماد بین الاقوامی مارکیٹ سے اٹھ جائے گا ۔۔۔.اور اسی طرح اگر یونان بحران میں رہتا ہے تو یورو ایریا کے تمام ممبر ممالک بھی ایک طرح کے بحران میں رہیں گے جس کا سب سے زیادہ نقصان جرمنی کو ہے جو امریکا اور چین کے بعد تیسرے نمبر کی سب سے بڑی معیشت ہے ۔
(د ) یورپین سنٹرل بنک یہ سمجھتا ہے کہ مزید قرض یونان کو قرضوں کے جال سے نہیں نکال پائے گا … جبکہ یونان کی حکومت یہ سوچتی ہے کہ بجٹ کٹوتیوں سے اس کی عوام بری طرح متاثر ہو گی ۔۔۔
اب یونان کے پاس دو ہی حل ہیں ، ایک یہ کہ وہ یورو زون کے تمام ممالک کے مطالبات کو منظور کر کے یورپین سینٹرل بنک سے مدد لیتے ہوئے آگے بڑھے …جبکہ دوسری صورت میں وہ یورو زون چھوڑ دے ، یاد رہے کہ یوروزوں چھوڑنے کی صورت میں وہ یقیناًیورپی یونین کا ممبر رہے گا ، یورپی یونین کی آزاد مارکیٹ سے بھی فائدہ اٹھاتا رہے گا ، اور اپنی پالیسیز اپنی خودمختاری میں قائم کر کے ترقی کی جانب اپنا سفر آگے بڑھا سکتا ہے ، جیسا کہ یورو زون سے باہر کے یورپی یونین کے ممالک اپنی معاشی خودمختاری سے فیض یاب ہو رہے ہیں ۔ اور میں ذاتی طور پر یونان کے لئے دوسرے راستہ کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں .
اب آتے ہیں اس دانشورانہ مکالمہ کی طرف جو اس وقت معاشی ماہرین کے درمیان جاری ہے ۔۔۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ یونان کی موجودہ حکومت مارکیٹ معیشت اور یونان کے موجودہ "سٹیٹس کو” کی مخالف ہر گز نہیں ، اور نہ ہی وہ اس قسم کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں ، بلکہ اس کے بجائے وہ اپنے مالیاتی اداروں (بنکس ) اور نجی ملکیت کا تحفظ کر رہے ہیں ۔۔۔ مثال کے طور پر یونان میں ٹیکس وصولی کے لئے "ویٹ (ویلیو ایڈڈ ٹیکس )” کا نظام پایا جاتا ہے جس کی چھ تہیں ہیں جو وہاں کی حکومتوں نے مارکیٹ کے شعبوں میں ترجیحات کی بنیاد پر قائم کی تھیں جن میں کچھ سیکٹرز پر کم ٹیکس ہے ، کچھ میں زیادہ ، اور کچھ میں درمیانہ درجے کا ، آئی ایم ایف اور یورپین سینٹرل بنک کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان پر ٹیکس کی ایک ہی شرح نافظ کرے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جائے جبکہ حکومت ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔۔۔.. اسی طرح یونان میں ٹیکس کی شرح مختلف علاقوں کے لئے مختلف ہے ، مثال کے طور پر جزیرہ "مائکونوس” جہاں ٹیکس کی شرح یا تو انتہائی کم ہے یا بعض سیکٹرز کے لئے ہے ہی نہیں ، آئی ایم ایف اور یورپین سنٹرل بنک کا مطالبہ ہے کہ یہاں بھی ٹیکس لگایا جائے کیونکہ یونان کی بعض کمپنیوں نے ٹیکس سے بچنے کے لئے ان جزیروں پر اپنی آمدن منتقل کی ہوئی ہے ۔۔۔جبکہ یونان کی نیم سوشلسٹ حکومت ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔۔۔.مگر اس کے باوجود بھی پاکستان کے بعض کامریڈ خوش ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید یونان میں کمیونزم قائم ہو گیا ہے ۔۔۔ ایسے لوگ اپنی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لئے مصنوعی جزیرے بنانے کے عادی ہیں ۔
اس وقت یونان کے موضوع پر ایک طرف کینزین معیشت دان ہیں جو اس نظریہ پر اب بھی قائم ہیں کہ بجٹ کٹوتیوں سے مجموعی طلب کم ہو جائے گی جس سے معیشت مزید نقصان میں چلی جائے گی ، اسی لئے گورنمنٹ مزید قرض لے کر اس ڈیمانڈ کو مزید بڑھاوا دیتی رہے تا وقت یہ کہ زیادہ سپلائی پیدا ہونے سے معیشت امیر ہو جائے ۔۔۔یہ میری دانست میں احمقانہ نقطہ نظر ہے جس نے یورو زون کی معیشت کو پہلے بھی نقصان پہنچایا اور اب بھی نقصان پہنچائے گی ۔۔۔یونان پہلے ہی اپنی استطاعت سے زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے مزید قرض اسے معاشی طور پر تباہ کر دیں گے .
دوسری طرف فری مارکیٹ معیشت دان یونان کے لئے یہ تجویز کر رہے ہیں کہ وہ یوروزوں سے علیحدہ ہو کر معاشی امور میں اپنی خودمختاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹ اصلاحات (ریفارم) کرتے ہوئے اپنی مارکیٹ کو واقعتا مضبوط کرے نہ کہ مصنوعی طور پر ڈیمانڈ بڑھا کر مارکیٹ میں خودساختہ بہتری پیدا کی جائے جس میں ڈیمانڈ اور سپلائی فطری اور آزاد بنیادوں پر ایک دوسرے کو متوازن رکھتے ہوئے معیشت کو آگے بڑھائیں ۔۔۔. کیونکہ یہی فری مارکیٹ کی روح ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے